آدمی کے بیشمار روپ ہیں۔ سڑک کنارے چلتا پھرتا، کاروبار کرتا، ریڑھی کھینچتا محنت کش مجھے ذاتی طور پر بہت عزیز ہے۔ ایک کالم میں پہلے بھی ذکر چکا ہوں کہ میری ہائی فائی سوسائٹی جہاں میری رہائش ہے اس کے بغل میں ایک گاؤں ہے جہاں خلیل موچی بستا ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی دنیا کی سیدھی سادی گفتگو کی جھونپڑی میں کچھ دیر بیٹھ کر اس کے بے ضرر قصے اور زمانے کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بلا ٹوکے سنتا رہتا ہوں اور وہ لوگوں کے جوتے، بچوں کے سکول بیگز اور ٹریول بیگز بھی گانٹھتا رہتا ہے۔گوکہ یہ اب متروک شدہ پیشہ بنتا جا رہا ہے۔ لوگ نئی چیز خرید لیتے ہیں پرانے کو اب کون مرمت کراتا ہے۔سو خلیل موچی کے پاس گاہک کم اور وقت زیادہ ہوتا ہے۔
خلیل کے پاس نہ کوئی تھیوری ہے نہ کوئی سیاسی و سماجی منشور۔ اس کے پاس بس تجربہ ہے جو ہاتھوں کی جھریوں اور آنکھوں کی شفافیت میں محفوظ ہے۔ وہ خبرنامہ نہیں دیکھتا مگر حالات کا درجۂ حرارت ٹھیک ٹھیک بتا دیتا ہے۔ وہ تجزیہ نگار نہیں مگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھنے کا ہنر جانتا ہے۔آج تک خلیل نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت نہیں کی اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا چارٹ اپنے چہرے پر چسپاں کیا۔ اسی لیے پینسٹھ برس کی عمر میں بھی اس کا چہرہ مسکراہٹ کی گرمی سے تمتماتا رہتا ہے۔ وہ پنجابی میں کہتا ہے “باؤ، جوتا ٹوٹ جائے تو گانٹھا جا سکتا ہے بس کسی کا بھرم نہیں ٹوٹنا چاہیے اس کو گانٹھنا ناممکن ہے۔”
خلیل موچی کے پاس نہ اے سی ہے نہ سوشل میڈیا اور نہ کوئی فالوور مگر اس کے پاس سکون ہے۔وہ صرف ہفتہ اتوار دو روز کے لیے اپنے ٹھکانے پر بیٹھتا ہے کیونکہ سارا ہفتہ کام نہیں ہوتا۔ اس کی دنیا چھوٹی ہے مگر اس کا ظرف کشادہ ہے۔ اس نے زندگی کو مقابلہ نہیں بنایا معمول بنایا ہے۔ہماری سوسائٹی کے کشادہ لانوں میں اکثر بےچینی اگتی ہے جبکہ خلیل کی دہلیز پر قناعت کے پودے سرسبز رہتے ہیں۔ شاید آدمی کی اصل دولت اس کی کمائی نہیں اس کا مزاج ہوتا ہے اور خلیل کا مزاج سادہ، صاف اور بے ضرر ہے جیسے پرانا چمڑا جسے وہ بڑی مہارت سے پالش کر کے نیا سا بنا دیتا ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اصل “ہائی فائی” زندگی کس کی ہے؟ وہ جو گیٹڈ کمیونیٹیز کے اندر ہے یا وہ جو کھلے آسمان تلے جوتے گانٹھتے ہوئے بھی مسکرا سکتی ہے؟۔ اور رہی بات عام آدمی کے مزاج کی تو اکثر محنت کش لوگ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑے سے بڑا فلسفی و دانشور بھی کہنے سے محروم رہ جائے۔ فراز کا ایک شعر یاد آیا ہے۔
ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں