وہ بیچارگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہا تھا کہ شائد ڈاکٹر کو ترس آ جائے اور وہ مدد کرنے پہ آمادہ ہو جائے لیکن ڈاکٹر سب جانتے ہوئے بھی اس سے نظریں چرا کر دوسرے کاموں میں لگ جاتا تھا۔ ڈاکٹر اپنے ارادوں سے صاف بتا رہا تھا کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کی ساری منتیں، سارا واویلا بیکار گیا تھا۔ اور ڈاکٹر کے کان پہ جوں تک نہ رینگی تھی۔
ساڑھے تین گھنٹے لگے تھے اسے ، شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال پہنچنے میں۔ دو ویگنیں اور ایک رکشہ ملا کر سوا چھ سو روپے کرائے کی مد میں بھی لگ گئے تھے۔ پھر دو گھنٹے ہسپتال میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے کی جو مشقت سہی تھی، وہ الگ تھی۔ بیماری میں اتنی مشکل کوئی کیسے جھیلے بھلا۔
آج تیسری بار وہ علاج کے لیے اس ہسپتال آیا تھا اور آج مصمم ارادہ کر کے آیا تھا کہ اپنا درست علاج کروا کے ہی لوٹے گا۔ کیونکہ اب اس کے اندر ہمت نہیں تھی دوبارہ یہ سب سفر کر کے آنے کی۔ جسم ویسے ہی تکلیف سے چور چور رہتا تھا، ایسے میں ویگنوں میں سفر کرتے ہوئے اسے کبھی کبھی تو لگتا کوئی اس کی ہڈیوں کو ایک سے دوسری جگہ پہ رکھ کر اس کے سارے جسم کا توازن ہی بگاڑتا چلا جا رہا ہے۔
خیر سفر کی مشقت سہہ بھی لیتا تو بار بار اتنا کرایہ لگا کر کیسے آتا۔ اتنے تو اس کے وسائل ہی نہیں تھے کہ ہر بار ساڑھے بارہ سو کرایہ لگا کر ہسپتال کا چکر لگا آئے۔ اسے اپنا باقاعدہ اچھا علاج کروانا تھا کیونکہ اس پہ گھر کی بہت سی ذمہ داریاں تھیں اور بیماری کی وجہ سے وہ کام کرنے سے قاصر ہوا پڑا تھا لیکن ڈاکٹر تھا کہ ہر بار اسے وہی دو گولیاں پکڑا دیتا تھا۔
آج اس نے پکا ارادہ کیا ہوا تھا کہ اس سے پوچھے گا کہ اگر ان گولیوں سے آرام نہیں آ رہا تو مجھے کوئی اور گولی کیوں نہیں دیتے۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد جب وہی گولیاں دینے کا ارادہ کیا تو اس نے وہیں ڈاکٹر کو ٹوک دیا اور کہا کہ میں پہلے دو دفعہ یہی گولیاں لے کر جا چکا ہوں، مجھے آرام نہیں آ رہا۔ آپ مجھے کوئی اور گولی دے دیں، میرے لیے اتنی دور سے بار بار آنا ممکن نہیں۔
ڈاکٹر نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا ، ایک ثانیہ کو چپ رہا اور پھر بولا
“میں جانتا ہوں آپ کی تکلیف ان سے ٹھیک نہیں ہو گی لیکن ہمارے پاس یہی گولیاں ہیں، اور ہم آپ کو بس یہی دے سکتے ہیں۔”
“تو آپ مجھے باہر سے لکھ دیں، میں وہاں سے لے لوں گا” اس نے حل پیش کرتے ہوئے کہا۔
“ہمیں باہر سے دوائی لکھ کر دینے کی اجازت نہیں ہے” ڈاکٹر نے اس کا حل ٹھکراتے ہوئے کہا۔
اس کے بعد مرحلہ آیا منتوں ترلوں کا ، اور وہ ہر طرح سے منت ترلے کر کے کوشش کرتا رہا کہ ڈاکٹر کسی طرح اسے باہر سے دوائی لکھ دے لیکن ڈاکٹر لکھنے پہ تیار نہیں ہوا۔ اس نے اپنی مشکلات بیان کیں، گھر کے معاملات تک بتائے ، اپنی تکلیف کے اثرات کا ذکر کیا لیکن ڈاکٹر بس نفی میں سر ہلا کر اس سے نظریں چراتا رہا۔
