دوستو!
آزاد انصاری نے کہا تھا
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے
کیا کسی کو یاد ہے کہ ۱۹۶۰ کے آس پاس حیدرآباد میں نواب مظفر نے کن حالات سے مجبور ہوکر مہاجر اتحاد کونسل نامی تنظیم بنائی تھی۔
یہ ایم کیو ایم کے قیام سے ۲۴ سال پہلے کی بات ہے۔
میں خود کو ہمیشہ اُردو اسپیکنگ سندھی کہتا اور سمجھتا ہوں۔
مجھے اس پر فخر ہے کہ میرے والدین نے نا کسی مکان پر قبضہ کیا، نا کلیم سے کچھ حاصل کیا اور نا ہی اس کا بدل مانگا جو ہندوستان میں چھوڑ آئے تھے۔
میں نے حیدرآباد اور کراچی، دونوں شہروں میں راحت، رفاقت، رقابت اور سوالوں بھری سماجی زندگی گزاری ہے۔
میں نے کبھی کسی لسانی جماعت کو ووٹ نہیں دیا۔ کبھی ان کا جلسہ اٹینڈ نہیں کیا۔ کوئی تقریر نہیں سُنی۔
۱۹۷۹ میں جب بھٹو صاحب اور ۲۰۰۷ میں بی بی کو قتل کیا گیا، وہ دونوں دن میرے لئے بہت تکلیف دہ تھے۔ میں دونوں کو حقیقی لیڈر کی طرح دیکھتا ہوں۔ ( میری آپ بیتی میں اس کا ذکر بھی موجود ہے)
۱۹۸۴سے ۲۰۱۶ تک سرکاری ملازمت کے دوران میں نے انسانی سماج کے جو رُخ دیکھے ہیں اسے بیان کرنے کے لئے مجھے ایک اور آپ بیتی لکھنا پڑے گی، جو کہ بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
محبوب خزاں نے کہا ہے کہ
جسارت دل میں کیا ہو، فن میں کیا ہو
ملازم پیشہ ہیں ڈرتے بہت ہیں
میں ہر طرح کی آمریت کا مخالف ہوں، ضیا کا سخت ناقد مگر مشرف کے چند بہترین کام مثلا نادرہ کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، برتھ، ڈیتھ، نکاح رجسٹریشن سسٹم اور پاکستانی تاریخ کا بہترین بلدیاتی نظام دینے پر انہیں چند رعایتی مارکس دیتا ہوں۔
۲۰۰۸ میں جب پیپلز پارٹی نے بلدیات کے نظام کو تباہ و برباد کیا، تب ان کی ناعاقبت اندیشی پر افسوس ہوا، اور اس دن بہت ہنسی آئی جب کوشش کے باوجود پورے نظام کو جڑ سے نا اُکھاڑ سکے کیونکہ یونین کونسل ہر طرح کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھیں۔ ( یہ موضوع پوری تفصیل کا متقاضی ہے)
اب اچانک گُل سینٹر کے واقعے نے سماج میں ایک دراڑ پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا پر متواتر گالم گلوچ، بدتہذیبی اور نفرت انگیز رکیک جملوں کی ہوا چل پڑی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ میں اس لہر میں خاصے سلجھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی بہتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔بعض رکیک جملے یوں محسوس ہوئے جیسے کسی نے مجھے براہ راست کہے ہوں۔میری شناخت پر سوال اُٹھادیا ہو۔ میں چھیانسٹھ برس کا ہوں اور کم و بیش اتنے برس پہلے ہی حیدرآباد میں نواب مظفر نے کسی جذباتی لمحے میں اُس نام سے تنظیم بنائی تھی جسے آج گالی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔
ہمارے دوستوں کو وہ بدین والے مرزا صاحب تو ضرور یاد ہوں گے۔ شاید حبیب جالب انہی کے بارے میں کہہ گئے ہیں کہ:
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا
چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے
تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا