Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » میرا کراچی

میرا کراچی

محمد امین الدین

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 24, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 24, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
55

مجھے کراچی سے غیر معمولی اورعجیب سی انسیت اور محبت ہے۔ میں اس پر ہزاروں صفحات لکھ سکتا ہوں ،اس کی ہزاروں خوبیوں کو بیان کر سکتا ہوں۔ وہیں اس کی کمزوریوں سے بھی بہت آگاہ ہوں ۔ اس کا بین ثبوت میرا ناول کراچی والے۲۰۰۹اور میری آپ بیتی مسافر ۲۰۲۵ ہیں۔ ہر چند میں حیدرآباد میں پیدا ہوا ، وہیں پلا بڑھا اور تعلیم حاصل کی مگر کراچی نے مجھے تئیس سال کی عمر میں ہی اپنی کشادہ باہوں میں سمیٹ لیا تھا۔

وہ ۱۹۸۳تھا جب شہر اتنا بے ہنگم نہیں ہوا تھا – مرکزی شاہراہیں ہی نہیں اندرون شہر کی گلیاں بھی کشادہ تھیں ۔ زمین پر قبضے کا رحجان شہریوں میں بھی نہیں تھا اور اداروں میں بھی نہیں ۔ دونوں اپنی اپنی حدود میں رہتے تھے ۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی قدرے بہتر تھی ۔ بسوں کے روٹ تھے اور کے ٹی سی کی اپنی بسیں بھی کسی حد تک چل رہی تھیں ۔ لوگ ضرورت کے تحت موٹر سائیکل رکھتے تھے مگر اس میں بھی اعتدال تھا۔ اکثر چوراہوں پر راونڈ اباؤٹ ہوتاتھا اور گاڑیاں بغیر سگنل بھی آرام سے گزرجاتی تھیں ۔

کسی بھی شہرمیں سرکاری ٹرانسپورٹ کے نظام کا ایک فائدہ تو لازمی ہوتا ہے کہ جگہ جگہ ذاتی گاڑیاں پارک کرنے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ جگہ درکار ہوتی ہے ۔ لوگ ایک دو اسٹاپ تو یوں ہی پیدل چل لیتے ہیں اور اگر کہیں آگے جانا مقصود ہو تو بس یا ٹرین کا معمولی کرایہ دے کر آسانی سے منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔ تب کراچی ایسا ہی ہوتا تھا ۔ اس دور میں کسی حد تک سرکلر ریلوے بھی موجود تھی جو ماڈل کالونی سے ٹاور اور بالخصوص سائٹ ایریا کی ملوں میں کام کرنے والے ہزاروں ہنر مندوں اور مزدوروں کو ان کی منزل تک پہنچایا کرتی تھی۔ شہر کی حدود سہراب گوٹھ، نیپا چورنگی ، قائدآباد،قصبہ کالونی پر ختم ہو جاتی تھیں ۔ لانڈھی کورنگی ، گلشن اقبال کے چند بلاک، شاہ فیصل کالونی ، نارتھ کراچی ، بفرزون ، میٹرول ول ابھی آباد ہو ر ہےتھے ۔ اکثر جگہوں پر خالی پلاٹ دکھائی دیتے تھے ۔ جبکہ دوسری طرف فیڈرل بی ایریا, نارتھ ناظم آباد، گلشن کے حسن اسکوائرسے منسلک بلاک، ملیر ، نیو کراچی ، ناظم آباد وغیرہ آباد ہونے کے باوجود مجموعی طور پر ایک منزلہ عمارتوں پر مشتمل تھے ۔

آبادی کے اس تناسب کے پیش نظر پانی کی فراہمی ،سیوریج کی نکاسی، بجلی کی فراہمی کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئےانفرا اسٹرکچر بنایا گیا تھا ۔ گلیوں میں سیوریج کی لائنیں بمشکل ۱۲ انچ کی ڈالی جاتی تھیں ۔ بلکہ متوسط طبقے کے علاقوں میں تو آٹھ یا دس انچ کی لائین سے بھی کام چلایا جاتا تھا ۔ یہی صورت حال پانی کی لائینوں کی ہے جو چار انچ سے زیادہ چوڑی اب بھی نہیں ہیں۔ درحقیت پلاننگ کرتے ہوئے اداروں نے کبھی بھی مستقبل کی ضروریات کوپیش نظر نہیں رکھا۔