نظریں چراتے ہوئے ڈاکٹر کے اپنے دماغ میں جو جنگ چل رہی تھی ، وہ اس کا اظہار کیسے کرتا۔ وہ اس مریض کی تکلیف کو محسوس کر رہا تھا ، اسے دوائی لکھ کر دینا چاہ رہا تھا لیکن اس کی نظروں میں اسی ہسپتال کے ان تین ڈاکٹرز کے چہرے پھر رہے تھے ، جن کو باہر سے دوائی لکھنے کے جرم میں کچھ دن پہلے ہی نوکری سے نکالا گیا تھا۔
ڈاکٹر کو نوکری کرتے ہوئے یہ تیسرا مہینہ تھا ، اس نے یہ نوکری لینے کے لیے کلرک کو اپنے پہلے مہینے کی پوری تنخواہ دی تھی، تب جا کر یہ نوکری ملی تھی۔ دوسرے مہینے کی تنخوا ابھی تک اسے ملی نہیں تھی یعنی ابھی تک وہ اس جاب سے ایک روپیہ بھی نہیں حاصل کر پایا تھا، ایسے میں وہ اس سے محروم ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے وہ اپنے اندر کی جنگ میں اسی بات پہ اڑا ہوا تھا کہ چاہے کچھ ہو جائے میں باہر سے دوائی نہیں لکھ کر دوں گا لیکن منتیں کرتے مریض کو دیکھ کر وہ اپنے اندر کی جنگ ہارنے لگتا تھا ، اس لیے فوراً نظریں چرا لیتا تھا۔
مریض نے موبائل پہ میسج کرنے سے لے کر ، باہر سے خود سادہ کاغذ لا کر اس پہ لکھ کر دینے تک کی درخواست بھی کی تھی لیکن ڈاکٹر ضد پہ اڑا رہا۔ نوکری کے بغیر گزارے پانچ مہینے ، اور ان پانچ مہینوں میں ملنے والے طعنے اس کے اعصاب پہ سوار تھے، اس لیے وہ مریض کو نظرانداز ہی کرتا رہا اور باہر سے دوائی لکھ کر دینے پہ راضی نہیں ہوا۔
مریض نے پوری کوشش کی اور جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو آنکھوں میں آنسو لیے ناکامی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ دوبارہ ڈاکٹر کی دی وہی دو گولیاں اٹھا لیں کہ کچھ نہ ہونے سے ان کا ہونا ہی بھلا۔ جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسو صاف کرتا ہوا وہ باہر کی طرف چل دیا۔ دوسری طرف ڈاکٹر بھی نظریں جھکائے ، اپنی تکلیف چھپائے پلکوں پہ آئی نمی کو واپس دھکیل رہا تھا۔ اس نے نظر اٹھا کر بےبسی سے باہر جاتے مریض کو دیکھا اور جیسے ایک دم شرم سے پانی پانی ہو گیا کہ اس نے مریض کا مرض جانتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک علاج نہیں کیا، اپنے مفاد میں اس مریض کی تکلیف بڑھا دی، اس کا نقصان کر دیا۔ اسے ایک دم اپنے آپ سے گھن آنے لگ گئی تھی۔
مریض ہار گیا تھا ، ڈاکٹر بھی ہار گیا تھا لیکن حکومت جیت گئی تھی۔ جس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے ، ہسپتال کے باہر سے کوئی دوائی نہیں لکھ کر دینی اور ایسا کرنے والے ڈاکٹر کو نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ خالی فارمیسی نے بھی حکومت کو ایسا فیصلہ کرنے سے نہیں روکا، نہ ہی حکومت نے فارمیسی میں ضرورت کی سب دوائیاں پہنچانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی تھی۔ حکومت کو بس جیتنا تھا اور جیت چکی تھی۔
اور اس سب میں ہسپتال کی فارمیسی پہ پڑی وہی دو دوائیاں جیسے انسانیت کا منہ چڑا رہی تھیں۔