میرا ایک دوست مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگا کہ "جب آپ ہمیں قدیم شاعری پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں تو یہ ہم پر بہت شاق گزرتا ہے۔ جب آپ قدیم شاعری سے روگردانی کرنے اور اس کو پڑھنے، یاد کرنے اور اس کے ذوق کی فراہمی میں کوتاہی برتنے پر ملامت کرتے ہیں تو گویا آپ وقت کا انکار کر رہے ہوتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم اب بھی ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے کے دور میں ہیں یا پہلی صدی ہجری میں زندہ ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو اُس زمانے کے لوگ کیا کرتے تھے؟ کیا ہمارا اور ان کا احساس ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ کیا ہمارے اور ان کے جذبات میں کوئی فرق نہیں؟ کیا ہم ان کی باتیں سمجھ کر ان سے وہی ذوق حاصل کر سکتے ہیں جو وہ خود حاصل کیا کرتے تھے؟ حالانکہ آپ تاریخ بھی پڑھتے پڑھاتے ہیں، تو ادب کی تدریس کیسے درست ہو سکتی ہے جب اس کو تاریخ سے منسلک نہ کیا جائے؟
آپ کو معلوم ہے کہ ہماری زندگی قدیم لوگوں کی زندگی سے مختلف ہے۔ ہمارے رسم و رواج ان سے جدا ہیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان تعلق ختم ہو چکا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے۔ خاص طور پر جب سے جدید دور کا آغاز ہوا ہے، جدید تہذیب کی آمد ہوئی ہے اور اس نے لوگوں کی زندگی اور انداز فکر پر اثرات مرتب کیے ہیں تو اس سے ہمارے اور قدیم دور کے انسان میں یکسر جدائی پیدا ہو چکی ہے۔ ہماری طبیعت، مزاج اور ذوق بدل چکا ہے۔ اب ہمارے اور مغربی جدیدیت کے درمیان تعلق زیادہ ہے، بہ نسبت اس تعلق کے جو ہمارے نجد و حجاز کے آباء و اجداد اور ہمارے مابین تھا۔ اب ہم انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں سیکھتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ماہر بھی بن جاتے ہیں۔ ان مغربی زبانوں کے شعراء کا کلام بھی ہمیں میسر ہے جسے تھوڑا بہت پڑھ کر ہم اسے سمجھ سکتے ہیں، اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں، اس سے لذت اور تفریح حاصل کر سکتے ہیں اور اس سے دل و دماغ کی غذا کا سامان پیدا کر سکتے ہیں۔
اب ہمیں مکانی فاصلے، طبیعت، ذوق اور مزاج کے فرق کے باوجود مغربی شعراء سے وہ اجنبیت محسوس نہیں ہوتی جو قدیم عرب شعراء کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا طرز زندگی مغربی شعراء سے زیادہ قریب ہے۔ اور آج کے دور میں ہم بھی علم و فن اور ادب کو انہی سر چشموں سے حاصل کر رہے ہیں جن سے مغربی شعراء حاصل کرتے ہیں۔ سو ہمارے اور ان کے مابین یہ معاملات ہمیں ان سے اور ان کے ادب سے قریب کرتے ہیں اور باہمی تعلقات کو سہل بناتے ہیں جن میں کوئی خاص کوشش یا مشقت نہ اٹھانی پڑے۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جا رہا ہے، ہمارے اور آپ کے قدیم شعراء کے مابین دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ طرز زندگی کا ارتقاء ہمارے مزاج تبدیل کرتا جا رہا ہے اور ہمیں مغرب کی طرف لے جا رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ درست ہے تو آپ یہ مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں کہ ہم قدیم شاعری میں وہی لذت اور ذوق محسوس کریں جس کی ہمیں طلب ہے۔ جس چیز کی ہمیں طلب ہی نہیں آپ اس کی طلب پیدا کرنے کی ذمہ داری ہم پر کیسے ڈال سکتے ہیں جبکہ اس ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کی کوئی سبیل بھی نہ ہو۔ آپ ہمیں وہ سبق پڑھنے پر کیونکر مجبور کریں گے جس میں کوئی نفع نہ ہو؟ کیا ہم ایسے الفاظ کا رٹہ لگاتے رہیں جو ہماری زبان پر جاری ہی نہ سکتے ہوں، جن کو ہماری سماعتیں گوارا نہ کر سکیں۔ ایسا سبق تو کسی بھی طور ہماری روح تک نہیں پہنچ سکتا۔
حقیقت میں آپ اپنا اور ہمارا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ خود کو اور ہمیں ایسی ذمہ داری اور مشقت میں ڈال رہے ہیں جو بےسود ہے۔ اگر آپ وقت کی قدر کرتے اور انسانی جدوجہد کی قدر و قیمت پہچان پاتے تو قدیم شاعری کو اسی مقام پر رکھتے جہاں زندگی اس کو رکھنا چاہتی ہے۔ یعنی اس کے پڑھنے، سمجھنے اور تشریح کرنے کو انہی معدودے چند محققین تک محدود رکھتے جن کے پاس اپنے ذوق کی آبیاری کے لیے بہت وقت ہوتا ہے اس لیے وہ علم کی ان اقسام کے لیے جد و جہد بھی کر سکتے ہیں اور خصوصی ذوق بھی حاصل کر سکتے ہیں جس کو وہ خدمتِ علم اور احیائے تاریخ کا نام بھی دے دیتے ہیں۔
ہاں البتہ کسی شخص کے لیے یہ بھی مناسب نہیں کہ وہ قدیم شاعری کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے کسی کو ملامت کرے، جب تک ایسے لوگ موجود ہیں جو پرانے ڈاک ٹکٹ اور اس طرح کی دیگر فالتو اشیاء کے جمع کرنے پر وقت ، پیسہ اور محنت صرف کرتے رہتے ہیں۔ یقینا دولتمند، عیش پرست اور فارغ لوگ ان چیزوں پر مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں۔
لیکن آپ نوجوان نسل پر مہربانی کریں ، ان پر ایسی عیاشی کا بوجھ اٹھانا فرض نہ کریں۔ ان کو آپ اپنی ذاتی پسند کا پابند نہ بنائیں ۔ کیونکہ کسی بھی شعبے کے تخصص میں مستغرق ہونے کے لیے عام ڈگر سے ہٹ کر چلنا پڑتا ہے، جبکہ یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ سارے لوگ ہی عام ڈگر سے ہٹ کر چلنے لگیں۔
آپ اپنی جاہلی شاعری بلکہ قدیم شاعری طلبہ اور شاگردوں پر زبردستی نہ تھوپیں کیونکہ نہ اس شاعری کو ان سے کوئی نسبت ہے ، نہ وہ اس شاعری کا کوئی ادراک رکھتے ہیں۔ آپ ان کو وہی کچھ پڑھائیں جس کی ان میں استطاعت ہے۔ جو چیز ان کے بس سے باہر ہے وہ انہیں یاد کروا کر ان کی عقل اور ذوق کو برباد نہ کریں”
میرا دوست بڑے پُر یقین لہجے میں تیز تیز بولتا جا رہا تھا۔ اس میں ایسا جوش در آیا تھا جو شدت آمیزی کو پہنچ رہا ہو، صرف اس کی سوچ کی حد تک نہیں بلکہ یہ اس کے جسم پر بھی حاوی ہو رہا تھا۔ اس کا جسم حرکت اور اضطراب کی حالت میں تھا۔ کبھی اٹھتا، کبھی بیٹھتا۔ کبھی دائیں جاتا کبھی بائیں۔ اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کو ادھر ادھر پرتشدد انداز میں ہلا رہا تھا گویا وہ ایک مقرر ہو جو عوام پر چھا جانا چاہتا ہو۔