کل ایک تھکا دینے ولا مصروف دن تھا۔صبح نو بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک نہ تو فرصت کا کوئی لمحہ میسر آیا تھا اور نہ ہی کوئی خیر کی خبر موصول ہوئی تھی۔
دو طویل دورانیے کی میٹنگز، جن میں سے خاص طور پر آڈٹ اعتراضات کے حوالے سے ہونے والی میٹنگ کےاعصاب پر منفی اثرات ، کھاد کی قلت کے متعلق صوبہ بھر سےموصول ہونے والے ناخوشگوار پیغامات سے ہونے والا ذہنی دباؤ،صوبائی محتسب کی طرف سے کچھ گمنام سے اخباروں کے گمنام سے رپورٹر زکی خبر پر موصول ہونے والے نوٹسز پر پیدا ہونے والا نفسیاتی اضطراب اور سٹاف کی طرف سے لیٹ آنے اور دفتری امورکی انجام دہی میں تاخیر برتنے جیسے معاملات نے طبیعت کو خاصا مکدر کر دیا تھا۔
دفتر سے نکلتےہوئے میں نے پائیلٹ آفیسر شوکت علی سے گزارش کی کہ مجھے کچھ دیر کے لیے دفتر کے عقب میں واقع سنگ میل پبلیکیشنز پر لےجائے تاکہ چند مُحبان کے لیے اپنی کتاب “جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا” کی جلدوں پر دستخط کر کے ارسال کر سکوں۔ میں نے گاڑی سے اتر کر جیسے ہی سنگ میل کے شوروم میں قدم رکھا میرے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔موبائل فون کی سکرین پر”سیکرٹری ایگریکلچر آفس “کے الفاظ بائیں کونے سے نمودار ہو کر دائیں کونے کی طرف چلتے ہوئے آخری سرے پرغائب ہو رہے تھے۔” اللہ خیر کرے، بے وقت کال” بُڑبڑاتے ہوئے میں نے کال وصول کی۔ “ سر! پی۔ایس بول رہا ہوں، کل بارہ بجے اسلام آباد میں زرعی ترقیاتی بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی میٹنگ ہو رہی ہے جو آپ نے اٹینڈ کرنی ہے۔”اوکے، فائل بھجوا دو”۔ پی ایس نے“شکریہ سر! کہتے ہوئے کال منقطع کر دی۔
سارے دن کی تھکن، بیزاری اور کمر درد کے ساتھ پانچ گھنٹے کے سفر کے اچانک اذن نے طبیعت بوجھل کردی۔۔۔منہ کا ذائقہ بدل گیا۔۔۔جیسے کھانا کھاتے کھاتے لقمے میں کوئی ناہنجار روڑ( کنکر) آگیا ہو۔
“ شوکت بھائی! اسلام آباد جانا پڑے گا ہمیں، کیا خیال ہے ابھی نکل جائیں؟” میں نے بیزار لہجے میں شوکت سے استفسار کیا۔ “ سر جی! گاڑی میں ڈیزل بھی کوئی نہیں اور ہماری تیاری بھی نہیں ہے صبح ہی نکلیں تو بہتر ہے۔ “ شوکت نے اپنا خیال ظاہر کیا۔” ٹھیک ہے لیکن ہمیں پھر صبح جلدی نکلنا پڑے گا۔تم ایسے کرنا کہ صبح سات بجے پہنچ جانا، پانچ گھنٹے میں آرام سے پہچ جائیں گے۔ بلکہ دعا کرو کوئی بہانہ بن جائے اور نہ ہی جانا پڑا۔” میں نے انتہائی بیزار لہجے میں آخری جملہ ادا کیا۔
“ کیا مصیبت ہے یار، یہ اچانک سے اتنی دور میٹنگ اور پھر اتنی صبح صبح اٹھ کر تیار ہونا۔” میں تلخی سے بڑبڑایا۔ احباب کے لیے اپنی کتاب کی جلدوں پر دستخط کرنے کی سرشاری بھی اس بے وقت کی راگنی میں دب گئی۔ بوجھل بوجھل طبیعت کے ساتھ دستخط کیے اور گھر کی راہ لی۔ ذہن پر اس سوچ کا غلبہ تھا کہ کوئی ایسا بہانہ بنے کے سفر سے جان چھوٹ جائے۔
رات کو معمول سے ہٹ کر جلدی سو گیا تاکہ صبح جلدی اٹھ کر اسلام آباد کے لیے عازمِ سفر ہوا جائے۔ تدبیر کام آئی اور صبح ساڑھے پانچ بجے آنکھ کھل گئی۔ کچھ دیر کے لیے بستر میں پڑا کسمساتا رہا۔ فربہ رضائی لینے کے باوجود ٹھنڈک بدن میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ جسم کو گرم کرنے کے لیے رضائی کو سائیڈوں سے دبا کر اچھی طرح جسم کے ساتھ لگا لیا۔ کوئی دس منٹ کے عمل نے جسم کو مطلوبہ توانائی مہیا کردی اور میں نے بستر سے نکلنے کا قصد کیا۔ کمرے کا درجہ حرارت بڑھانے کرنے کے لیے میں نے گیس ہیٹر چلانے کا سوچا۔ خوش قسمتی سے گیس آرہی تھے۔ ہیٹر آن کر کے وارڈروب کے ساتھ منسلک غسل خانے کی طرف لپکا۔ غسل خانے کے دروازے کی بائیں جانب دیوار پر نصب بجلی کے بورڈ پر موجود ٹیوب راڈ جلانے لیے بٹن آن کیاتو ٹیوب راڈ نہیں جلی۔ وارڈ روب کا حجم تقریباً ایک عام سائز کے کمرے کے برابر ہے۔ اس کے اندرمختلف امور کے لیےمختلف شدت کی روشنی دینے والی لائٹیں لگی ہوئی ہیں۔ رات کے وقت استعمال کے لیے چھت میں رُوف لائٹ نصب کی گئی ہے۔ جبکہ شیو وغیرہ کرنے کے لیے ایک بڑے سائز کا ٹیوب راڈ آئینے کے اوپر نصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سارے ایریے کو روشن کرنے کے لیے آٹھ دس سیلنگ لائٹس موجود ہیں۔ وارڈ روب والے حصے کی سیلنگ لائٹ ٹھیک چل رہی تھی، روف لائٹس کم روشنی کے ساتھ بار بار اسی طرح آنکھیں جھپک رہی تھیں جیسے آپ نے زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی “جھپکو” کو بار بار آنکھیں جھپکتا دیکھا ہوگا۔ “ یا حیرت! یہ کیا ماجرہ ہے” میرے منہ سے نکل گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید میں نے ٹیوب راڈ کا بٹن اچھی طرح سے نہیں دبایا شایداس لیے ٹیوب راڈ نہیں چلا۔ بٹن کو دوبارہ زور سے دبایا، نتیجہ مختلف نہیں نکلا۔ بٹن کو بار بات آن آف کیا، لیکن بے سود۔
اب میرا ماتھا ٹھنکا۔ مجھے لگا کہ جیسے میری کل والی منفی سوچوں نے سازشوں کے جال بننے شروع کر دیے ہی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شیونگ ایریے میں روشنی اتنی مدھم ہے کہ جس میں شیو نہیں کی جا سکتی اورباہر شدید سردی، دُھند اور اندھیرا ہے لہذا ٹیرس کا دروازہ کھول کر وہاں بیٹھنے کا آپشن بھی دستیاب نہیں۔ میٹنگ بھی بہت ہائی پروفائل اور اہم ہے جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ وفاقی حکومت اور سٹیٹ بنک کے نمائندگان نے بھی شرکت کرنی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک جاری ہے۔۔۔وقت گزرتا جا رہا ہے ۔۔۔اوراعصابی تناؤ نے بروقت اٹھ جانے والے اطمینان کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔
ذہن نے بڑی تیزی سے ساری صورتِ حال کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ سامنے رکھا کہ اپنے کمرے میں بیڈ کے سرہانے نصب دو بڑے ٹیوب راڈ جلا لیے جائیں اور شیو کی حاجت پوری کی جائے۔ میں بیڈ کے سرہانے دائیں طرف والے بورڈ کی طرف لپکا اور تیزی سے ایک ہی بار میں ٹیوب راڈ اور وال لائٹ کے بٹن دبا دیے۔ کمرہ ویسا ہی نیم تاریک رہا۔ میں بے صبری سے بیڈ کے دوسری طرف نصب بورڈ کی طرف بڑھا اور ایک ہی بار میں سارے بٹن آن کر دیا۔ تھوڑا سُکھ کا سانس آیا۔ ٹیوب راڈ تو چل گیا لیکن وال لائٹ ویسی کی ویسی رہی۔
اس قسم کی صورتحال میں وقت کو بھی شاید پر لگ جاتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے گھڑی کو بار بار دیکھنے کا دورانیہ بھی کم ہوتا جاتا ہے۔
میں نے کمرے میں پڑی ہوئی چھوٹی تپائی کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اسے اٹھا کر ٹیوب راڈ کے سامنے مناسب جگہ پر رکھ سکوں۔ ایک ہاتھ سے تپائی اٹھانے پر تپائی کی ایک سائیڈ جیسے ہی جھکی، اس پر پڑا ہوا بھاریک شیشہ میری بائیں ٹانگ کو زخمی کرتا ہوا پاؤں پر آن پڑا۔ درد کی شدت سےمیرے منہ سے زور سے” سی” کی آوازنکلی۔ میں نے شلوار اوپر کر کے دیکھا تو ٹانگ پر کوئی آدھ انچ کے قریب کٹ لگا ہوا تھا اور ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔ منفی سوچوں کے اثرات کھل کر سامنے آرہے تھے۔میں نے ٹشو سے رستے ہوئے خون کو صاف کیااور زخم کو کچھ دیر دبائے رکھا تاکہ خون جم جائے۔ اس عمل میں کوئی پانچ منٹ گزر گئے۔ ٹانگ درد کی کیفیت کے ساتھ ہی تیاری مکمل کی، معمولی سا ناشتہ کیا، حیان اور زین نے ضروری سامان گاڑی میں رکھا اور کوئی سات بجے کے قریب ہم اسلام آباد کے لیے نکل پڑے۔
