آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی اٹھارھویں عالمی اردو کانفرنس ۲۸ دسمبر کی شام ایک بھرپور اختتامی اجلاس اور اہم قراردادوں کی منظوری پر اختتام کو پہنچی ۔ میں ابھی تک بوجوہ کراچی میں ہوں اور سوشل میڈیا پر اچھے برے کومنٹس پڑھ رہا ہوں۔ اٹھارہ برس سے مسلسل ایک ادبی اور ثقافتی سرگرمی کو جاری رکھنا، جب کہ ملک بھر کی دیگر آرٹس کونسلیں، سرکاری ادبی ادارے، یونیورسٹیاں اور تنظیمیں تھک ہار کر بیٹھ گئی ہیں، یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ اختتامی اجلاس میں مہمان خصوصی نے گفتگو کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ایسا پاگل پن جیسی وابستگی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ کوئی مانے نہ مانے احمد شاہ نے اسے ممکن کر دکھایا ہے تو معترضین سمیت ہم سب کی نظر بھی ادھر اٹھ رہی ہے ۔ان کی تحسین میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کہیں اور ممکن ہو سکتا تھا تو ملک بھر میں دوسرے ادبی اور علمی ادارے ، یونیورسٹیاں اور تنظیمیں کیوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں۔ کسی وقفے کے بغیر، اٹھارہ برس کانفرنس منعقد کرنا اور اس کے لیے مالی اور انسانی وسائل کی فراہمی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یادرہے یہ آرٹس کونسل ہے۔ ادب اور دیگر فنون کو اسے ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایسا ہی ہم دیکھ رہے ہیں، اس کا آغاز اردو کا نفر نس کے نام سے ہوا تھا اور یہ قومی ہم آہنگی کے لیے دیگر قومی زبانوں کو بھی ساتھ لے کر چلی ہے۔ اسی ماہ کراچی میں عالمی کتاب میلہ تھا، آرٹس کونسل ہی میں چالیس روز تک ورلڈ کلچر فیسٹیول چلا اور اس کے فورا بعد یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور بڑی حد تک کامیاب رہی۔ میں کراچی آرٹس کونسل کو ان کی مثبت سرگرمیوں پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
38
گزشتہ تحریر
سنسکرت کی دو کتابیں اور چند جملے
اگلی تحریر