Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار

احمد تراث

کی طرف سے Ranaayi فروری 23, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 23, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
33

یادش بخیر، ہم دو دوست مسجد وزیر خان کے مناروں کے سائے تلے ٹھنڈے میٹھے موسم میں خریداری کرتے تھے کہ ایک مخملی شال کا بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے بوڑھے دکاندار نے اچانک پوچھا کہ کیا آپ لوگ امرتسری ہیں؟ ایک لمحے میں شال وہیں رہ گئی اور اس کے گل بوٹوں میں امرتسر کا نقشہ دکھائی دینے لگا۔ حیرت سے خود کو اچھی طرح دیکھا کہ ہم کہاں سے اور کیسے پاکستانی نہیں لگ رہے ۔ حیرت اور تشویش تب دور ہوئی جب سفید ریش بزرگ نے بتایا کہ میں بھی امرتسری ہوں اور آپ دونوں نوجوانوں کی پنجابی گفتگو سن کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کے آباء و اجداد امرتسر سے آئے ہوں گے۔ بزرگ نے بالکل ٹھیک پہچانا تھا اور ان کا بیان ہمیں ایک سند محسوس ہوا جس پر خوشی بھی ہوئی اور فخر بھی ہوا کہ ہمارے آباء و اجداد نے ہماری امرتسری پنجابی زبان کو نخالص نہ ہونے دیا۔ یہ بات ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کا پہلا اور تازہ سفرنامہ پڑھ کر یاد آئی جس میں تقریبا اکیس عنوانات ہیں اور فہرست دیکھ کر سوچا تھا کہ کتاب ایک دو دن میں ختم نہیں کرنی بلکہ ہر روز ایک ایک عنوان ہی پڑھنا ہے تا کہ اس سرور میں کئی دن گزارے جا سکیں جس کا سلسلہ واہگہ بارڈر کے پار، امرتسر سے لیکر حضرتِ نظامِ عالم و عالم پناہی اور طوطئ ہند امیر خسروِ شیریں زبان تک اور مہرولی و چاندنی چوک وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سفرنامے میں یوں تو دہلی اور اس کے مضافات کا ذکر بھی موجود ہے جو ظاہر ہے کہ تارڑ صاحب کے ‘سنہری الو کا شہر’ سے قدرے مختلف ذائقے کا حامل ہے۔ اور ظفر علی راجا کے ‘بھارت یاترا’ سے بھی الگ چیز ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں پنجابی زبان کی آمیزش کچھ زیادہ ہے جس کا اردو ترجمہ ایک نیا رنگ پیدا کرتا ہے۔ ظفر علی راجا نے تو سفرنامے میں امرتسر کی سیر کا احوال بھی لکھا ہے جو غالبا عطاء الحق قاسمی کے سفرنامہ ہند میں موجود نہیں ہے، یا پہلی بار کے سفر میں نہیں۔

لیکن امرتسر کے ریلوے جنکشن، بلکہ اس سے پہلے اور بعد، یعنی واہگہ سے امرتسر پہنچنے اور امرتسر جنکشن سے شہر کی حدود پار کرتے ہوئے، بس اور ٹرین میں سے امرتسر کی جھلک دکھاتے ہوئے ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کے بیان میں جو شیرینی ہے وہ گویا محبوب کو دور سے دیکھنے یا آنکھ بند کر کے تصور میں خیالِ یار باندھنے جیسا سحر انگیز عمل ہے۔

ڈاکٹر رانجھا نے امرتسر کا ذکر کر کے ویسے تو دل کے سبھی تار چھیڑ دیے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ صرف بدن کے ڈاکٹر نہیں، قلم کے بھی ڈاکٹر ہیں۔ وہ انتظار گاہ جو امرتسر کے ریلوے جنکشن میں تھی اور ڈاکٹر رانجھا سمیت ان کے قافلے کے کسی فرد کو اس ایک کمرے سے باہر نکلنے یا کسی سول ہندوستانی کو ان کے پاس آنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ یہ قافلہ سرکاری پروٹوکول میں حضرت امیر خسرو کے عرس ہر دہلی جا رہا تھا، وہاں دو کردار ایسے نظر آتے ہیں جو حقیقی ہیں مگر افسانوی معلوم ہوتے ہیں اور پڑھنے والا حیران ہوتا ہے کہ وہ سفرنامہ پڑھ رہا ہے یا افسانہ!

