قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس بات کی اہمیت کا اندازہ کر لیا گیا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ہر قوم کو اپنی شناخت کے لئے اپنی تہذیب، زبان اور تاریخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے تقسیم ہند کے وقت بعض ایسی شخصیات نے پاکستان جانے کے حق میں فیصلہ کیا جن کا میدان تخصص تاریخ تھا۔مثلا ای بی اے حلیم ،محمود حسین، اشتیاق حسین قریشی، امیر حسن اور سید معین الحق وغیرہ ان سب نے ہجرت کے بعد کراچی میں طرح اقامت ڈالی کہ اس وقت کراچی سندھ کا حصہ نہیں تھا بلکہ فیڈرل کیپٹل کا درجہ رکھتا تھا۔ تاریخ کے حوالے سے یہی وہ ہراول دستہ تھا جس نے انڈین ہسٹری کانگرس کے طرز پر پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے قیام کا ڈول ڈالا ۔ گو کہ حالات اس وقت کسی ادارے کی داغ بیل ڈالنے کے لئے ساز گار نہیں تھے، مہاجروں کے لٹے پٹے قافلے خاک و خون کا دریا پار کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچ رہے تھے۔۔۔۔اثاثوں کی تقسیم میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے تک کے لیے حکومت کے پاس سرمایہ نہیں تھا، بہرحال ڈاکٹر معین الحق نے اپنے رفقاء کی معاونت سے 1950 میں پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی قائم کی، اس ضمن میں جن اصحاب کی معاونت حاصل رہی ان میں ڈاکٹر فضل الرحمن(جو پاکستان کے وزیر تعلیم بنے ) ،جناب ایم۔بی۔احمد، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مرزا علی اطہر برلاس،اور مفتی انتظام اللہ شہابی وغیرہ شامل تھے۔
اب سوال یہ تھا کہ سوسائٹی کو چلانے کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ حکومت سے توقع لگانا بے وقوفی تھی کہ حکومت کو اپنا انتظام چلانے کے لئے ہی سرمایہ دستیاب نہیں تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ممبران اپنی جیب سے کچھ رقم عطیہ کریں گے۔
دوسرا مسئلہ، ہسٹاریکل سوسائٹی کا دفتر کہاں قائم کیا جائے؟ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جو کواٹر ڈاکٹر معین الحق کو الاٹ ہوا تھا، اس سے ملحق ٹین کی چادریں ڈال کر پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کا دفتر قائم کیا گیا، بعد میں جب ڈاکٹر معین نے اپنا گھر بنا لیا تو دفتر بھی ان کے گھر میں شفٹ ہو گیا۔ سوسائٹی کا آئین بنایا گیا، جس کے تحت 1953 میں سوسائٹی کے پہلے انتخابات ہوئے جس میں ڈاکٹر فضل الرحمن صدر، اور ڈاکٹر معین الحق جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اسی سال سے سوسائٹی کا سہ ماہی انگریزی جریدہ ” جرنل آف دی پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی ” ڈاکٹر سید معین الحق کی صدارت میں شائع ہونا شروع ہوا، جب سوسائٹی مالی دباو کا شکار ہوئی تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ حکیم محمد سعید صاحب کو اس کا سرپرست اعلی مقرر کر دیا گیا، حکیم صاحب نے 25 ہزار روپئے سالانہ گرانٹ سوسائٹی کو دینی شروع کی جس کی وجہ سے سوسائٹی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، اس کا سہ ماہی جریدہ "ہمدرد ہسٹاریکس ” کے نئے نام سے بغیر کسی تعطل کے آج تک شائع ہو رہا ہے۔
سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے پہلے ہر سال بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جاتی تھی، جس میں اب وہ باقاعدگی تو نہیں رہی مگر یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کی سرپرست اب حکیم محمد سعید شہید کی بیٹی محترمہ سعدیہ راشد ہیں، اس کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جعفر احمد ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں ڈاکٹر رضا کاظمی، ڈاکٹر حنا، اور راقمہ ناچیز شامل ہے۔
16 فروری بروز پیر جب سوسائٹی کا اجلاس۔۔۔۔۔خاصے تعطل کے بعد۔۔۔۔منعقد ہوا تو شرکاء کو پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کے تحت نکلنے والے جرنل کا پہلا شمارہ سوینیر کے طور پر دیا گیا۔ یعنی پہلے شمارے کی محدود پیمانے پر ڈیجیٹل پرنٹنگ کرا کے اسے ہمیں دیا گیا۔
اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی، کسی بھی سرکاری امداد کے بغیر آج تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ سارا کریڈٹ اب ہمدرد فاونڈیشن کو جاتا ہے۔