ڈیجیٹل دور میں خبر کی رفتار روشنی سے بھی تیز محسوس ہوتی ہے۔ ایک ٹویٹ، ایک پوسٹ یا ایک بریکنگ لائن چند منٹوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر اسی رفتار کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا ہر وائرل خبر سچ ہوتی ہے؟ پچھلی رات آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں نے اسی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ اطلاعات آئیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے۔ خبر چونکا دینے والی تھی، جذبات بھڑکانے والی تھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتہائی حساس نوعیت کی تھی۔
کل رات سے میں چند سوشل میڈیا صارفین کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ عجیب بے چینی تھی۔ جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو اور ان کے زیرِ اثر میڈیا کی طرف سے خامنہ ای کی موت کی خبریں چلنے لگیں، بہت سے اکاؤنٹس نے فوراً وہی مواد کاپی پیسٹ کرنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگ ایران کی جانب سے آنے والی تردیدی خبروں کو شیئر کر رہے تھے، جبکہ کچھ بغیر کسی تصدیق کے ایک ہی بیانیہ آگے بڑھا رہے تھے۔
میں خود مسلسل نوٹ کر رہا تھا اور دل سے یہی خواہش تھی کہ کاش یہ خبر جھوٹی نکلے اور خامنہ ای زندہ ہوں۔ لیکن ہر خواہش کہاں پوری ہوتی ہے۔ بچپن سے ایک جملہ سنتے آئے ہیں کہ “موت اور شادی کی خبر جھوٹی نہیں ہو سکتی”۔ مگر آج کے سوشل میڈیا کے زمانے میں یہ مقولہ بھی کمزور پڑ چکا ہے۔ ویوز، ریچ اور ڈالرز کی دوڑ میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن نے سچ اور جھوٹ کی سرحدیں دھندلا دی ہیں۔ اب تو کئی مرتبہ موت کی خبریں بھی بعد میں غلط ثابت ہو جاتی ہیں۔
اسی دوران خامنہ ای کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک للکار والی پوسٹ سامنے آئی، جس نے مزید ابہام پیدا کیا۔ کچھ صارفین نے تو ان کی ایک پرانی ویڈیو بھی دوبارہ چلا دی اور دعویٰ کیا کہ یہ تازہ پیغام ہے۔ بطور میڈیا طالبعلم میں نے اس ویڈیو کو دیکھا تو اندازہ ہو گیا کہ یہ موجودہ حالات کی نہیں ہو سکتی۔ مگر افسوس یہ ہے کہ عام صارف کے پاس نہ وقت ہوتا ہے اور نہ مہارت کہ وہ ویڈیو کی تاریخ، پس منظر اور سیاق و سباق کو پرکھ سکے۔
ایران میں اسرائیل کے ہاتھوں یہ کسی پہلے لیڈر کا قتل نہیں بتایا جا رہا، بلکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ جس سے ایک اور پہلو توجہ کھینچتی ہے کہ ایران کے اندرونی نظام میں ممکنہ جاسوسی کی باتیں۔ دعوے کیے گئے کہ خامنہ ای کی لاش تک کی تصاویر حریفوں تک پہنچائی گئیں۔ اس پر کسی نے لکھا:
“جاسوسی اتنی گہری تھی کہ میت کی تصاویر تک آگے پہنچائی گئی۔”
سوشل میڈیا کا ایک اور افسوسناک پہلو بھی سامنے آیا۔ کچھ لوگ اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیے، اور کچھ نے فخر سے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ مر گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اطلاع دینا مقصد تھا یا سبقت لے جانا؟ اگر واقعی تصدیق موجود تھی تو سورس کیا تھا؟ کیا وہ براہِ راست تھا یا صرف کسی اور پوسٹ کا اسکرین شاٹ؟
دلچسپ بات یہ بھی رہی کہ Reuters نے پہلے موت کی تصدیق کی خبر دی، مگر چند منٹ بعد اعلان کیا کہ خامنہ ای خطاب کریں گے۔ ایسے تضادات نے مزید الجھن پیدا کی اور واضح کیا کہ ابتدائی رپورٹس ہمیشہ حتمی نہیں ہوتیں۔
مختصر یہ کہ جو کچھ ہوا، وہ ہم میں سے بہت سے لوگ نہ چاہتے تھے اور نہ برداشت کر سکتے تھے۔ مگر اس سارے منظرنامے نے ایک اہم سبق ضرور دیا: سوشل میڈیا طاقت ہے، مگر ذمہ داری کے بغیر یہ طاقت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ لوگوں کے جذبات، عقائد اور حساس معاملات کے ساتھ کھیلنا کسی صورت درست نہیں۔
رزق کا وعدہ رازق نے کیا ہے۔ چند ویوز یا وقتی شہرت کے لیے غیر مصدقہ خبر چلانا نہ صحافت ہے اور نہ خدمت۔ گزارش بس اتنی ہے کہ جس خبر کی مکمل تصدیق نہ ہو، اسے وقت سے پہلے نشر نہ کریں۔ سادہ اصول اپنائیں: پہلے تحقیق، پھر اشاعت۔ یہی ذمہ دارانہ رویہ ہے، اور یہی وقت کی ضرورت۔