گزشتہ دنوں بچوں کو ٹرین کا سفر کروایا۔ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ گاڑی پارکنگ میں چھوڑی۔ انفارمیشن کاؤنٹر سے معلومات لیں۔ ٹیکسلا کے ٹکٹ کٹوائے۔ بڑوں کا فل، بچوں کا آدھا۔ دن ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ ٹرین کے آنے میں کچھ دیر۔ پلیٹ فارم کو ایکسپلور کیا۔ بچے یہ سب پہلی بار دیکھ رہے تھے۔ ایکسائٹڈ تھے۔ چائے وغیرہ پینے تک تقریبا 3 بجے ہزارہ ایکسپریس آئی۔ اندر داخل ہوئے۔ صفائی کا برا حال۔ بدبو۔ ٹوائلٹ انتہائی گندے۔ ایک سیٹ آمنے سامنے والی خالی تھی۔ بے بی کے وائپس تھے۔ انہیں سے سیٹیں اور ٹیبل اچھی طرح صاف کر کے بیٹھے۔ بچوں کو برتھ کی کھیل مل گئی۔ کبھی اوپر بیٹھیں تو کبھی نیچے۔ کھڑکی سے باہر کے نظارے۔ راستے میں گولڑہ اور سنگجانی ریلوے اسٹیشن پر سٹاپ ہوا اور ٹیکسلا پہنچ کر ہم اتر گئے۔ انفارمیشن کاؤنٹر سے پوچھا کہ یہاں سے واپس راولپنڈی ٹرین کس وقت جائے گی؟ کہ ہمارا مقصد صرف ٹرین کا سفر کرنا اور بچوں کو ایک نئی چیز سکھانا اور دکھانا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ ٹرین حویلیاں جائے گی اور پھر وہاں سے واپس آئے گی۔ تقریبا 8 بج جائیں گے۔ یہی ٹرین واپس راولپنڈی جائے گی۔ پوچھا اتنی دیر کیا کریں؟ بولا ٹیکسلا گھومیں۔ ٹیکسلا میوزیم کال کی۔ پتہ چلا وہ چھٹی کی وجہ سے بند ہے۔ انتظامیہ کو کوئی بتائے کہ چھٹی والے دن ایسی جگہوں کو کھلا رکھنا ہوتا ہے کہ چھٹی والے دن ہی لوگ باہر نکلتے اور وزٹ کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں الٹا نظام ہے۔
رکشہ لیا اور ٹیکسلا بازار چلے گئے۔ بازار کے تقریبا شروع میں ہی ایک مٹھائی کی دکان والے کی ایمانداری دل کو بہت بھائی۔ اس نے دکان کے باہر "کفن دستیاب ہے” کے دو چھوٹے پینا فلیکس بھی لگا رکھے تھے۔ مجھے اس دکان کا نام یاد نہیں رہا۔ تصویر بھی نہیں لے سکا۔ ہاں، اس کے ساتھ والی دکان کا نام "یعقوب پنسار سٹور” تھا۔ ٹیکسلا سے کوئی بھائی اس سویٹ شاپ کی کفن والے بینر کے ساتھ تصویر بھیج سکے تو شکر گزار ہوں گا۔ ایمانداری اس دکان والے کی یہ تھی کہ کفن کے بینر کی صورت مٹھائی کے گاہکوں کو تنبیہہ بھی کر رکھی ہے کہ جتنا زیادہ میٹھا کھاؤ گے، قبر کے پاس اتنا جلد جاؤ گے۔ اگر یہاں بار بار او گے تو یقینا کفن کی ضرورت جلد پڑے گی۔ مٹھائی بھی یہیں سے اور کفن بھی یہیں سے کی سہولت دستیاب ہے۔ کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں۔
