یادش بخیر، ہم دو دوست مسجد وزیر خان کے مناروں کے سائے تلے ٹھنڈے میٹھے موسم میں خریداری کرتے تھے کہ ایک مخملی شال کا بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے بوڑھے دکاندار نے اچانک پوچھا کہ کیا آپ لوگ امرتسری ہیں؟ ایک لمحے میں شال وہیں رہ گئی اور اس کے گل بوٹوں میں امرتسر کا نقشہ دکھائی دینے لگا۔ حیرت سے خود کو اچھی طرح دیکھا کہ ہم کہاں سے اور کیسے پاکستانی نہیں لگ رہے ۔ حیرت اور تشویش تب دور ہوئی جب سفید ریش بزرگ نے بتایا کہ میں بھی امرتسری ہوں اور آپ دونوں نوجوانوں کی پنجابی گفتگو سن کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کے آباء و اجداد امرتسر سے آئے ہوں گے۔ بزرگ نے بالکل ٹھیک پہچانا تھا اور ان کا بیان ہمیں ایک سند محسوس ہوا جس پر خوشی بھی ہوئی اور فخر بھی ہوا کہ ہمارے آباء و اجداد نے ہماری امرتسری پنجابی زبان کو نخالص نہ ہونے دیا۔ یہ بات ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کا پہلا اور تازہ سفرنامہ پڑھ کر یاد آئی جس میں تقریبا اکیس عنوانات ہیں اور فہرست دیکھ کر سوچا تھا کہ کتاب ایک دو دن میں ختم نہیں کرنی بلکہ ہر روز ایک ایک عنوان ہی پڑھنا ہے تا کہ اس سرور میں کئی دن گزارے جا سکیں جس کا سلسلہ واہگہ بارڈر کے پار، امرتسر سے لیکر حضرتِ نظامِ عالم و عالم پناہی اور طوطئ ہند امیر خسروِ شیریں زبان تک اور مہرولی و چاندنی چوک وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سفرنامے میں یوں تو دہلی اور اس کے مضافات کا ذکر بھی موجود ہے جو ظاہر ہے کہ تارڑ صاحب کے ‘سنہری الو کا شہر’ سے قدرے مختلف ذائقے کا حامل ہے۔ اور ظفر علی راجا کے ‘بھارت یاترا’ سے بھی الگ چیز ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں پنجابی زبان کی آمیزش کچھ زیادہ ہے جس کا اردو ترجمہ ایک نیا رنگ پیدا کرتا ہے۔ ظفر علی راجا نے تو سفرنامے میں امرتسر کی سیر کا احوال بھی لکھا ہے جو غالبا عطاء الحق قاسمی کے سفرنامہ ہند میں موجود نہیں ہے، یا پہلی بار کے سفر میں نہیں۔
لیکن امرتسر کے ریلوے جنکشن، بلکہ اس سے پہلے اور بعد، یعنی واہگہ سے امرتسر پہنچنے اور امرتسر جنکشن سے شہر کی حدود پار کرتے ہوئے، بس اور ٹرین میں سے امرتسر کی جھلک دکھاتے ہوئے ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کے بیان میں جو شیرینی ہے وہ گویا محبوب کو دور سے دیکھنے یا آنکھ بند کر کے تصور میں خیالِ یار باندھنے جیسا سحر انگیز عمل ہے۔
ڈاکٹر رانجھا نے امرتسر کا ذکر کر کے ویسے تو دل کے سبھی تار چھیڑ دیے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ صرف بدن کے ڈاکٹر نہیں، قلم کے بھی ڈاکٹر ہیں۔ وہ انتظار گاہ جو امرتسر کے ریلوے جنکشن میں تھی اور ڈاکٹر رانجھا سمیت ان کے قافلے کے کسی فرد کو اس ایک کمرے سے باہر نکلنے یا کسی سول ہندوستانی کو ان کے پاس آنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ یہ قافلہ سرکاری پروٹوکول میں حضرت امیر خسرو کے عرس ہر دہلی جا رہا تھا، وہاں دو کردار ایسے نظر آتے ہیں جو حقیقی ہیں مگر افسانوی معلوم ہوتے ہیں اور پڑھنے والا حیران ہوتا ہے کہ وہ سفرنامہ پڑھ رہا ہے یا افسانہ!
