انتظار حسین، عبداللہ حسین اور تارڑ صاحب کو پڑھتے ہوئے ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کا تعلق شہر لاہور سے ہے ۔ ۔ ۔ جب ہمیں محمد حمید شاہد اور عرفان جاوید کی تحریروں نے گرویدہ بنایا، تب ہمیں خبر ہی نہیں تھی کہ وہ کس شہر میں آباد ہیں۔
مجھے اندازہ نہیں کہ ذوقی، خالد جاوید، رحمان عباس ہندوستان کے کن شہروں کے باسی ہیں۔ اور اندازہ ہو بھی جائے، تب بھی اس سے کوئی غرض نہیں۔
آغا گل، شاہ محمد مری، عابد میر، محمد وسیم شاہد کا بلوچستان سے ناتا طے شدہ، مگر یہ تعلق انھیں پڑھتے ہوئے ہماری سوچ پر غالب نہیں آتا۔
مجھے خبر نہیں کہ اظہر حسین، آدم شیر، ظفر عمران کن شہروں میں بیٹھ کر کتابیں لکھتے ہیں۔
زیب اذکار صاحب، رفاقت حیات، سید کاشف رضا، رفیع اللہ میاں جانے کن اجنبی بستیوں کے باسی ہوں، جانے کن مکانات میں بیٹھ کر ادب تخلیق کرتے ہوں۔
ہم قرۃ العین حیدر، عصمت، واجدہ تبسم، ہاجرہ مسرور، بانو قدسیہ، خالدہ حسین کے فکشن میں ان کے شہروں کا تذکرہ ضرور سنتے ہیں، مگر ان کے ادب کو کسی شہر تک محدود نہیں کرتے۔
کن شہروں میں رہتے ہوئے آمنہ مفتی اور نیلم احمد بشیر نے اپنا فکشن لکھا، مجھے اس کی خبر نہیں۔
مجھے خبر نہیں کہ عسکری صاحب، شاہد حمید، ڈاکٹر عمر میمن، سعید نقوی، شوکت نیازی کے بے مثال ترجمے کس شہروں میں رونما ہوئے۔
ہر کہانی کار، شاعر، مترجم، مضمون نگار؛ چاہے اپنے شہر کی کہانی لکھے، اپنی بستی کو بیان کر، مگر اس کا حوالہ شہروں اور بستوں سے آزاد ہوتا ہے۔
وہ اردو میں، یا جس زبان میں لکھتا ہے، اس زبان کے تمام شہروں اور بستوں کا ادیب بن جاتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہوتا، تو رسول حمزہ توف صرف داغستان تک محدود رہتا۔
یہ کراچی کا ادیب ہے، وہ لاہور کا فکشن نگار ہے، فلاں کوئٹہ کا شاعر ہے، فلاں اسلام آباد کا نقاد ہے، یہ ایک غیر ضروری جھنجھٹ ہے، اس سے لاتعلقی ہی بہتر ہے۔