خیر، مذاق برطرف۔ یہ اتفاق ہے یا سویٹ شاپ والے نے واقعی اسی ذہن کے ساتھ یہ بینر لگا رکھا ہے، اندازہ نہیں۔ اگر اس نے قصدا لگا رکھا ہے تو اس کی ایمانداری کو سلام۔ کہ گاہکوں کو نقصان بتا کر مٹھائی بیچ رہا ہے۔
کچھ دیر ٹیکسلا کے بازار گھومے۔ پھر واپسی ریلوے اسٹیشن کی راہ لی۔ پلیٹ فارم پر ایک بابا جی کے ڈھابے سے چائے بنوائی۔ انہوں نے لکڑیوں کا ایک الاؤ بھی جلا رکھا تھا۔ رات کا وقت، ہلکی ہلکی ٹھندی ہوا، پلیٹ فارم کے بینچ، لکڑیوں کی اگ، بیگم اور بچوں کا ساتھ۔ تیز پتی، بغیر میٹھے کے۔ گرما گرم اور کڑک چائے۔ واللہ، لطف آ گیا۔ ایک ایک چسکی سے مزہ کشید کیا۔ روح سرشار۔
ویٹنگ روم میں انتظار کیا۔ تقریبا ساڑھے 8 بجے ٹرین ا گئی۔ بیٹھے اور واپس پنڈی۔
گاڑی نکالنے لگے تو پارکنگ والے نے کہا کہ آپ کی گاڑی تین گھنٹے سے زیادہ پارک رہی ہے۔ پیسے اس حساب سے دینا پڑیں گے۔ پوچھا، بھیا یہ کہاں لکھا ہے؟ بولا سر پرچی پر لکھا ہے۔ دیکھا تو واقعی ایسا درج تھا۔ پوچھا کہ جو ایکسٹرا پیسے لے رہے ہو ان کا کوئی حساب کتاب یا اس کی کوئی پرچی؟ کہتا سر وہ میں خود ٹھیکیدار کو بتا دوں گا۔
بچوں نے بہت انجوائے کیا۔ میرے ساتھ بیگم اور چھوٹے بھائی کی بیگم اور ان کی یہ ننھی پری بھی تھی۔ یہ ایک منفرد ایکٹیویٹی تھی۔ ٹرین میں صفائی ہوتی تو لطف مزید دوبالا ہوتا۔ ریلوے حکام سے گزارش ہے کہ ٹرینوں میں صفائی کے معیار پر توجہ دیں۔ مسافروں سے بھی درخواست ہے کہ اگر کچھ کھائیں پئیں تو کچرے وغیرہ کیلئے اپنے ساتھ ایک خالی شاپر رکھیں جو اپنی منزل پر اترتے ہوئے کسی کچرا دان میں ڈال دیں۔ ہر پلیٹ فارم پر جا بجا ڈسٹ بن لگے ہوئے تھے۔
نوٹ: راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر ایک وی آئی پی ٹائپ ویٹنگ ایریا الگ سے بنا ہوا ہے۔ 300 فی کس۔ آپ ان پیسوں میں یہاں 3 گھنٹے تک بیٹھ سکتے ہیں۔ ٹرین کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ان پیسوں میں چائے کا کپ بھی ملے گا اور ساتھ بسکٹ بھی۔ آپ نے ٹرین کا سفر نہیں بھی کرنا تو یہ جگہ چائے اور گپ شپ کیلئے مناسب پیسوں میں ایک اچھا سپاٹ ہے۔ یہاں صفائی شاندار تھی۔ میرا زندگی کا یہ ٹرین کا شاید تیسرا یا چوتھا سفر تھا۔ بچوں کا پہلا۔ انہوں نے صرف فلموں میں ٹرین دیکھی تھی۔ اب کبھی نہیں بھولیں گے۔ ذہن پر نقش رہے گا۔ کم پیسوں میں ایک شاندار سیکھ۔ موقع ملے تو آپ بھی اپنے بچوں کو روایتی ٹرین کا سفر کروائیں۔ ریلوے اسٹیشن دکھائیں۔ اس کی تاریخ بتائیں۔ ٹرین کی ایجاد، اہمیت، اس کا ارتقا بتائیں۔