مصائب و آلام سے بھری ہوئی اس دنیا میں مسرت کشید کرنے کے لئے قوموں کو اپنی سماجی نفسیات کو ازسر نو مرتب کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر افراد کے چہروں سے کرختگی ختم ہوتی ہے۔ لطیف احساس جنم لیتا ہے۔ نرمی اور معصومیت کے لئے جگہ پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو پیدا کرنے میں خود پر ہنسنا، طنز کو برداشت کرنا اور مزاح کو پروان چڑھانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
مزاح ایک بہت ہی توانا صنف اظہار ہے ۔ یہ خوبی الگ اور منفرد مزاج کے لوگوں کو ودیعت ہوتی ہے ۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ فلاں شخص کا سینس آف ہیومر بہت عمدہ ہے ۔ یعنی لطف انگیز بات کو پرکھنے کی صلاحیت دیگر لوگوں سے زیادہ ہے۔
حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ اس کے لئے کسی کتابی علم کی ضرورت نہیں پڑتی – یہ اکتساب سے حاصل ہوتا ہے۔ زندگی کے روز مرہ کے معاملات، لوگوں کی گفتگو، کوئی واقعہ ، واقعے سے جڑے لوگوں کا ردعمل، کہیں دو اشخاص کے درمیان مکالمه ، مختلف الخیال لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے مکالمے کے دوران یا بعد کی صورت حال ، صاحب اقتدار یا مقتدرہ شخصیات کے فیصلوں کے نتیجے میں جنم لینے والے سوالات ، خیالات، اعتراضات اور ان کے جوابات –
ایسے تمام مواقع پر کوئی انوکھا نکتہ کشید کر لینے کی صلاحیت رکھنے والے لوگ کوئی پر لطف بات یا لطیفہ تشکیل دے لیتے ہیں ۔ اسی کو ہم مزاح کہتے ہیں۔
یہ صلاحیت تعلیم یافتہ اور غیرتعلیم یافتہ دونوں طرح کے افراد میں یکساں ہو سکتی ہے ۔ البتہ اس میں کسی بھی سماج کے کلچر، ثقافت اور تہذیبی روایات کا خاصا دخل ہوتا ہے ۔
جو سماج خوش ہونا جانتے ہیں ۔ خوشی کے موقع کو سیلیبریٹ کرتے ہیں ۔ دو چار چھ یا اس سے زیادہ بڑی ٹولیوں کی شکل میں جمع ہو کر گفتگو کرنے کے بہانے ڈھونڈ تے ہیں ۔ ہنستے بولتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں، گیت گاتے ہیں ۔ وہاں سے کاٹ دار جملے جنم لیتے ہیں اور پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے گروہ تک سفر کرتے ہوئے ایک معنی خیز لطیفے میں ڈھل کر ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ نیا لطیفہ، نیا مزاح یا نئی پُرلطف بات کیسے روزمرہ سےتخلیق ہوتی ہے ۔
ایک بات بہت اہم ہے ۔ وہ یہ کہ کسی بھی سماج میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادث سے اور افراد کی غلطیوں ، خامیوں – حماقتوں اور بے وقوفیوں سے طنز اور مزاح جنم لیتے ہیں۔ جو لوگ خود پر ہنسنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ اتنے ہی زیادہ لطائف اور مزاح تخلیق کرتے ہیں۔
اب میں اس بات کی طرف آتا ہوں جس نے مجھے یہ سب کہنے پر مجبور کیا ۔ گزشتہ چند برسوں میں کچھ اچھا مزاح تخلیق کرنے والوں کی تحریروں میں بہت سطحی رجحانات دیکھنے کو ملے ۔ انہوں نے کچھ نازک اور پرائی حدوں کو پار کرنے کی کوشش کی ہے ۔
