Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر

کی طرف سے Ranaayi فروری 22, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 22, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
25

قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس بات کی اہمیت کا اندازہ کر لیا گیا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ہر قوم کو اپنی شناخت کے لئے اپنی تہذیب، زبان اور تاریخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے تقسیم ہند کے وقت بعض ایسی شخصیات نے پاکستان جانے کے حق میں فیصلہ کیا جن کا میدان تخصص تاریخ تھا۔مثلا ای بی اے حلیم ،محمود حسین، اشتیاق حسین قریشی، امیر حسن اور سید معین الحق وغیرہ ان سب نے ہجرت کے بعد کراچی میں طرح اقامت ڈالی کہ اس وقت کراچی سندھ کا حصہ نہیں تھا بلکہ فیڈرل کیپٹل کا درجہ رکھتا تھا۔ تاریخ کے حوالے سے یہی وہ ہراول دستہ تھا جس نے انڈین ہسٹری کانگرس کے طرز پر پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے قیام کا ڈول ڈالا ۔ گو کہ حالات اس وقت کسی ادارے کی داغ بیل ڈالنے کے لئے ساز گار نہیں تھے، مہاجروں کے لٹے پٹے قافلے خاک و خون کا دریا پار کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچ رہے تھے۔۔۔۔اثاثوں کی تقسیم میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے تک کے لیے حکومت کے پاس سرمایہ نہیں تھا، بہرحال ڈاکٹر معین الحق نے اپنے رفقاء کی معاونت سے 1950 میں پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی قائم کی، اس ضمن میں جن اصحاب کی معاونت حاصل رہی ان میں ڈاکٹر فضل الرحمن(جو پاکستان کے وزیر تعلیم بنے ) ،جناب ایم۔بی۔احمد، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مرزا علی اطہر برلاس،اور مفتی انتظام اللہ شہابی وغیرہ شامل تھے۔

اب سوال یہ تھا کہ سوسائٹی کو چلانے کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ حکومت سے توقع لگانا بے وقوفی تھی کہ حکومت کو اپنا انتظام چلانے کے لئے ہی سرمایہ دستیاب نہیں تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ممبران اپنی جیب سے کچھ رقم عطیہ کریں گے۔

دوسرا مسئلہ، ہسٹاریکل سوسائٹی کا دفتر کہاں قائم کیا جائے؟ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جو کواٹر ڈاکٹر معین الحق کو الاٹ ہوا تھا، اس سے ملحق ٹین کی چادریں ڈال کر پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کا دفتر قائم کیا گیا، بعد میں جب ڈاکٹر معین نے اپنا گھر بنا لیا تو دفتر بھی ان کے گھر میں شفٹ ہو گیا۔ سوسائٹی کا آئین بنایا گیا، جس کے تحت 1953 میں سوسائٹی کے پہلے انتخابات ہوئے جس میں ڈاکٹر فضل الرحمن صدر، اور ڈاکٹر معین الحق جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اسی سال سے سوسائٹی کا سہ ماہی انگریزی جریدہ ” جرنل آف دی پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی ” ڈاکٹر سید معین الحق کی صدارت میں شائع ہونا شروع ہوا، جب سوسائٹی مالی دباو کا شکار ہوئی تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ حکیم محمد سعید صاحب کو اس کا سرپرست اعلی مقرر کر دیا گیا، حکیم صاحب نے 25 ہزار روپئے سالانہ گرانٹ سوسائٹی کو دینی شروع کی جس کی وجہ سے سوسائٹی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اس کا سہ ماہی جریدہ "ہمدرد ہسٹاریکس ” کے نئے نام سے بغیر کسی تعطل کے آج تک شائع ہو رہا ہے۔

سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے پہلے ہر سال بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جاتی تھی، جس میں اب وہ باقاعدگی تو نہیں رہی مگر یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کی سرپرست اب حکیم محمد سعید شہید کی بیٹی محترمہ سعدیہ راشد ہیں، اس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جعفر احمد ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں ڈاکٹر رضا کاظمی، ڈاکٹر حنا، اور راقمہ ناچیز شامل ہے۔

16 فروری بروز پیر جب سوسائٹی کا اجلاس۔۔۔۔۔خاصے تعطل کے بعد۔۔۔۔منعقد ہوا تو شرکاء کو پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے تحت نکلنے والے جرنل کا پہلا شمارہ سوینیر کے طور پر دیا گیا۔ یعنی پہلے شمارے کی محدود پیمانے پر ڈیجیٹل پرنٹنگ کرا کے اسے ہمیں دیا گیا۔

اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی، کسی بھی سرکاری امداد کے بغیر آج تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ سارا کریڈٹ اب ہمدرد فاونڈیشن کو جاتا ہے۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟
اگلی تحریر
دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی

جنوری 15, 2026

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ کیوں کیا جاۓ؟

دسمبر 13, 2025

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

فروری 25, 2026

خطرناک امراض اور سائنس

فروری 12, 2026

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

فیس بک کی دنیا

فروری 9, 2026

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟

فروری 12, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 264 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 254 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 226 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here