Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » مولانا ظفر علی خان اور فارسی

مولانا ظفر علی خان اور فارسی

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 8, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
167

فارسی ہماری ادبی اور تہذیبی روایت کا ایک حسین وجمیل مظہر ہے ۔اردوکے بڑے شعرا فارسی روایت ہی سے مستفیض ہوئے ہیں بلکہ اردوشعری روایت کے سربرآوردہ ترین نمائندے اردوکے ساتھ فارسی کے بھی شاعر رہے ہیں ۔غالب جیسا مسلم الثبوت شاعر خود کو فارسی کا شاعر کہلواناچاہتاہے اور برملااس بات کااظہارکرتاہے کہ اس کے فن کا حقیقی رنگ فارسی ہی میں پوشیدہ ہے، اس کا اردوکلام تو محض بے رنگ ہے۔اسی طرح خدائے سخن میرتقی میر فارسی کے صاحب دیوان شاعر ہیں ،درد ،سودا،میرسوز اس دورکے سب بڑے شعرا بہ یک وقت اردواور فارسی میں شعرکہتے تھے۔اقبال تک پہنچتے پہنچتے تو یہ روایت اپنے عروج کو پہنچ گئی جب اقبال نے اپنے اظہارکے لیے فارسی کوچنا اورکہاکہ اگرچہ میرادل حریم حجازسے الہام کشیدکرتاہے لیکن میری نوا شیرازسے جنم لیتی ہے یعنی میں اپنے اظہارکے لیے فارسی کو پسند کرتاہوں یہی وجہ ہے کہ ان کا دوتہائی کلام فارسی میں ہے ۔

مولاناظفرعلی خان ہماری قومی تاریخ کے نام ور راہنمائوں میں سے ہیں۔ وہ بہ یک وقت ایک نام ور قومی راہ نما،شاعر، صحافی اور دانشور تھے ۔ان کی منظومات بہارستان ،نگارستان، چمنستان ،خیالستان اور ارمغان قادیان نامی مجموعوں کی شکل میں محفوظ ہیں۔یہ مجموعے جہاں ہماری قومی جدوجہدکی منظوم تاریخ ہیں وہیں ہماری ملی اور ادبی روایت کے بھی ناقابل فراموش نقوش پیش کرتے ہیں ۔مولاناکی شاعری کا جہاں لسانی اور ادبی حوالہ اہم ہے وہیں اس کاسیاسی اور معاشرتی پس منظر بھی نہایت اہم ہے ۔وہ اردوکی ادبی روایت سے مضبوطی کے ساتھ منسلک ہیں اور یہ معلوم ہی ہے کہ اردوکی روایت کی تشکیل فارسی اور عربی کے سرچشموں کی مددسے ہوئی ہے ۔مولاناکے ہاں فارسی کلاسیکی ادبیات کے اثرات ایک بڑے تحقیقی مقالے کا موضوع ہے یہی نہیں ان کابہت سا کلام براہ راست فارسی میں بھی ہے ،جس کاسب سے بڑامظہر ان کا ضخیم ترین مجموعہ کلام ’’بہارستان‘‘ ہے جس کی متعدد نظمیں فارسی میں ہیں ،بہت سی نظموں میں فارسی اساتذہ کے اشعار کی تضمین کی گئی ہے بعض مقامات پر فارسی اساتذہ کے طویل اقتباسات اپنی نظموں میں شامل کیے گئے ہیں ۔بعض اوقات اردونظموں کوفارسی عنوانات سے مزین کیاہے مثلاایک اردونظم کاعنوان ہے ’’توبہ فرمایان چراخود توبہ کمترمی کنند‘‘اوراس کے آخر میں سعدی کا شعرتضمین کرتے ہوئے سعدی کو چچاکے لقب سے ملقب کیاہے اورسعدی کے لیے انھوںنے یہ لقب کچھ اور منظومات میں بھی استعمال کیاہے:

کہ گئے خوب ہی چچاسعدی

ترک دنیابہ مسلم آموزند

خویشتن سیم وغلہ اندوزند

بعض اساتذہ کی نظموں کا اردو ترجمہ بھی کیاہے۔ترجمہ انگریزی سے اردومیں ہویا فارسی سے اردومیں ،اس فن میں مولاناکی مہارت غیرمعمولی ہے اوران کے ہاں اس فن میں کمال کااظہاربہت ابتداسے دکھائی دیتاہے جیساکہ ان کے مجموعہ کلام میں ۱۸۹۹ء میں کیاگیا حکیم ناصرخسرو علوی خراسانی کی ایک نظم کااردوترجمہ بھی موجود ہے جسے انھوںنے’’ شہرآشوب‘‘ کانام دیاہے ۔فارسی سے لگائو کا یہ عالم ہے کہ وہ انگریزی سے اردوترجمہ کرتے ہوئے بھی فارسی ترجمے کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جیساکہ انگریزی کے مہم جو افسانہ نگار Sir Henry Rider Haggardکی کتاب The People of the Mist کااردوترجمہ کرتے ہوئے وہ اس کے دیباچے کا ترجمہ فارسی نظم میں کرڈالتے ہیں ۔یہ کتاب کتابی صورت میں پہلی بار لندن سے اکتوبر۱۸۹۴ء میں شائع ہوئی تھی اورمولانانے جون ۱۹۰۰ء میں’’ سیرظلمات‘‘ کے نام سے اس کا اردوترجمہ کرڈالاتھا۔دیباچے کے اس ترجمے کو انھوںنے’’ صدنقش بیک پردہ ‘‘کاعنوان دیاہے اور اس میں کہاہے کہ

