ھدیہ منقبت بحضور
عم رسول ،حضرت سیدناابوالفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
مجھ پہ رحمت ہے یہ ربُ النّاس کی
شان لب پہ ہے مرے عباس کی
جس کو یا عمّی! کہا سرکار نے
جس پہ ہر لحظہ توجہ خاص کی
جس نے کھولا بابِ تفسیرِ کتاب
ہے مہک وہ بھی ترے انفاس کی
حبر امت کا لقب جس کو ملا
ہو بہو تصویر ہے عباس کی
ہے نمایاں تر جہان علم میں
ذات پسرِ حضرت عباس کی
ہم نفَس، ہم ذوق و ہم زلفِ رسول
تہنیت ہو ان سبھی أعراس کی
تو وسیلہ ہے سبھی اصحاب کا
لو درخشان تر ترے نبراس کی
لب پہ ہے عم نبی کا تذکرہ
ہے فضا روشن مرے احساس کی
میں ہوں شامل حلقۂ بوالفضل میں
پھر ضرورت کیا مجھے بن باس کی
ہے چچا بھی باپ کا قائم مقام
سن حدیث پاک خیرالنَّاس کی
فخر دیں اے معدن حلم و حکم
ہے انوکھى چھب ترے الماس کی
اے ابوالحکمت بھلا تیرے حضور
حیثیت کیا ہے مرے وسواس کی
عرض ہے شہزؔاد کی، پیشِ حضور
لاج رکھ لیجے گا اپنے داس کی