Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » امریکہ میں ممدانی اور قرآن

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

کالم: سنان انطون* - ترجمہ: احمد تراث

کی طرف سے Ranaayi جنوری 4, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 4, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
26

"دشمن گھر میں داخل ہو چکا” یہ الفاظ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر امریکی ریاست الاباما کے سینیٹر ٹومی نیوبرفل نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی کے انتخاب پر لکھے۔ اسی طرح امریکہ میں دائیں بازو کی ایک ممتاز شخصیت لورا لومر نے لکھا کہ "بہت ناگوار بات ہے کہ ہمارے ملک پر قبضہ ہو چکا ہے” ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فوبیا دائیں بازو کے امریکی حلقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہالینڈ کے نسل پرست گیرٹ وائلڈرز نے ٹویٹ کیا کہ "ممدانی کا حلف ہی باطل ہے، حلف قرآن پر لیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ امریکہ فی الحال اسلامی ملک نہیں ہے۔”

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ممدانی نے بدھ کی رات قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا۔ لیکن ان لوگوں کا غصہ غالباً اس وقت مزید شدت اختیار کرے گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ تقریب میں ایک سے زیادہ قرآنی نسخے موجود تھے۔ پہلا نسخہ تو ممدانی کے دادا کا تھا۔ دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کا ایک چھوٹا یعنی ہاتھ کے سائز کا قرآنی نسخہ تھا۔ یہ نسخہ سیاہ فام کلچر پر کام کرنے والے شومبرگ سینٹر کی کلیکشن کا حصہ ہے۔ آرتھر الفانسو شومبرگ (1874–1938) پورٹو ریکو نسل کے مورخ اور مصنف تھے جنہوں نے سیاہ فام اور مسلم نیویارک کی تاریخ کو محفوظ کرنے پر کام کیا تھا۔ یہ دوسرا قرآنی نسخہ کاغذ اور بائنڈنگ کے ماہرین کے مطابق 18ویں صدی کے آخر یا 19ویں صدی کے اوائل کا ہے۔ امریکی لائبریریوں میں محفوظ کئی پرانے نسخوں کے برعکس، یہ منقش اور مُذہّب نسخہ نہیں ہے۔ اس نسخے کا انتخاب کرنے میں بھی ایک علامتی اظہار ہے اس لیے ممدانی اور ان کی ٹیم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ نسخہ منتخب کیا ہے۔ کیونکہ یہ نسخہ بھی نئے میئر ممدانی کی طرح مہاجر ہے لیکن کئی دہائیوں سے نیویارک میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ ممدانی پہلے امریکی سیاست دان نہیں ہیں جنہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب کے لیے قرآن پاک کا انتخاب کیا۔ بلکہ 2006 میں، ‘کیتھ ایلیسن’ مینیسوٹا سے کانگریس کے لیے منتخب ہوئے اور کانگریس کے پہلے مسلمان رکن بنے تو انہوں نے 2007 کے اوائل میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور قرآن پاک کا ایک تاریخی نسخہ منتخب کیا جس کا تعلق تھامس جیفرسن (1743-1826) سے تھا، جو بابائے قوم کہلانے والوں میں سے ایک تھا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کا تیسرا صدر تھا۔ ایلیسن کو ترقی پسند رجحانات کی وجہ سے اپنے دیگر ہم منصب ڈیموکریٹک ممبران کی طرح بائیں بازو کی طرف مائل سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت ان کی طرف سے قرآن پاک کے انتخاب پر بھی بہت سے لوگوں نے تنقید کی تھی۔ ان کو قدامت پسند حلقوں اور دائیں بازو کی طرف سے اسلاموفوبیا اور نسل پرستی پر مبنی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پھر وہ دوبارہ بھی منتخب ہوئے اور 2019 تک کانگریس کے رکن رہے۔ اس کے بعد مینیسوٹا کے اٹارنی جنرل بن گئے۔ اسی طرح 2016 میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو عطیات دینے والے صیہونیوں میں سے ایک ممتاز نام حائم سابان نے ان پر یہود دشمنی کا الزام بھی لگایا تھا کیونکہ وہ اس وقت غزہ اور فلسطین کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔

2008 میں، ایلیسن کے انتخاب کے ایک سال بعد، آندرے کارسن انڈیانا سے کانگریس کے لیے منتخب ہوئے۔ ایلیسن کی طرح وہ بھی ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ 2019 میں ان کے ساتھ مینیسوٹا کے الہان عمر اور مشی گن کی رشیدہ طلیب بھی کانگریس میں شامل ہو گئے۔ رشیدہ نے بھی پہلے تو اپنی حلف برداری کی تقریب کے لیے کانگریس کی لائبریری میں محفوظ قرآن کے اسی نسخے کا انتخاب کیا جو صدر جیفرسن کا تھا لیکن پھر اس نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا اور اس کے بجائے اپنا خاندانی قرآنی نسخہ منتخب کیا۔ یہ تھامس جیفرسن واحد امریکی صدر نہیں تھے جن کے پاس قرآن کا نسخہ تھا بلکہ ان کے پیشرو، جان ایڈمز (1735-1826) ، جو کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دوسرے صدر تھے، امریکہ میں قرآن کے پہلے مطبوعہ ایڈیشن کے ایک نسخے کے مالک تھے، جو 1806 میں میساچوسٹس میں شائع ہوا تھا اور یہ اب بھی بوسٹن پبلک لائبریری میں محفوظ ہے۔ امریکی مؤرخہ ڈینس سپیلبرگ کی کتاب "تھامس جیفرسن کا قرآن: اسلام اور اس کے بانیان” (2014) کے مطابق انگلینڈ اور امریکہ میں پروٹسٹنٹ حضرات کی طرف سے قرآن میں بڑے پیمانے پر دلچسپی پائی جاتی تھی، اور یہ اس وقت سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گیا تھا۔ اس دلچسپی کی وجوہات مختلف تھیں، جن میں علمی جستجو بھی شامل تھی، لیکن قرآن کا ترجمہ اور مطالعہ مشنری کاروائیوں اور "اپنے دشمن کو جانو” کے اصول پر بھی مبنی تھا۔

قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ 1649 میں شائع ہوا، جسے الیگزینڈر راس نے مکمل کیا، لیکن یہ فرانسیسی سے ترجمہ کیا گیا تھا۔ 1734 میں، جارج سیل نے براہ راست عربی سے قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ کیا تھا ( اس عربی نسخے کے ساتھ لاطینی ترجمہ بھی تھا جو 1698 میں لیوس مراچی نے کیا تھا)۔ جارج سیل نے مقدمے میں کہا ہے کہ اس کا مقصد پروٹسٹنٹ حضرات کو قرآن سمجھنے میں مدد کرنا ہے تا کہ وہ اس پر تنقیدی کام کر سکیں ۔ 1765 میں جیفرسن نے جو اس وقت بیس کی دہائی میں قانون کا طالب علم تھا، اس ترجمے کی ایک کاپی کی درخواست کی جو اس کو انگلینڈ سے ورجینیا بھیجی گئی۔ وہ خاص طور پر مترجم کے طویل تعارف (تقریباً 200 صفحات) سے حیران ہوا جس میں اسلامی قانون، مسلمانوں کے عقائد، رسم و رواج اور نظریات کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ جیفرسن ایسی قانون سازی میں دلچسپی رکھتا تھا جو مذہبی آزادی اور عبادات کی آزادی کو یقینی بنائے لیکن اس کے باوجود وہ مذاہب، خاص طور پر کیتھولک اور اسلام کے بارے میں منفی خیالات رکھتا تھا کیونکہ اس کے خیال میں ‘ان دونوں مذاہب نے تنقید کی آزادی کا گلا گھونٹا تھا’۔ جیفرسن نے 1786 میں ‘ورجینیا مذہبی آزادی ایکٹ’ کا مسودہ تیار کیا۔ اس نے امریکی آئین میں ترامیم کی بات بھی کی جن میں سے 1791 کی ایک ترمیم یہ بھی ہے کہ "کانگریس کسی مذہب کے قیام ، مذہب پر آزادانہ عمل، اظہار رائے کی آزادی اور آزادئ صحافت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔” جیفرسن نے بعد میں اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ اس قانون سازی کا مقصد "یہودی اور غیر یہودی، عیسائی اور مسلمان، ہندو اور ملحد، سب کا تحفظ تھا”۔