کراچی کی آبادی میں اضافے اور تناسب میں بگاڑ ۱۹۸۰ سے ہی شروع ہو گیا تھا جب افغان مہاجرین نے یہاں آنا شروع کیا تھا ۔ کراچی پورے پاکستان سے آنے والوں کو ہمیشہ سے خوش آمدید کہتا چلا آرہاتھا ۔ قصبہ کالونی ، بنارس چوک، اورنگی ٹاؤن سہراب گوٹھ ، قائد آباد، پنجاب کالونی، محمود آباد وغیرہ اس کی مثال ہیں ۔ مگر ۱۹۸۰ میں اچانک دباؤ بہت تیزی سے بڑھا جس کی کراچی کے ادارے جن میں کے ایم سی، کے ڈی اے، کینٹونمنٹ بورڈ، واٹر بورڈ، کے ای ایس سی، کے ٹی سی، پاکستان ریلوے، نیشنل شپنگ کارپوریشن، اسٹیل مل ، کوسٹل ایریا، ہائی وے اتھارٹی،لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ، اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، ہاکس بے، منوڑا اتھارٹی، ہاوس بلڈنگ لون ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، دیہی لوکل کونسل، ٹیکنیکل کالج ، ایجوکیشن بورڈز، ہائی کورٹ ، سٹی کورٹ ، سپریم کورٹ ، یعنی اداروں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں بہت سے براہ راست متعلقہ ادارے ہیں جنہوں نے بروقت نا اقدامات کئے ، نامستقبل میں آنے والے دباؤ کی نشاندہی کی اور نا ہی اپنے اداروں کی ذیلی شاخوں کو بڑھاوا دیا تا کہ عوام کے مسائل کو علاقائی سطح پر حل کیا جاسکے۔

یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ جب کسی شہر کی پلاننگ کی جاتی ہے یا کسی پہلے سے موجود شہر کے پھیلاؤ میں اگراضافہ ہونے لگتا ہے تو تمام ضروری اداروں کو متحرک ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ کراچی کے تقاضے پاکستان کے ہر شہر سے بہت مختلف اور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس شہر کا کردار بہت کلیدی نوعیت کا ہے ۔ اس شہر کا کوئی بھی کام محض ضرورت پوری کرنے کے لئے نہیں ہو سکتا اور نا ہی عارضی بنیادوں پر خانہ پری کرکے نبٹایا جا سکتا ہے، مگر افسوس ناک حد تک ایسا ہی کچھ ہوا ہے ۔ جب ادارے نیک نیتی کے فقدان ، ایڈہاک ازم،خود غرضی اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں تو خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ لالچ کی وجہ سے مافیاز پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ دھیرے دھیرے یہ مافیا طاقتور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر جب برسوں تک علاج نا کرنے کی وجہ سے برائی کا جن بوتل سے باہر آجاتا ہے تو اسے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کراچی کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے ۔ اس شہر کو نقصان پہنچانے میں ہر ادارے نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے ۔ کراچی کو جب مقامی نمائندوں کی ضرورت تھی تو ایڈمنسٹریٹروں سے کام چلایا گیا ۔ سرکاری اہلکارکبھی بھی عوامی نمائندوں کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ وہ تنخواہ دار ملازم اور بابو ہوتا ہے ۔ وہ عام علاقوں میں پلابڑھا نہیں ہوتا ، نا اس نے نچلے درجے کے کسی اسکول میں تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ وہ غریب کے مسائل سے آگاہ ہی نہیں ہوتا اور یوں بھی اپر کلاس سے تعلق کی وجہ سے اس میں نخوت کے جراثیم پیداہو چکے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی نوکری کا آغاز بہترین سجے ہوئے دفتر، گا ڑیوں کی قطار، ملازموں کی فوج، گھریلو اسٹاف جیسی پر تعیش خرافات سے کرتا ہے۔ اس کے بنائے ہوئے منصوبے کاغذوں میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ وہ ایلیٹ کلچر کو فروغ دیتے ہیں ۔ جیم خانہ ، ڈیفنس کلب، گولف کلب اس کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ کراچی کے نامی گرامی میونسپل کمشنر، ایڈ منسٹریٹر، چیرمین، ڈائریکٹر جنرل ، اور بہت سے انتظامی افسران اس کی مثال ہیں ۔