وہ حدیں جو ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے،ایک زبان بولنے والوں کو دوسری زبان بولنے والوں سے ، ایک قوم کو دوسری قوم سے اور ایک جنس کو دوسری جنس سے جوڑتی ہیں۔ ان کے درمیان احترام کا رشتہ قائم کرتی ہیں ۔ ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان ریڈ لائنز کو عبور کرے ۔
ایک بہت ہی معتبر مزاح نگار کی تحریروں میں صنف مخالف یعنی خواتین کے حوالوں سے بہت ہی سطحی جملے پڑھنے کو ملے تو بہت کوفت ہوئی۔
ایک صاحب پاکستان سے اور دوسرے پڑوسی ملک انڈیا سے اپنے مزاح میں شریک حیات کو نشانہ بناتے ہیں اور اس سے مزاح تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
حالیہ برسوں میں ایک اور مشہور و معروف شخصیت کی جانب سے لکھے، کہے اور بنائے ہوئے کرداروں کے حوالے سے بھی بہت اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں کہ وہ اپنے مزاح میں دیگر قومیت کے لوگوں کو اپنے تشکیل کردہ کرداروں کے ذریعےتضحیک کانشانہ بناتے ہیں ۔ یہ درحقیقت قابل مذمت عمل ہے ۔
غلطیاں تو ہم سب کرتے ہیں لیکن اگر وہ بار بار دہرائی جائیں تو پھر وہ محض غلطیاں نہیں رہتیں ۔ ہم تو ویسے بھی تہذیبی سطح پر بہت بکھرے ہوئے لوگ ہیں ۔
ہم نے پون صدی قبل زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا اور پھر انسانی تہذیب کے درخشاں حوالوں سے معمور اس زمین کی پانچ ہزار سالہ تاریخ سے خود کو دانستہ کاٹتے ہوئے تہذیبی لحاظ سے خود کو وہ ثابت کرنے کی کوشش کی جو ہم کبھی تھے ہی نہیں ۔ اس بیانیے کی تشکیل کے لئے جھوٹی تاریخ گھڑی گئی اور اس پر فخر کرنے پر زور دیا گیا۔ یوں ہم دولخت ہو گئے۔ ایسی دو یا سہہ لخت قوم جس کی تاریخ میں بے شمار رخنے ہوں ، ذرا مشکل ہی سے خود پر ہنس سکتی ہے۔
خود پر ہنسنا بہت ظرف کی بات ہے اور اجتماعی طور پر یہ ظرف حاصل کرنے میں صدیاں لگتی ہیں۔
ایسا وہاں ہوتا ہے جہاں لوگ فطرت سے پیار کرتے ہوں، جہاں ہر جاندار کو آزادی حاصل ہو، جہاں ہر فرد زندگی کواپنے قائم کردہ اصولوں ، ضابطوں اور آدرشوں کی بنیاد پر تشکیل دے سکتا ہو، جہاں لطیف جذبات کا احترام کیا جاتا ہو، جہاں مختلف الخیال افراد کو با آسانی قبول کیا جاتا ہو، جہاں افراد کواپنی پوشیدہ صلاحیتں دکھانے اور انہیں پیش کرنے کے مواقع میئسرہوں۔ جہاں تعریف کرنے میں بخیلی سے کام کا نہ لیا جاتا ہو۔ وہاں سے گھٹن نکل جاتی ہے، ڈر نکل جاتا ہے ، دباؤ ختم ہو جاتا ہے، لوگ کھل کر بات کرنے لگتے ہیں ، قہقہہ لگانے لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسرت کا اظہار کرنے لگتے ہیں ۔
دھیرے دھیرے یہ رویے اور رجحانات چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں سے بڑے گروہوں میں منتقل ہونے لگتے ہیں اور پھر پوری قوم میں سرائیت کر جاتے ہیں ۔
آنے والا وقت اسے کسی مخصوص کلچر اور تہذیب کا حصہ بنا دیتا ہے اور یوں تاریخ میں وہ کسی قوم کی پہچان کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ ہماری تاریخ میں ایسا وقت کب آئے گا کہ جب ہم لطیف جذبوں ، فطرت سے دوستی، مسرت سے وابستگی اور آزاد ماحول میں قہقہہ لگانے کے قابل ہوں گے ۔ایک ایسا بھرپور قہقہہ جو سماجی اور تہذیبی لحاظ سے ہمیں تاریخ میں امر کردے۔