نرم انجیر اور دیسی شہد والے دلیے کے خوشگوار ذائقے اور گرم چائے کی مہک ہو اور سردی کی صبح کے اوائل کی دھوپ میں بیٹھنے کا موقع بھی میسر ہو تو کچھ اچھی اچھی باتیں کر لینی چاہئیں۔
دسمبر کا مہینہ ویسے تو مولانا رومی کی یادوں اور باتوں کے لیے ہوتا ہے کہ 17 دسمبر ان کا یوم وصال ہے۔ لیکن اس کے اگلے ہی روز روح کو سرشار کرنے والا ایک اور دن بھی منایا جاتا ہے۔ 18 دسمبر؛ عربی زبان کا عالمی دن۔
ذاتی حوالے سے چند برسوں سے تو یہی ہو رہا ہے کہ اپنے طور پر یہ اظہار کر دیا کہ آج عربی زبان کا عالمی دن ہے۔ اس کے ساتھ عربی سے اردو کچھ بہترین تراجم کا بھی ذکر کر دیا اور ایک آدھ صاحبِ دل دوست سے بھی کہہ دیا کہ وہ بھی ایسا کوئی نیک کام کر لیں۔
لیکن امسال تو بھئی ابھی خاصی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ گزشتہ مہینے کراچی جانا ہوا تو وہاں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے بہت ہی ویژنری نگران مولانا حاجی عمران عطاری مدظلہ العالی نے عربی زبان میں عالمی سطح پر مطلوب مہارتیں حاصل کرنے پر بہت زور دیا۔ اس پر دعوت اسلامی کا علمی و تعلیمی شعبہ جامعۃ المدینہ حرکت میں آیا اور اب اس کے ذیلی شعبہ لغت عربیہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے طلبہ میں عربی زبان میں مزید مہارت اور محبت پیدا کرنے کے لیے پہلے سے جاری اقدامات میں تیزی لانے کے سلسلے میں عربی زبان کے عالمی دن کو ایسے منایا کریں گے جیسے کوئی زندہ قوم کسی محسن زبان کا دن مناتی ہے۔ اقبال نے کہا تھا:
گئے دن کی تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مِرے رازداں اور بھی ہیں
ذاتی طور پر جو سلسلہ چند سطروں کے اعلان سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا اب اس میں کتنی نوع بہ نوع سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں اور سب کا ذوق و شوق بھی دیدنی ہے۔
عربی زبان کی اہمیت کے لیے اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر اس سال جو باتیں لکھی ہیں وہ اس زبان کی عظمت اور اس سے محبت کا جواز بیان کے لیے خاصی مفید ہیں۔ اس گفتگو کا عنوان ہی دلفریب ہے یعنی ‘عربی زبان؛ شاعری اور فنون کی زبان’
اس عنوان کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس میں سے چند سطروں کا مفہوم ملاحظہ کیجیے:
۔ اس سال عربی زبان کو اقوام متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان قرار دیے جانے کی پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے
۔ شعر و فن میں عربی زبان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ محققین، ماہرین تعیلم، نوجوانوں اور عالمی اداروں کے سربراہان کو اکٹھا کرے گا۔
۔ عربی زبان انسانی دنیا میں موجود ثقافتی رنگا رنگی کا ایک ستون ہے۔
۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے جس کو ہر روز چالیس کروڑ سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔
۔ اقوام متحدہ نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ عرب قوم نے زبان کی حد تک ہی نہیں بلکہ دیگر فنون لطیفہ مثلا فن تعمیر اور فلسفہ وغیرہ کے میدان میں بھی ایک خوبصورت جمالیاتی نظام فراہم کیا ہے
۔ اس زبان نے یونانی اور رومی اور دیگر اقوام کے علوم کو عام کر کے یورپ کی نشأۃِ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے
۔ اسی زبان نے شاہراہ ریشم یعنی ہندوستان کے ساحلوں سے لیکر افریقہ کے جزیروں تک موجود اقوام کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیا۔
لہذا دوستو اٹھارہ دسمبر کو ہم اس زبانِ عربی کا جشن منانے جا رہے ہیں۔
ع ۔ ۔ ۔ نال میرے کوئی چَلّے
(کوئی تو ہو جو میرے ساتھ آئے)
(نوٹ: 2023 میں لکھی گئی تحریر)