ایک تو ہے پٹواری ہریش صابری، معلوم نہیں کہ اب وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ نہ بھی ہوا تو اس کی اولاد بھی خود کو اسی طرح صابری لکھتی اور حضرت علی احمد صابر کَلیَری کا عقیدتمند کہتی ہو گی۔ کیونکہ یہ خاندان نہ جانے کب سے حضرت صابر پیا کی عقیدتمند کا اسیر ہے اور پاکستان سے مختلف اعراس پر سرحد پار جانے والے قافلوں کی راہ تکتا رہتا ہے اور ریلوے اسٹیشن پر ان کی ایسی مدارات کرتا ہے کہ آدمی پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر احمد حسن رانجھا نے اپنے سفرنامے میں اس مدارات کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کو پڑھ کر نظروں میں رنگ برنگے خوشبودار کھانوں اور مشروبات کے مناظر گھوم جاتے ہیں جن کی خوشبو مشام جاں کو معطر کرتی ہے اور ٹھنڈک روح تک اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر وہ الائچی والی چائے!؟ اس کی گرمائش سے تو جذبات پگھلنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ ماکولات و مشروبات کا سلسلہ، جو زلف جاناں کی طرح دراز ہے، پڑھنے سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ صابر پیا جیسے صوفی کی عقیدت دیار غیر میں کیسی کیسی مدارات کروا سکتی ہے۔

دوسرا کردار وہاں کے ایک پولیس افسر کا ہے جو زائرین کے قافلے کی حفاظت پر مامور تھا۔ قافلے والوں نے جب ہریش صابری کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اسٹیشن پر چہل قدمی کی اجازت مانگی تو اسی پٹواری کی منت سماجت کے بعد سکیورٹی والوں نے اجازت دے دی جس کے بعد ڈاکٹر رانجھا کا سامنا ہوا ایک اے ایس آئی سے جس کے سینے پر امر سنگھ چیمہ کا بیج لگا ہوا تھا۔ دونوں کے درمیان پنجابی میں کچھ گفت و شنید ہوئی جس میں امرتسر پولیس کا افسر ڈاکٹر رانجھا کی بولی سن کر ان کو لاہوریا ماننے کو تیار نہ تھا بلکہ خود کو اصلی لاہوریا کہتا تھا اور بتاتا تھا کہ جو زبان مَیں بول رہا ہوں، یہ ہے لاہور کی اصل زبان۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم تقسیم سے پہلے لاہور میں قلعہ گجر سنگھ میں رہتے تھے اور لاہور کی بولی کو ہمارے بزرگوں نے سینے سے لگا کر رکھا ہے اور ہمیں بھی وہی بولی سکھائی ہے۔ یہ منظر بہت جذباتی ہو جاتا ہے جب پولیس افسر یہ بتاتا ہے کہ میرے والد آج بھی لاہور کو یاد کر کے روتے ہیں۔ ان کی بینائی جاتی رہی ہے، لیکن لاہور کی یادوں کی روشنی باقی ہے، جب بھی لاہور کا ذکر ہوتا ہے ان کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگتی ہیں۔ وہ یہ بتاتے ہوئے خود بھی رونے لگتا ہے کہ جب میں نے اپنے والد کو بتایا کہ لاہور سے مہمان آ رہے ہیں اور میری ڈیوٹی ان کی سکیورٹی پر لگی ہے تو انہوں نے بہت اصرار کیا کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔ لیکن چونکہ قافلے کے پاس کسی سول آدمی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں ان کو گھر پر روتا ہوا ہی چھوڑ آیا ہوں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟
  • اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ
  • ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی
  • آموں کی پیٹی سے آج تک
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی
اگلی تحریر
معین نظامی کی مخطوطہ شناسی

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

فروری 20, 2026

دو اہم افسانوں کا تذکرہ

جنوری 2, 2026

یہ کون ہے احمد شاہ؟

دسمبر 31, 2025

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

فیس بک کی دنیا

فروری 9, 2026

پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی

فروری 22, 2026

خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

مارچ 1, 2026

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

اکیسویں صدی میں اتارے ہوئے لوگ

جنوری 1, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

رہنما، جو غداروں کے باعث مارے...

مارچ 1, 2026

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں...

جنوری 5, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here