ایک تو ہے پٹواری ہریش صابری، معلوم نہیں کہ اب وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ نہ بھی ہوا تو اس کی اولاد بھی خود کو اسی طرح صابری لکھتی اور حضرت علی احمد صابر کَلیَری کا عقیدتمند کہتی ہو گی۔ کیونکہ یہ خاندان نہ جانے کب سے حضرت صابر پیا کی عقیدتمند کا اسیر ہے اور پاکستان سے مختلف اعراس پر سرحد پار جانے والے قافلوں کی راہ تکتا رہتا ہے اور ریلوے اسٹیشن پر ان کی ایسی مدارات کرتا ہے کہ آدمی پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر احمد حسن رانجھا نے اپنے سفرنامے میں اس مدارات کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کو پڑھ کر نظروں میں رنگ برنگے خوشبودار کھانوں اور مشروبات کے مناظر گھوم جاتے ہیں جن کی خوشبو مشام جاں کو معطر کرتی ہے اور ٹھنڈک روح تک اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر وہ الائچی والی چائے!؟ اس کی گرمائش سے تو جذبات پگھلنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ ماکولات و مشروبات کا سلسلہ، جو زلف جاناں کی طرح دراز ہے، پڑھنے سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ صابر پیا جیسے صوفی کی عقیدت دیار غیر میں کیسی کیسی مدارات کروا سکتی ہے۔
دوسرا کردار وہاں کے ایک پولیس افسر کا ہے جو زائرین کے قافلے کی حفاظت پر مامور تھا۔ قافلے والوں نے جب ہریش صابری کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اسٹیشن پر چہل قدمی کی اجازت مانگی تو اسی پٹواری کی منت سماجت کے بعد سکیورٹی والوں نے اجازت دے دی جس کے بعد ڈاکٹر رانجھا کا سامنا ہوا ایک اے ایس آئی سے جس کے سینے پر امر سنگھ چیمہ کا بیج لگا ہوا تھا۔ دونوں کے درمیان پنجابی میں کچھ گفت و شنید ہوئی جس میں امرتسر پولیس کا افسر ڈاکٹر رانجھا کی بولی سن کر ان کو لاہوریا ماننے کو تیار نہ تھا بلکہ خود کو اصلی لاہوریا کہتا تھا اور بتاتا تھا کہ جو زبان مَیں بول رہا ہوں، یہ ہے لاہور کی اصل زبان۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم تقسیم سے پہلے لاہور میں قلعہ گجر سنگھ میں رہتے تھے اور لاہور کی بولی کو ہمارے بزرگوں نے سینے سے لگا کر رکھا ہے اور ہمیں بھی وہی بولی سکھائی ہے۔ یہ منظر بہت جذباتی ہو جاتا ہے جب پولیس افسر یہ بتاتا ہے کہ میرے والد آج بھی لاہور کو یاد کر کے روتے ہیں۔ ان کی بینائی جاتی رہی ہے، لیکن لاہور کی یادوں کی روشنی باقی ہے، جب بھی لاہور کا ذکر ہوتا ہے ان کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگتی ہیں۔ وہ یہ بتاتے ہوئے خود بھی رونے لگتا ہے کہ جب میں نے اپنے والد کو بتایا کہ لاہور سے مہمان آ رہے ہیں اور میری ڈیوٹی ان کی سکیورٹی پر لگی ہے تو انہوں نے بہت اصرار کیا کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔ لیکن چونکہ قافلے کے پاس کسی سول آدمی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں ان کو گھر پر روتا ہوا ہی چھوڑ آیا ہوں۔