میں نے صبح اٹھتے ہی موٹر وے M2 کا سٹیٹس چیک کیا تھا جو کہ “راست کھلا ہوا ہے “دکھا رہا تھا۔ ہم پنجاب سوسائٹی سے واپڈا ٹاؤن میں داخل ہوئے ، ایدھی روڈ سے ہوتے ہوئے رائیونڈ روڈ کو عبور کیااور نہر اور ملتان روڈ کے اوپر بنائے گئے فلائی اوور سے موٹر وےپر چڑھ گئے۔ جیسے ہے موٹروے کا منظر سامنے آیا تو اوسان خطا ہو گئے۔ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں اور کاروں کا ایک تا حدِ نگاہ پھیلا ہوا سمندر تھا جس کا آخری سرا کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ شوکت نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور میں نے شوکت کی طرف۔ جیسے دونوں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں “ اب کیا ہو گا؟”
اب تو شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی کہ یہ سب منفی سوچوں کا کیا دھرا تھا۔مذکورہ فلائی اوور سے تھوڑا سا آگے آئیں تو اس جگہ موٹروے کی دونوں سائیڈوں کے درمیان کوئی دو سوفٹ کے قریب گرین بیلٹ بنا ہوا ہے۔ جہاں سے گاڑیاں ملتان روڈ سے ٹھوکر نیاز بیگ فلائی اوور پر آلر موٹروے پر چڑھتے ہیں اس کے سامنے کچھ ٹرک ڈرائیور حضرات نے گرین بیلٹ کو روند کر دوسری سڑک پر چڑھنے کے لیے راستہ بنایا ہوا ہے۔ ہماری گاڑی عین اس جگہ کے سامنے تھی۔ میں پکارا” شوکت گاڑی واپس موڑو، شہر کے اندر سے نکلو، جی ٹی روڈ سے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ “ شوکت نے فوری طور پر گاڑی اس راستے پر چڑھا دی۔ دو بڑے جھٹکوں کے ساتھ “ویگو چیمپ” سڑک کی دوسری طرف پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ ڈرائیور گاڑی کوٹھوکر نیاز بیگ سے نہر کی طرف نکال لایا۔ وہاں سے ملتان روڈ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ہم چوبرجی، سیکرٹیریٹ اور داتا دربار سے ہوتے ہوئے دریائے راوی کے پُل پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق تھی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ اب امید ہو چلی تھی کہ ہم میٹنگ میں پہنچ جائیں گے۔
آنکھوں میں ابھی نیند کا خمار باقی تھا اور دائمی کمر درد بھی ہلکا ہلکا سراٹھا رہی تھی، میں نے کچھ دیر سستانے کا فیصلہ کیا اور پچھلی سیٹ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ کوئی بیس منٹ چلنے کے بعد گاڑی رُک گئی۔ ابتداًمیں سمجھا کہ شاید سڑک پر رش کی وجہ سےگاڑی رکی ہوئی ہے۔ لیکن جب یہ دورانیہ معمول سے زیادہ طویل ہو گیا تو میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کیوں رکے ہوئے ہو۔ ڈرائیور بولا” سر جی پھاٹک بند اے۔” میں نے تھوڑا سر اوپر اٹھا کر باہر جھانکا تو گاڑی کو امامیہ کالونی پھاٹک پر رکا ہوا پایا۔ منفی سوچوں کا سحر عروج پر تھا۔اب میں نے میٹنگ میں بروقت پہنچنے کا خیال دل سے نکال دیا اورزرعی ترقیاتی بنک کے متعلقین کو اپنےتاخیر سے پہنچنے کے متعلق بتانے کاسوچنا شروع کر دیا۔
تب ہم مریدکے کراس کر رہے تھے جب اسلام آباد کے مقامی نمبر سے کال آئی۔ بنک کے کوئی آفیسر تھے جو میری لوکیشن کے متعلق استفسار کر رہے تھے۔ میں نے انہیں صورت حال سے آگاہ کیا۔ قصہ مختصر صاحبو کہ ایک لمحے کی سوچ کی لغزش سے اتنے جوکھن اٹھانے کے بعد ہم میٹنگ میں ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچے اور آئندہ کے لیے منفی سوچوں اور خیالات سے مکمل پرہیز کی نیت کر لی۔ سوچیں اعمال میں ڈ ھلتی ہیں اور اعمال ہماری شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں۔
اسی لیے “علم کے شہر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)” نے فرمایا تھا کہ “ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” اور اسی لیے “علم کے دروازے (رضی اللہ عنہ) نے ایک جملے میں ساری بات ختم کر دی تھی کہ “ مومن وہ نہیں جس کی محفل پاک ہو بلکہ مومن وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہو۔”