دنیا میں روسی لوگ کتابوں کا مطالعہ کرنے میں بے مثال ہیں ہر روسی گھر میں آپ کو کتابوں کی شیلف یا مکمل ایک لائبریری ملے گی۔ ہمارے ہاں نئے اور بڑے گھروں میں دو ٹی وی لاؤنج بنانے کا عام رواج ہے۔ نئے گھروں میں کتنے لوگ لائبریری بناتے ہیں ، تعلیم یافتہ گھروں میں؟ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگوں میں کتاب نہ پڑھنے کے دو جواز ہیں، کتاب بہت مہنگی ہے، کتاب پڑھنے کا وقت نہیں۔
ہمارے ہاں شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھ کر نام نہاد ٹاک شو سے “معلومات عامہ، سیاسی علوم، عالمی امور اور جنرلُ نالج میں اضافہ کرنے کی تقریبا” ہر گھر میں محفلیں جمتی ہیں۔
ہمارے ہاں جب کوئی کتاب پانچ سو روپے سے تجاوز کر جائے تو اسے مہنگا قرار دے دیا جاتا ہے اور جوتے کی کوئی قیمت نہیں، میں 1800/2000 سے زیادہ قیمت کا جوتا نہیں خریدتا مگر کتاب کی کوئی حد نہیں ۔ کتاب کی قیمت صفحات سے نہیں اس کی علمی قدر سے ہوتی ہے۔ جو سماج علم پر یقین نہیں رکھتے وہ سماج “ بابوں” کے ایک لائن جملوں میں زندگی تلاش کرنے میں صرف کر دیتے ہیں اور جہالت ان کا مقدر ہوتی ہے ۔
ملک معراج خالد کی رحلت کے بعد ان کی ذاتی لائبریری مجھے عنائت ہوئی، وہ تقریبا” چار ہزار کتابوں پر مشتمل تھی اور سب کتابیں میرے ذوق کے مطابق تھیں، مین نے بہتر سمجھا کہ ان سے صرف میں ہی مستفید نہ ہوؤں ، اس لۓ یہ سب کتابیں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو Donate کر دیں ۔ میری لائبریری میں اس وقت سات ہزار سے زائد کتب ہیں، جبکہ پچھلے دس سالوں سے سینکڑوں کتابیں ہر سال مختلف لائبریریوں کو بھی Donate کرتا رہتا ہوں