خواستم گفتن ازاعجاز نگارش سری

منکہ صدنقش بہ یک پردہ ہویداکردم

بعض اوقات وہ اردوکی کسی نظم کااختتام فارسی کے کسی شعرپر کرتے ہیں اور اس حسن ختام کے لیے ایسے شعرکاانتخاب کرتے ہیں کہ ساری نظم کا جوہر کشیدہوکر اس میں آجاتاہے۔ مثال کے طورپر انھوںنے معاہدہ سیورے پر جو نظم لکھی اس کااختتام غالب کے اس مطلعے پر کیا ؎

بیاکہ قاعدہ آسمان بگردانیم

قضابگردش رطل گران بگردانیم

فارسی سے مولاناکی محبت کااظہار جہاں فارسی میں شعرکہنے ،تضمین کرنے ،فارسی الفاظ وتراکیب استعمال کرنے اور فارسی میںترجمہ کرنے سے ہواہے، وہاں انھوںنے براہ راست فارسی کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہارکیاہے ۔ان کاکہناہے کہ لطافت خیال اور نزاکت اظہار کے جیسے اسالیب فارسی میں موجودہیں وہ دوسری زبانوں میں نہیں ہیں۔ جب سے ہمارے ہاں فارسی سے تعلق کمزورہواہے ہماری معاشرت میںنزاکت ولطافت کے معیار وں میں بھی کمی آئی ہے۔مولاناکاکہناہے کہ فارسی ادبیات سے تعلق میں کمی ہوجانے سے لہجے میں درشتگی اور زبان میں کرختگی آتی ہے ۔فارسی زبان، اسلوب کی لطافت ہی نہیں، بیان کی تہ داری اور پردہ داری کی بھی امین ہے ۔وہ مطالب جو دوسری زبانوں میں طول طویل بیان کے محتاج ہوتے ہیں فارسی کی تشبیہات اور علائم ورموزکے ذریعے نہایت کم الفاظ میں اداہوجاتے ہیں اور یوں فارسی برہنہ حرف نہ گفتن کمال گویائی کی منزل پر بہ آسانی پہنچادیتی ہے ۔علامہ اقبال سے جب فارسی میں لکھنے کی وجہ دریافت کی گئی تھی توانھوںنے کہاتھا کہ یہ خیالات مجھ پر فارسی ہی میں وارد ہوتے ہیں ۔دیکھیے فارسی کے بارے میں مولاناظفرعلی خان کیارائے رکھتے ہیں ۔ذیل میں فارسی کے بارے میں مولاناکے نایاب اشعار پیش کیے جارہے ہیں۔یہ اشعارانھوں نے ۲۹؍اگست ۱۹۱۷ء کو کہے جو ان کی ایک نہایت دلچسپ نظم کا حصہ قرارپائے۔ یہ نظم انھوں نے ’’چو‘‘کی لفظی تحقیق کے لیے سپرد قلم کی تھی :

لہجہ ہوا درشت زباں ہوگئی کرخت

لطف کلام و شستگی گفتگو گئی

معنی کوہے گلہ کہ ہوا بے نقاب میں

شکوہ ہے لفظ کو کہ مری آبرو گئی

افسوس ملک میں نہ رہی فارسی کی قدر

مستی اڑی شراب سے پھولوں سے بوگئ

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا)
  • تخلیقی فرصت
  • اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول شائع ہو گیا
  • گزرتے برس کی ایک اہم کتاب
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
تخلیقی فرصت
اگلی تحریر
بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

معروف مصنف عرفان جاوید کی سال 2025 کی پسندیدہ کتابیں

دسمبر 9, 2025

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025

جو ستارا تمہیں افلاک نشیں لگتا ہے

دسمبر 31, 2025

جمالِ زیست

دسمبر 20, 2025

عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

جنوری 12, 2026

ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع تعارف اور چند نظموں...

دسمبر 23, 2025

خورشیدِ غالب (غالب ڈے کی مناسبت سے)

دسمبر 26, 2025

دمشق 680ء

جنوری 5, 2026

کیمیا گروں کا کیمیا گر

دسمبر 9, 2025

بےمثل عربی دان محمد کاظم اور ایک کتاب

دسمبر 18, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 239 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 181 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

ایک تبصرہ

دسمبر 8, 2025

اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول...

دسمبر 10, 2025

ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع...

دسمبر 23, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here