85
کسی کو بندشوں میں باندھنا بھی کیا محبت ہے
محبت تو پرندوں کی کسی پرواز
جیسی ہے
پرندے جس کے ہوتے ہیں
اسی کے ساتھ رہتے ہیں
فضا میں ساتھ اڑتے ہیں
مگر آزاد رہتے ہیں
چراغوں نے کہاں محدود کی ہے
روشنی اپنی
کبھی پھولوں نے بھی
خوشبو پہ اپنی بند باندھے ہیں
حصار ذات سے باہر
نکلنا بھی محبت ہے
زیاں اور سود کے سارے
حسابوں سے نکل جانا
جمال زیست کی آواز پہ
لبیک کہہ اٹھنا محبت ہے