جن دنوں غزہ جنگ جاری تھی اور میں نے ایلان پاپے کے کچھ مضامین ترجمہ کیے تھے ان دنوں جیمز پیٹراس کے بارے میں بھی علم ہوا تھا کہ اس نے امریکا میں اسرائیل کے اثر و نفوذ پر کتاب لکھی ہے جس کا بہت درد محسوس کیا گیا ہے۔ آج پیٹراس کا ذکر کرنے کا موقع یوں نکلا کہ نیٹ سرفنگ کرتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس سال 17 جنوری کو 89 برس کی عمر میں وفات پا چکے ہیں۔
جیمز پیٹراس کے کام میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کے مطابق کالونیل ازم اب بھی جاری ہے اور اب اس کی شکل ملکوں پر قبضے کے بجائے مالیاتی قبضے کی ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے تو اس ملفوف کالونیل ازم کا نقاب بھی اتار دیا ہے۔
اردو میں پوسٹ کالونیل ازم مطالعات سے دلچسپی اب پیدا ہو رہی ہے مگر کالونیل ازم بھی تو اب تک موجود ہے اور فائنانشل کالونیل ازم کی شکل میں استعمار کا جو شکنجہ گلوبل جنوب پر موجود ہے اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
میری بنیادی دلچسپی ادبیات سے ہے اور اسی کے لیے میرے پاس وقت کم پڑ جاتا ہے۔ مگر ملک میں سیاسی بحوث میں دلچسپی رکھنے والوں کو دنیا کی خبر رکھنی چاہیے کہ جدید عالمی معاملات پر نئے مفکرین کیا سوچ رہے ہیں۔ ملکی حکم رانوں کا تو خیر کسی قسم کے مطالعے سے واسطہ ہی نہیں۔