واشنگٹن پوسٹ میں میگن میک آرڈل کا ایک کالم شائع ہوا تھا جس کا عنوان ہے:
If you haven’t been worrying about AI, it’s time to start preparing
یعنی اگر آپ ابھی تک مصنوعی ذہانت سے پریشان نہیں تھے تو اب [پریشان ہونے کی] تیاری کرلیں۔
انھوں نے کالم کا آغاز اس سوال سے کیا ہے کہ آپ اے آئی کے لیے کس قدر تیار ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگوں سے یہ پوچھتی ہیں تو لوگ خالی خالی نگاہوں سے گھورتے ہیں یا کندھے اچکا دیتے ہیں۔ یعنی یا تو لوگوں کو اندازہ نہیں ہے، یا پرواہ نہیں ہے۔ چند سال بعد سب کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔
میگن نے بعض لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کا خیال ہے کہ اے آئی ان کے شعبے کو متاثر نہیں کرے گی۔ ان لوگوں نے کچھ عرصے پہلے اے آئی کو جانچا اور اب اسے اہم نہیں سمجھتے۔ وہ یہ غلطی کررہے ہیں کہ اے آئی کو ایک جگہ رکا ہوا سمجھ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کبھی ایک جگہ نہیں رکتی۔ میگن کا کہنا ہے کہ اے آئی اس مقام پر ہے کہ اگر یہاں رک جائے تو بھی تباہی مچانے والی ہے۔ لیکن رکنا اس نے کہیں بھی نہیں ہے۔
میگن نے مشورہ دیا ہے کہ آپ اے آئی کی رفتار کو دیکھیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ آپ ایسا کیا کرسکتے ہیں کہ اس سے خود کو بچاسکیں۔
میگن صحافی ہیں اور انھوں نے صحافیوں کو اے آئی سے لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے۔ لیکن میں ایک رائٹر کے طور پر بات کرسکتا ہوں۔
اے آئی کہانیاں لکھ سکتی ہے، مضامین تحریر کرسکتی ہے، نظمیں کہہ سکتی ہیں لیکن آپ بیتی نہیں لکھ سکتی۔ اس کے پاس انسانوں جیسی یادداشت نہیں ہوتی۔ وہ کسی بھی صورتحال کو فکشنائز کرسکتی ہے لیکن انسان کی طرح بچپن کا حال، نوجوانی کے تجربات، بزرگی کی کیفیات نہیں بیان کرسکتی۔
جہاں تک تعلیم کی صورتحال ہے، میں اے آئی سے لیسن بنارہا ہوں، گریڈنگ کررہا ہوں، فیڈبیک تیار کرتا ہوں۔ ڈگری اور سرٹیفکیشن کے بعد بھی خود کو اپ ڈیٹ رکھتا ہوں۔ مستقبل میں اے آئی ٹیچنگ کو جس قدر متاثر کرسکتی ہے، اس کے لیے تیار ہوں۔
کیا آپ اپنے شعبے میں اے آئی کا مقابلہ کرنے لیے تیار ہیں؟