Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

سید مہدی بخاری

کی طرف سے Ranaayi فروری 20, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 20, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
28

آدمی کے بیشمار روپ ہیں۔ سڑک کنارے چلتا پھرتا، کاروبار کرتا، ریڑھی کھینچتا محنت کش مجھے ذاتی طور پر بہت عزیز ہے۔ ایک کالم میں پہلے بھی ذکر چکا ہوں کہ میری ہائی فائی سوسائٹی جہاں میری رہائش ہے اس کے بغل میں ایک گاؤں ہے جہاں خلیل موچی بستا ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی دنیا کی سیدھی سادی گفتگو کی جھونپڑی میں کچھ دیر بیٹھ کر اس کے بے ضرر قصے اور زمانے کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بلا ٹوکے سنتا رہتا ہوں اور وہ لوگوں کے جوتے، بچوں کے سکول بیگز اور ٹریول بیگز بھی گانٹھتا رہتا ہے۔گوکہ یہ اب متروک شدہ پیشہ بنتا جا رہا ہے۔ لوگ نئی چیز خرید لیتے ہیں پرانے کو اب کون مرمت کراتا ہے۔سو خلیل موچی کے پاس گاہک کم اور وقت زیادہ ہوتا ہے۔

خلیل کے پاس نہ کوئی تھیوری ہے نہ کوئی سیاسی و سماجی منشور۔ اس کے پاس بس تجربہ ہے جو ہاتھوں کی جھریوں اور آنکھوں کی شفافیت میں محفوظ ہے۔ وہ خبرنامہ نہیں دیکھتا مگر حالات کا درجۂ حرارت ٹھیک ٹھیک بتا دیتا ہے۔ وہ تجزیہ نگار نہیں مگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھنے کا ہنر جانتا ہے۔آج تک خلیل نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت نہیں کی اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا چارٹ اپنے چہرے پر چسپاں کیا۔ اسی لیے پینسٹھ برس کی عمر میں بھی اس کا چہرہ مسکراہٹ کی گرمی سے تمتماتا رہتا ہے۔ وہ پنجابی میں کہتا ہے “باؤ، جوتا ٹوٹ جائے تو گانٹھا جا سکتا ہے بس کسی کا بھرم نہیں ٹوٹنا چاہیے اس کو گانٹھنا ناممکن ہے۔”

خلیل موچی کے پاس نہ اے سی ہے نہ سوشل میڈیا اور نہ کوئی فالوور مگر اس کے پاس سکون ہے۔وہ صرف ہفتہ اتوار دو روز کے لیے اپنے ٹھکانے پر بیٹھتا ہے کیونکہ سارا ہفتہ کام نہیں ہوتا۔ اس کی دنیا چھوٹی ہے مگر اس کا ظرف کشادہ ہے۔ اس نے زندگی کو مقابلہ نہیں بنایا معمول بنایا ہے۔ہماری سوسائٹی کے کشادہ لانوں میں اکثر بےچینی اگتی ہے جبکہ خلیل کی دہلیز پر قناعت کے پودے سرسبز رہتے ہیں۔ شاید آدمی کی اصل دولت اس کی کمائی نہیں اس کا مزاج ہوتا ہے اور خلیل کا مزاج سادہ، صاف اور بے ضرر ہے جیسے پرانا چمڑا جسے وہ بڑی مہارت سے پالش کر کے نیا سا بنا دیتا ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اصل “ہائی فائی” زندگی کس کی ہے؟ وہ جو گیٹڈ کمیونیٹیز کے اندر ہے یا وہ جو کھلے آسمان تلے جوتے گانٹھتے ہوئے بھی مسکرا سکتی ہے؟۔ اور رہی بات عام آدمی کے مزاج کی تو اکثر محنت کش لوگ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو بڑے سے بڑا فلسفی و دانشور بھی کہنے سے محروم رہ جائے۔ فراز کا ایک شعر یاد آیا ہے۔

ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟
  • پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟
  • آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں
  • خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
آزاد کشمیر پولیس کے ایک ڈرائیور کا خلوص
اگلی تحریر
حکم محمد سعید کا رمضان

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

فارمیسی میں منہ چڑاتی دو دوائیں

فروری 7, 2026

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

فروری 15, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

پنجابی کھوج گڑھ؛ یادگار کارنامہ

دسمبر 29, 2025

چند ادبی و سماجی مسائل

دسمبر 28, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 264 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 254 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 226 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

امجد اسلام امجد سے ایک ملاقات

جنوری 4, 2026

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے...

فروری 15, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here