پاکستان میں میڈیکل کی بلا مبالغہ اعلیٰ ترین یونی ورسٹی آغا خان میڈیکل یونی ورسٹی ہے۔ یہ امیریکن اکریڈٹڈ یونی ورسٹی ہے اور اس کا امریکہ کی جان ہاپکنز یونی ورسٹی سے باہمی معاہدہ ہے۔
کیا اس کا وی سی اور صدر ڈاکٹر ہے؟
نہیں، اس کے وی سی سلیمان شہابُ الدین اعلیٰ منتظم ہیں جن کی خصوصیت مینیجمنٹ ہے۔
ایف بی آر پاکستان میں محصولات کی وصولی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا اس کا کامیاب ترین چئیرمین خود ایف بی آر کا تربیت یافتہ تھا؟
نہیں، عبداللہ یوسف نے کبھی براہ راست ایف بی آر میں کام نہیں کیا تھا۔ البتہ ان کی ذہانت اور انتظامی مہارت نے انہیں اس اہم ادارے کا کامیاب ترین چیرمین بنایا۔
جیو پاکستان کا کامیاب ترین نیوز چینل بنا۔ کیا اس کا مالک صحافی ہے؟
نہیں،میر شکیل الرحمان باقاعدہ صحافی نہیں البتہ زیرک منتظم ہیں۔
ڈان بلا مبالغہ انگریزی کا سب سے معتبر اخبار ہے۔ کیا اس کے مالکان کا عملی صحافت سے تعلق ہے؟
نہیں، البتہ وہ بہترین اور غیر جانب دار منتظم ہیں۔
اب آتے ہیں ادبی دُنیا کی جانب۔
پاکستان میں مقتدرہ ، اکادمی ادبیات سمیت کئی ادبی ادارے ہیں۔ ان کے سربراہان ادیب رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی سرگرمیوں کو کتنا فروغ دیا؟ ان کی منعقد کردہ ادبی محافل میں عوام کس حد تک جوق در جوق شریک ہوتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات سے واقفانِ حال خوب واقف ہیں۔
یہ ہرگز ضروری نہیں کہ اچھا ادیب اچھا منتظم بھی ہو۔ یہ دونوں قطعی مختلف شعبہ جات ہیں۔
آصف فرخی نے امینہ سید کے ساتھ مل کر پاکستان میں ادبی میلوں کی ریت ڈالی۔ان کو اس درجہ مخالفت اور نفرت کا سامنا رہا کہ میں نے انہیں کئی مرتبہ بہت دل گرفتہ دیکھا۔ اور یہ سب نفرت،تلخی اور طنز کس طرف سے آیا؟ ادیبوں کی جانب سے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے تو ادیبوں کو عزت دلوائی ہے، چاۓ خانوں سے پنج ستارہ ہوٹلوں میں ان کو وہ تکریم دلوائی جس کا ایک ادیب حق دار ہے۔ ان کا مکالمہ بین الاقوامی مہمان ادیبوں سے کروایا ، غیر ملکی سفیروں اور دانش وروں سے ان کو احترام دلوایا اور ان کی خوب خدمت کی۔ نہ جانے ادیب برادری میں میرے لیے ناپسندیدگی کیوں پائی جاتی ہے۔ میں عینی شاہد ہوں اس امر کا کہ بہت سے ادیب جو ان کے سامنے رطب اللسان ہوتے تھے، پیٹھ پیچھے ان کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے تھے۔ مانا کہ ان میلوں میں ہر اہل ادیب کو نمائندگی نہیں ملتی تھی مگر بیشتر کو ملتی تھی۔ایک انسان کے لیے سو فیصد کامل ہونا ممکن نہیں۔ آخری دِنوں میں وہ اپنے ادیب بھائیوں کے رویے سے بہت دُکھی رہتے تھے ۔
اب کے احمد شاہ نامی سودائی کی شامت آئی کہ اُس نے اپنا سر اوکھلی میں دے دیا۔
ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جب منٹو کے مرنے کی خبر ملی تو گوجرانوالہ مشاعرے کو جاتے شاعروں نے فحش لطائف کا وِرد جاری رکھا، وہ جری ادیب خون تھُوکتا مر گیا۔ساغر صدیقی فٹ پاتھ پر ایڑیاں رگڑتا رہا اور ہم منہ دوسری جانب کر کے اس کے سامنے سے گزرتے رہے، حبیب جالب عوام کے حقوق پر شعر بُلند کرتا جیل چلا گیا، ادیبوں نے اس کے لیے کیا کیا؟بے شُمار مثالیں ہیں، مزید جی جلانے سے کیا فائدہ۔
پس ایک بات طےہے کہ احمد شاہ عمدہ منتظم اور ان تھک آدمی ہے، ادیبوں کی دل سے عزت کرتا ہے، اس کی تشخصی پسند و ناپسند ہو گی اور وہ بلند آہنگ شخصیت کا مالک رہا ہو گا مگر کون سا انسان جذبات سے بالاتر اور خطا سے پاک ہے؟ کراچی پاکستان کی فعال ترین آرٹ کونسل ہے اور اس شخص کی وجہ سے۔یہ شخص اپنے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچا ہے، فقط اپنے بل بوتے پر۔ اس کا کسی سیاسی خاندان سے تعلق ہے اور نہ ہی وہ جاگیر دار ہے۔اگر وہ ادیبوں کو عزت دے رہا ہے ،عمائدین مملکت سے احترام دلوا رہا ہے تو کیا بُرا کر رہا ہے؟
بہتر ہے کہ اس شخص پر تنقید سے پہلے اس سے بہتر کوئی مثال پیش کی جاۓ ، کوئی اور آرٹ کونسل کرے، کوئی اورشخص سامنے آئے۔