جب جیفرسن نے یہ الفاظ لکھے، کیا اس وقت امریکہ میں مسلمان موجود تھے؟ جی ہاں بالکل موجود تھے۔ کیونکہ مورخین کا خیال ہے کہ مغربی افریقہ سے غلام بنا کر لائے گئے مرد و خواتین میں سے 15 سے 30 فیصد غلام مسلمان تھے۔ امریکہ کے دیگر بابا ہائے قوم کی طرح جیفرسن بھی زندگی میں تقریبا 600 غلاموں کا مالک رہا جن میں سے بعض کو وائٹ ہاؤس بھی لایا گیا۔ یہاں غلامی کے بارے میں جیفرسن کے متضاد خیالات، موقف اور طرز عمل پر بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی قول و فعل میں تضاد پر بات کی گنجائش ہے۔ البتہ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ وہ جن غلاموں کا مالک رہا ان میں سے کوئی مسلمان بھی تھا یا نہیں۔ جہاں تک ملک کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کا تعلق ہے، تو اس کے بارے میں ٹیکس کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی "پراپرٹیز” میں ‘فاطمہ’ نامی ایک لونڈی بھی شامل تھی۔ ان غلاموں کا یہ ہوا کہ مرور زمانہ، تشدد، مٹتی ہوئی یادداشت اور غلامی کے باعث ان لوگوں کے رشتے ناطے ٹوٹ گئے یا کمزور پڑ گئے اور ان کی اگلی نسلوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ لیکن کچھ وہ بھی تھے جنہوں نے اپنی شناخت کے اس خاتمے کے خلاف مزاحمت بھی کی۔ اس حوالے سے نایاب دستاویزات میں ایک مخطوطہ ملتا ہے جو ایک عالم، عُمر بن سعید (1770-1864) کا لکھا ہوا ہے۔ یہ امریکہ میں غلام بنا کر لائے گئے لوگوں کی یادداشتوں پر مبنی عربی میں لکھا گیا واحد مخطوطہ ہے۔ ابن سعید نے اپنے حالات زندگی میں فوتا تورو (جو اب سینی گال میں ہے) میں اپنی پیدائش اور بچپن کے بارے میں اور بانڈو (کانگو) میں اپنے بچپن کے سفر کے بارے میں بتایا ہے جہاں اس نے اپنے بھائی شیخ محمد بن سعید کی سرپرستی میں عربی اور اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس آیا جہاں ایک بہت بڑی فوج کے آنے سے پہلے اس نے چھ سال تک تدریس کی۔ پھر اسے اغوا کر لیا گیا اور 1807 میں ایک بڑے بحری جہاز پر بٹھا کر چارلسٹن (شمالی کیرولینا) لے جایا گیا۔ غلام بنائے جانے کے بعد اس نے اپنے مالک کی طرف سے اذیتیں برداشت کیں۔ وہ فرار بھی ہوا لیکن پھر گرفتار کر لیا گیا۔ تب اس نے جیل کی دیواروں پر لکھنا شروع کر دیا۔ عمر بن سعید کا لکھا ہوا عربی مخطوطہ 2017 میں دریافت ہوا اور علاء الرئیس نے اس پر تحقیق کر کے انگریزی میں ترجمہ کیا اور وسکونسن یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ جس کا نام ہے "ایک مسلمان امریکی غلام؛ عمر بن سعید کے حالات زندگی”

لہٰذا امریکہ میں مسلمانوں کی موجودگی مذکورہ فاشسٹوں اور نسل پرستوں کے حافظے سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ بلکہ یہ اس مسخ شدہ اور ادھوری تاریخ سے بھی قدیم ہے جس کو یہ لوگ اپنی تنگ نظری پر مبنی گفتگو کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔

 

*سنان انطون کا شمار دور حاضر میں عالمی سطح کے ممتاز عرب ادیبوں، شاعروں اور مترجمین میں سر فہرست ہے۔ ان کی کتب عربی سے انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ وہ اس وقت نیویارک یونیورسٹی میں ‘گلیٹن اسکول آف انفرادی مطالعہ’ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس
  • سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟
  • آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں
  • ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
ہمارے شعور کا المیہ
اگلی تحریر
امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ہماری تفریحی سرگرمیاں

دسمبر 31, 2025

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

اکیسویں صدی کے پہلے 25 برس

دسمبر 22, 2025

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

یہ کون ہے احمد شاہ؟

دسمبر 31, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here