کراچی میں جب ا سٹیل مل قائم ہوئی تو ہزاروں لوگوں کو اس سے روز گار ملا، مالی اور طبی فوائد حاصل ہوئے ، خوشحالی آئی مگر دھیرے دھیرے ادارہ اندر ہی اندر سے کھوکھلا ہوتا چلا گیا ۔ میں نے دیکھا ہے کہ معمولی بیماریوں کے لئے لوگ بڑے ہسپتالوں سے نہ صرف علاج کرواتے بلکہ غیر معمولی بل بنوا کر رقوم حاصل کرتے ۔ اسٹیل مل کی قائم کردہ کالونی گلشن حدید کے بارے میں بھی کئی دہائیوں پہلے بہت کچھ سنا تھا۔ افسوس اب اس ادارے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے ۔

اسی طرح کے ٹی سی یعنی کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے نام سے بسیں چلا کرتی تھیں ۔ بڑی اور آرام دہ تھیں۔ چالیس سال پہلے اس ادارے کے اثاثے اونے پونے داموں فروخت کر دیئے گئے، کچھ چرا لئے گئے ، کچھ برباد کر دئیے گئے ۔ جب یہ ادارہ ختم ہوا تو ملازمین کے واجبات اور گولڈن شیک ہینڈ کے حساب کتاب کی ذمہ داری ادا کرنے والوں کی ٹیم میں اپنے ادارے کی طرف سے میں بھی شامل تھا ۔ تب میں نے اپنی متجسس طبیعت کی وجہ سے چند سبکدوش ہونے والے ملازموں سے ذاتی معلومات میں اضافہ کے لئے رسمی سوالات کئے کہ آخر کیوں یہ ادارہ بند ہو گیا تو کچھ لوگوں نے بتایاکہ یہ ہماری اپنی وجہ سے ختم ہو رہا ہے ۔ ہم نے خود اس کو تباہ کیا ہے ۔ انہوں نے کئی مثالیں دیں ، میں یہاں ایک بیان کر رہا ہوں کہنے لگے کہ صبح ڈپو سے بس نکلتی، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے سارا دن بس کو روٹ پر چلایا اور پھر شام کو ڈیو کے بالکل قریب آ کر تھوڑے فاصلے پر بس کو جانے والی پوزشین میں کھڑا کیا اور اس کے ایک ٹائر کو چاقو مار کر برسٹ کردیا اور پھر ڈیو آکر رپورٹ کردی کہ صبح جاتے ہوئے بس کا ٹائر برسٹ ہو گیا تھا سپر وائز بھی ان سے ملا ہوا ہوتا تھا لہذا وہ صبح کا وقت ریکارڈ میں ڈال دیتا، یوں سارا دن کی آمدنی جیبوں میں چلی جاتی۔ٹائر کو ناقابل استعمال بتا کر الگ پیسے کمائے جاتے ۔ کبھی ٹائر کبھی انجن کی خرابی اور کبھی دوسری ٹیکنیکل خامیوں کو جواز بنایا جاتا ۔ بس تو روڈ پر چلتی مگر ادارے کوئی آمدنی نہ ملتی۔ لہذا ادارہ بیٹھتا چلا گیا ۔ راتوں میں ڈپو سے سامان چوری ہونے کے قصے الگ تھے۔

دھیرے دھیرے کراچی پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کے ہاتھوں میں چلا گیا جس نے ایک اور گُل کھلایا۔ وہ تھا سرکلرریلوے کی بندش۔ کیونکہ سرکلر ریلوے سے ہزاروں مسافر سفر کرتے تھے۔ خاص طور پر سائٹ ایریا، ماڑی پور اور ٹاور جانے والے لوگ ۔ جوں جوں سر کلر ریلوے چلنا بند ہوئی تو پٹری کے دونوں اطراف کئی سو فٹ کی زمین جو کہ ریلوے کی ملکیت تھی، پر قبضہ ہونا شروع ہو گیا۔ ابتداء میں کچے مکان اور جھونپڑیاں ڈالی گئیں ۔ رفتہ رفتہ انہیں پختہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر باقاعدہ پکےمکان بنتے چلےگئے ۔ دیکھا دیکھی ریلوے ڈیپارٹمنٹ نے بھی اپنا حصہ وصول کرنا شروع کر دیا ۔ انہوں نے کئی مقامات پر ریلوے سوسائٹیز کے نام سے پلاٹ فروخت کئے ۔ آج ان تمام جگہوں پر شاندار بنگلے تعمیر ہو چکے ہیں۔

یہاں سرکلر ریلوے اور بڑے شہر کی ٹرانسپورٹ کی ضرورت کے حوالے سے کچھ اضافی بات کرنا چاہوں گا جس میں کے ڈی اے کا کردار بھی سامنے آتا ہے ۔

ہم یہ کئی دہائیوں سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ کے ڈی اے کے پاس جب جب اپنے ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں ہوتی تھیں تو وہ کوئی نئی آبادی کی اسکیم ڈیزائین کرتے اور عوام میں پلاٹ بیچنا شروع کر دیتے ، اور ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا ہے۔ ۱۹۸۰ سے پہلے کے ڈی اے جب کوئی اسکیم ڈیزائیں کرتا تو سڑکیں چوڑی ، پیچھے کی گلیاں ، پارک مسجد اور کمرشل پلاٹ اور بڑی شاہراہوں کی جانب بڑے پلازہ اور اپارٹمنٹ کی زمین رکھتا تھا ۔ اس کی مثال میں فیڈرل بی ایریا ، ناظم آباد گلشن اقبال ، ماڈل کالونی،ملیر، نارتھ ناظم آباد کو پیش کرسکتے ہیں مگر بعد میں کے ڈی اے نے زیادہ سے زیادہ پلاٹ بنانے کے چکر میں پچھلی گلی کی روایت بالکل ختم کردی اور سڑکوں کی چوڑائی بھی کم کرتے چلےگئے ۔ ناظم آباد،گلشن اقبال یا نارتھ ناظم آباد میں گھروں کے آگے کوئی سڑک ۲۴ فٹ سے کم نہیں ہے ۔ بعد میں یہ ۲۰ فٹ پر آگئے ۔ بعد ازاں لوگوں نے خود بھی گھروں کے آگے تین تین فٹ کے چھجوں کے نیچے دیوار کھڑی کرکے جگہ گھیر لی۔ یوں گلیاں اور پتلی ہو گئیں ۔ اب شہر میں بے شمار علاقے ایسے ہیں جہاں گھروں تک نہ پانی کا ٹینکر جا پاتا ہے اور نہ ہی ریتی بجری کا ٹرک داخل ہو سکتا ہے ۔

جو بات میں نے کے ڈی اے کی نادانش مندی کے حوالے سے کہی تھی وہ سب سے اہم ہے ۔شہر میں سرکلر ریلوے ماڈل کالونی سے آغاز کرتے ہوئے گلستان جوہر، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، سائٹ ایریا، ماڑی پور سے ہوتی ہوئی ٹاور تک جاتی تھی۔ کے ڈی اے نے جب جب نئی آبادیاں ڈیزائین کیں ، اس نے کہیں اضافی ریلوے ٹریک کے لئے زمین فراہم نہیں کی ۔ کراچی کا حدود اربعہ ذہن میں رکھیے اور غور کیجئے کہ گلستان جوہر، نارتھ نام آباد نیو کراچی، گلشن معمار ، بحریہ ٹاؤن ، بفرزون، میٹرو ول، سرجانی ٹاؤن ، اور نگی، لانڈھی، کورنگی، ڈیفنس جیسے علاقوں میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کے لئے ٹرانسپورٹ کی فراہی کے اس ذریعے کی بنیاد رکھنے کے لئے کوئی زمین فراہم نہیں کی گئی ۔ بس زمین بیچتےچلے گئے ۔ حتیٰ کے اور بھی بہت کچھ بھول گئے ۔ سرکاری اسکول ، کالج، ہسپتال ، ڈسپنسری، پوسٹ آفس، تھانے ،میونسپل آفس، کورٹ ، ایجوکیشنل بورڈ آفس، واٹر بورڈ ، ٹیکنیکل کالج جیسے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے لئے مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر زمین کی فراہمی کی ذمہ داری سب سے زیادہ کے ڈی اے کی تھی مگر اس نے انتہائی دیدہ دلیری سے اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے اجتناب برتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کراچی جیسے بڑے میٹرو پولیٹین سٹی کی ڈیموگرافی کو خراب کرنے میں کے ڈی اے کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ اگر کے ڈی اے شہر میں مختلف روٹ قائم کرنے کے لئے سرکلرریلوے کو زمین فراہم کر دیتا تو شہر میں ٹرانسپورٹ کا بے ہنگم عذاب کم از کم نہ ہوتا ۔ مگر ہماری ناعاقبت اندیشی کسی ایک سطح پر نہیں بلکہ زندگی کے ہرشعبے میں کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔

امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں ریلوے کا بہترین نظام کام کر رہا ہے ۔ کہیں زمین کے اوپر اور کہیں زمین کے نیچے ۔ یہ تو ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں زمین کے اندر کوئی میٹرو نہیں بنائی جا سکتی مگر افسوس کہ زمین کے اوپر بھی کوشش نہیں کی گئی ۔ اب خرابی کی حالت یہ ہے کہ پہلے رفتہ رفتہ بڑی بسیں ختم ہوئیں پھر ویگن کا خاتمہ ہوا اور پھر شہر پر چینچیوں کی صورت میں بدصورت عذاب نازل ہو گیا ۔ ایسے میں عوام نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے موٹرسائیکل کی سواری کو ترجیح دنیا شروع کردی ۔ معاشیات کے طلب و رسد کے اصول کے تحت فراہمی بھی شروع ہو گئی۔ اب شہر کی سڑکوں پر ہر عمر کے لوگ اسے لئے دندناتے پھرتے ہیں ۔ اگر کہیں رش زیادہ ہو جائے تو کاریگری دکھاتے ہوئے فٹ پاتھوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ سگنل کی خلاف ورزی کرنا تو عام سی بات ہے ۔ ایسے میں کسی بس یا ٹینکر کی زد میں آجائیں تو شہر میں لسانی ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ یعنی مصیبتیں کئی سمتوں سے حملہ اور ہوتی ہیں ۔

اب ٹینکروں کا ذکر آگیا ہے تو پہلے اسے ہی پورا کر لیا جائے۔ اگر نظم و ضبط اور درست پلاننگ ہو توکراچی میں پانی کی قلت نہیں ہے کیونکہ شہر میں رہنے والا ہر انسان کسی نا کسی طرح سے پانی استعمال کرتا ہی ہے۔ یعنی وہ پانی موجود تو ہوتا ہے مگر معروف ذرائع سے دستیاب نہیں ہوتا بلکہ یہ قالت مصنوعی طریقے سے پیدا کی جاتی ہے ۔ اس مصنوعی بحران کو پیدا کرنے میں واٹر بورڈ کی انتظامیہ بھی ہمیشہ ملوث رہی ہے۔

ٹینکروں سے پانی حاصل کرنے کی مصیبت کو شہری برسوں سے جھیلتےچلے آرہے ہیں مگر ۱۹۹۲ میں جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو رینجرز نے شہر میں مستقل ڈیرے ڈال دیئے تھے ۔ ایسے میں واٹر بورڈ میں پانی کی سپلائی کا انتظام انہوں نے خود سنبھال لیا۔ رفتہ رفتہ شہر میں ٹینکر اور ہائیڈرینٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ یہاں میں مصنوعی پن اور بد انتظامی کی ایک اور جھلک دکھاتا ہوں ۔ کراچی کے ہر گھر میں زمینی ٹینک میں پانی کھینچنے اور اور چھت والی ٹنکی میں چڑھانے کے لئے دو الگ الگ پمپ لگائے جاتے ہیں ۔ آئے دن موٹریں خراب بھی ہوتی ہیں۔ لاکھوں گھروں کی ضرورت کے لئے یہ موٹریں اور پمپ بنتے اور بیچے جاتے ہیں ۔

فرض کیجئے اگر شہر میں کالونی یا سیکٹر کی بنیاد پر مختلف فاصلوں پر بلند پانی کی اسٹوریج والے ٹاور تعمیر ہوں۔ واٹر بورڈ کی لائنوں سے براہ راست بڑی ہیوی ڈیوٹی موٹروں سے ان ٹاوروں کو پانی سپلائی ہو اور پھر اس کے آس پاس کے علاقوں کے لئے لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا جائے تو ہر گھر میں دو دو موٹریں لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ اگر ٹاور چار منزلوں سے اوپر ہے تو شہر کی ہر چار منزلہ بلڈنگ میں پانی بہت آسانی سے اور بروقت سپلائی ہوگا ۔ اور اس طرح ٹینکر کی لوٹ مار اور غیر ضروری مشینوں کی پروڈکشن ختم ہو جائے گی۔ وہ لوہا دوسری مصنوعات میں کام آسکتا ہے ۔ ان فیکٹریوں میں مزید کارآمد چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔ مگر یہ سب کرنے کے لئے نیتوں کا درست ہونا بہت ضروری ہے ۔ جس کا ہمارے ہاں فقدان ہے ۔ کچھ لوگ پیسہ خرچ کرکے پمپ اور موٹریں خریدتے ہیں ۔ کچھ بھاری رقوم خرچ کرکے ٹینکروں سے پانی خریدتے ہیں اور ہم لوگ اس مصنوعی انتظام پر خوش اور مطمئن ہیں۔

چلتے چلتے میں ٹینکر مافیا کے پھیلاؤ اور طاقت ور ہونے کا ایک ذاتی تجربہ شئیر کرنا چا ہوں گا۔ برسوں پہلے ہمارے علاقے میں پانی آنا بند ہو گیا۔ ایک دوبار ٹینکر ڈلوا لیا۔ رمضان کا مہینہ تھا ۔ ٹینکر والوں نے ریٹ بڑھا دیئے ۔ پریشانی زیادہ ہونے لگی تو ایک دن میں نیپا چورنگی پر بنے واٹر سپلائی روم چلا گیا کہ معلوم کروں کہ مسلہ کب حل ہوگا۔وہاں ایک عثمان نامی شخص ہوتا تھا ۔ میرے پوچھنے پر وہ بولا کہ پانی تو لائن میں اب عید کے بعد ہی آئے گا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ کیوں تو اس نے جواب دیا کہ ٹینکر والوں نے ہمارے افسران سے درخواست کی ہے کہ ہمیں عید کی وہاڑی تو لگانے دیں ، لہذا افسران کی ملی بھگت سے پورے رمضان یہی سلسلہ چلے گا اور پھر واقعی لائنوں میں پانی عید کے بعد ہی آیا تھا ۔

کراچی کی ناقص منصوبہ بندی اور بد انتظامی میں کراچی میونسپل اداروں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کو بہتر سے بہتر بنانے میں بلدیہ کراچی کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے ۔ لیکن کراچی کی ترقی کے لئے دیگر اور اداروں سے بلدیہ کا اشتراک اور باہمی ربط بھی بہت ضروری ہے مگر افسوس کہ ہمیں اس کا فقدان نظر آتا ہے ۔

کراچی میں بارہا ایسے منصوبے بنے ہیں جو اس شہر کی ترقی کے لئے بہت اہمیت رکھتے تھے مگر یا تو وہ آغاز میں ہی فائلوں میں دب گئے یا اگر شروع ہوئے تو درمیان میں ادھورے چھوڑنا پڑے اور اگر کہیں منصوبہ کسی بھی طرح مکمل ہو بھی گیا تو اس کی اہمیت اور افادیت پر سوال اٹھا دیئے گئے ۔

تین دہائی پہلے اجمل کمال صاحب نے اپنے رسالے آج کے دو شمارے کراچی پر شائع کئے تھے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس میں کراچی ماسٹر پلان کے حوالے سے ایک ایسے فلائی اوؤر کا ذکر تھا جو گرو مندر سے شروع ہو کر ٹاور تک جاتا تھا اور ستر کی دہائی میں اس پر صرف ایک کروڑ کی لاگت آرہی تھی ۔ تب تک شہر میں قبضے کی لعنت نے سر نہیں اٹھایا تھا اور نا ہی ٹریفک کا اژدھام تھا ۔

اس کے بعد جس طرح سبزی منڈی کو منتقل کیا گیا، ایسے ہی سنٹرل جیل کو شہر سے باہر اور جوڑیا بازار اور اس کے آس پاس کی تمام ہول سیل مارکیٹیں نادرن بائی پاس کے اطراف منتقل کی جانا تھیں ، مگر سبزی منڈی کے علاوہ سارے منصو بے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جب لیاری ندی ایکسپریس وے کا منصوبہ بنا تو اس کی افادیت بہت زیادہ تھی مگر جب یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو نہ صرف بے شمار رخنے آئے بلکہ رکاوٹوں کی وجہ سے لائنیں کم کرنا پڑیں اور خارجی راستوں کو بھی مناسب طریقے سے نہیں نکالا جا سکا۔ اب شاید یہی صورت حال ملیر ندی ایکسپر یس وے کی بھی ہے مگر میں اس کی تفصیل سے زیادہ آگاہ نہیں ہوں۔ ایک زمانے میں کراچی کے چاروں طرف ایک رنگ روڈ کا بھی بہت تذکرہ سنا تھا ۔ بڑے شہروں میں رنگ روڈ ہالی وے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ بڑے ٹرالروں کی آمد و اخراج میں یہ بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی کی یہ بدقستمی ہے کہ اس شہر کو شہر کی عوام سے زیادہ کچھ بیرونی عناصر و با اختیار اشرافیہ اون کرتے ہیں، جن کی وجہ سے ہر بڑے اور کراچی کے لئے اہم اور ضروری منصوبوں پر تحفظات اور اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں اور شہری انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑ جاتے ہیں ۔

کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک وہا بہت تیزی سے پھیلی تھی ۔ زمینوں پر قبضے کی ۔ اس وبا نے کئی شکلوں میں فروغ حاصل کیا ۔ ایک چائنا کٹنگ تھی جس میں جہاں زمین خالی دکھائی دی اس پر پلاٹ کاٹ دیئے گئے ۔ نا پارک دیکھا اور نا کھیل کا میدان اور نہ ہی کوئی ایمنٹی اسکیم۔ دوسرا کام ایک ہی گھر یا بنگلے کے کئی کئی پورشن بنا بنا کر بیچا جانے لگا ۔ ایک زمانے میں فلیٹوں کو پرانے لوگ ڈربہ کہتے تھے ، یہ تو ان ڈربوں سے بھی چھوٹے یونٹ بن گئے ۔ان دونوں صورتوں میں کراچی کو کئی طرح کے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک تو سیوریج کا سٹم تباہ ہو گیا، کیونکہ علاقوں کی ضرورت کے مطابق جو لائنیں بچھائی گئی تھیں وہ آبادی کے غیر معمولی اضافے کی وجہ سے کم پڑ گئیں اور بار بار چوک ہونے لگیں ۔ دوسرا مسئلہ بھی بہت سنگین تھا ۔ وہ یہ تھا کہ کراچی میں سے ہریالی ختم ہوتی چلی گئی اور شہر کنکریٹ کا جنگل نبتا چلا گیا ۔ پارک ختم ہو گئے ، درخت کاٹ دیئے گئے ۔ سنٹرل آئی لینڈ پر درخت نا پید ہوگئے۔ اگر کراچی کا ڈرون کیمروں سے فضائی جائزہ لیں تو ہر طرف کنکریٹ کی عمارتیں ہی دکھائی دیتی ہیں جن کی بناوٹ میں کوئی خوبصورتی اور جاذبیت بھی نہیں ہے ۔ بس چوکور چوکور ڈبے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ تو بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ جب کسی جگہ سے درخت کاٹ دئیے جائیں تو ماحولیاتی سطح پر کس قدر نقصان ہوتا ہے۔

یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہماری جمالیات کو تہس نہس کر دیا گیا ہے ۔ یورپ ، امریکہ ، حتیٰ کہ انڈیا کی کچھ ریاستوں میں بنی کئی کئی سو سالہ پرانی عمارتوں کی تصویریں دیکھیں تو اس شہر کا حسن، اس کی تاریخی حیثیت اور لوگوں کی فطرت سے محبت اور جمالیات سے لگاؤ کا پتا چلتا ہے اور ہم وہاں کے رہنے والوں کے ذوق کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ مگر ہم اس کے بالکل برعکس ہیں ۔

ٹاور سے گرو مندر تک کے کراچی کو پرانا کراچی کہاجاتا ہے جہاں بے شمار قدیم عمارتیں موجود ہیں ۔ نمائش کے آس پاس قدیم اور خوبصورت پوش علاقہ ہے۔ اس کے علاوہ صدر کے ارد گرد بھی بہت سی قدیم عمارتیں اب بھی موجود ہیں مگر یہ سب زیادہ تر دیکھ بھال نہ ہونے اور ارد گرد پھیلی ہوئی گندگی کے باعث اپنا قدرتی حسن کھو رہی ہیں ۔ ان میں زیادہ تر عمارتیں ان پارسی خاندانوں کی ہیں جو اب کراچی سے کہیں اور جا کر آباد ہو گئے ہیں ۔ ہم یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں پر زمین تنگ کی جا چکی ہے اور پارسی بھی ان میں شامل ہیں ۔ کراچی کو ایک شہراور اس شہر کی ترقی عطا کرنے میں پارسی لوگوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کراچی کے کلچر اور ثقافت کو ایک منفرد شکل دی تھی ۔ اب یہ ذمہ داری یہاں موجودہ زمانے میں رہنے والوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کلچر اور ثقافت کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ ان رنگوں، خوشبوؤں اور محبتوں کو فروغ دیں،علم و ادب کے نئے گوشے پروان چڑھائیں ،فنون لطیفہ کو نئی جہتوں اور منزلوں کی طرف لے جائیں ۔

کراچی کو آرٹس کونسل اور ناپا کی صورت میں دو آرٹ و فنون لطیفہ کے مراکز حاصل ہیں ۔ اور یہ دونوں شہر کے دل میں واقع ہیں ، مگر ہم جانتے ہیں کہ کراچی شہر کے دل کی شریانیں وقت کے ساتھ ساتھ سکڑتی جارہی ہیں ۔ اب ان میں سے ہوا کی نکاسی بھی بہت مشکل سے ہوتی ہے ۔ جیسا کہ میں نے آغاز ہی میں کہا تھا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ کا منظم و مربوط نظام موجود نہیں ہے ۔ اگر وہ ہوتا تو بھی بھلا ہوتا۔ اب اس سرکاری ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی میں شہر کے اس آرٹ، فنون لطیفہ اور ثقافتی مرکز کی متعدد شاخیں قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شہر کراچی کے حجم اور آبادی کی مناسبت سے موجودہ عہد کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قدیم اور جدید کے . امتزاج کے ساتھ ثقافتوں اور کلچر کو فروغ دیا جاتا، مگر ایسی کہیں کوشش دکھائی نہیں دیتی ۔ اب یہ شہر ایک خود رو پودے کی طرح تین سمتوں میں اور اوپر کی طرف پھیل اور بڑھ رہا ہے بلکہ چوتھی سمت یعنی سمندر کی طرف بھی مٹی ڈال کر بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر ذمہ دار افراد بھی فنڈ نا ہونے اور اختیارات کی کمی کے بیانیے میں خود کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مجھے کراچی سے نکلے ہوئے نو سال ہو چکے ہیں مگر کراچی اب بھی میرے اندر بسا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں خود کو اب بھی کراچی سے جُڑا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ دلی طور پر ہر گھڑی اسے پہلے سے بہتر، سجا ہوا، بسا ہوا، مہکتا ہوا اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ
  • یہ کون ہے احمد شاہ؟
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • ہماری تفریحی سرگرمیاں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رومی کے دو شعر مع ترجمانی (ویڈیو)
اگلی تحریر
تیرے بعد تیری بتیاں

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

ہماری تفریحی سرگرمیاں

دسمبر 31, 2025

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

دسمبر 13, 2025

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 239 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 181 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here