Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)

طاہر چوہدری ایڈووکیٹ

کی طرف سے Ranaayi فروری 15, 2026
کی طرف سے Ranaayi فروری 15, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
34

ایک نوجوان کو 2018 میں قتل کیا گیا۔ والد کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ مقدمے میں 6 لوگوں کو نامزد کیا گیا جن میں ایک خاتون بھی تھی۔ ان 6 لوگوں میں سے ایک کے بارے یہ بتایا گیا کہ اس نے مقتول کو گولی ماری لیکن وہ اسے لگی نہیں۔ ایک پر الزام لگایا گیا کہ اس نے سر میں گولی ماری جس سے نوجوان کی موت واقع ہو گئی۔ مقدمے کے باقی 4 ملزمان پر الزام یہ تھا کہ وہ موقع پر موجود تھے۔ 2 نے مقتول کو جکڑ رکھا تھا جبکہ دو للکارے مار رہے تھے کہ اسے قتل کر دو۔ یہ مقدمہ چلا۔ ٹرائل کورٹ نے 5 ملزمان کو بری کر دیا جبکہ ایک کو سزا سنائی۔ گردن سے لٹکایا جائے جب تک جان نہ نکل جائے۔ ساتھ ورثا کو 2 لاکھ ہرجانہ بھی دینے کا پابند ہو گا۔ سزا یافتہ ملزم نے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائیکورٹ میں یہ کیس میرے پاس آیا۔ گزشتہ کچھ پیشیوں پر چلتا رہا۔ آج جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس امجد رفیق پر مشتمل ڈویزن بنچ نے سماعت کی۔ میں مقتول کے ورثا کی طرف سے تھا۔

میرا مقدمہ کمزور تھا۔ نوجوان قتل تو ہوا تھا لیکن ورثا نے اپنا کیس خود خراب کیا۔ وجوہات درج ذیل تھیں۔

1۔ مقتول کو ایک فائر لگا۔ کوئی اور زخم/فائر آرم انجری نہیں تھی۔ مقتول پارٹی نے مخالف خاندان کے 6 لوگوں کو نامزد کر دیا۔ ایسا عموما فریق مخالف سے بدلہ لینے کیلئے کیا جاتا ہے کہ موقع ملا ہے تو ان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جیل پہنچایا جائے۔ ایسا کرنے سے وقتی طور پر تو شاید دل کو کوئی تسکین ہو کہ قتل کے کیس میں خاص طور پر فوری چھاپے اور گرفتاریاں ہوتی ہیں لیکن وقوعے میں ان لوگوں کو انوالو کرنا جو وہاں موجود نہیں تھے۔ جن کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جن کو کوئی رول ایٹریبیوٹ نہیں تھا۔ ایف آئی آر میں آمیزش اور تضادات گواہوں کے بیانات، حالات و واقعات، جرح وغیرہ کے دوران کھل کر سامنے آتے ہیں۔ اس کیس میں بھی یہی ہوا۔ ٹرائل کورٹ نے کہانی میں تضٖادات آنے کی وجہ سے 5 ملزمان کو بری کر دیا جبکہ صرف ایک کو سزا سنائی۔

2۔ کسی ایف آئی آر میں تقریبا تمام لوگوں کو بری کر دیا جائے تو باقی بچ رہنے والے کا کیس بھی نسبتا آسان ہو جاتا ہے کہ فوجداری قانون میں اصول ہے کہ اگر کہانی میں شکوک و شبہات پیدا ہوجائیں تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔ چاہے سو گناہ گار چھوٹ جائیں لیکن کوئی بیگناہ پھانسی نہ چڑھے لہذا جہاں بھی کہانی میں تھوڑا ڈینٹ پڑے، جھول ہوں اسے مشکوک سمجھا جائے۔ اسکا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔ میرے مقدمہ میں اس ایک سزا یافتہ ملزم کو یہ ایج حاصل تھا کہ باقیوں کو شک کا فائدہ دے کر، موقع پر عدم موجودگی وغیرہ کا کہہ کر بری کیا گیا ہے۔ مطلب کہانی جھوٹی کہی گئی۔ یہ قاعدہ اب اس باقی ایک ملزم پر بھی لاگو ہونے کا امکان بڑھ گیا۔

3۔ وقوعہ میں مقتول کا والد کہتا ہے کہ زخمی ہونے پر میں اپنے بیٹے کو ایک راہگیر موٹرسائیکل والے کے ساتھ اٹھا کر ہسپتال لے کر گیا دوسری طرف مقتول کے بھائی کے بیانات (جرح) میں اس کا کہنا تھا کہ مقتول کو وہ اٹھا کر ہسپتال لے کر گیا تھا جبکہ اسی بھائی نے وقوعے کے فوری بعد پولیس کو دیے گئے اپنے 161 کے بیان میں اس کے برعکس کہا تھا کہ ان لوگوں نے زخمی (مقتول) کو دو موٹرسائیکل سواروں کے ہاتھ ہسپتال بھجوایا تھا۔ وہ ان کے پیچھے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال پہنچنے پر جس میڈیکل آفیسر نے زخمی کو ٹریٹ کیا اس کا بیان تھا کہ باپ یا بھائی نہیں بلکہ دو نامعلوم لوگ لے کر آئے۔ یہ تضاد بڑا واضح اور میرے کیس کیلئے ڈیمجنگ تھا۔

4۔ مدعی (مقتول کے والد) اور دوسرے عینی شاہد (مقتول کے بھائی) نے اپنے بیانات میں جس دوسرے ملزم کو نامزد کیا تھا کہ اس نے بھی مقتول پر گولی چلائی تھی لیکن وہ لگی نہیں تھی، کے بارے میں جرح میں یہ بیان دے دیا کہ ہم نے اسے شک کی بنیاد پر نامزد کیا تھا۔ یہ ملزم موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔ مطلب یہ کہ اس طرح کا بیان دے کر مقتول پارٹی نے اپنے پاوں پر مزید کلہاڑی ماری۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دن کی روشنی میں وقوعہ ہو اور آپ ایک شخص پر اپنے بیٹے پر گولی چلانے کا الزام لگائیں۔ اسے ایف آئی آر میں نامزد کریں اور بعد میں کہیں کہ اسے شک کی بنیاد پر نامزد کیا تھا۔ وہ وہاں تھا ہی نہیں۔ وکیل سوال پوچھے تو جواب دیں کہ اس ملزم کے ساتھ صلح ہو گئی ہے۔ یہ پوائنٹ بھی میرے لئےشدید نقصان دہ تھا۔

5۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے جو خول برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر بعد میں ریکور کئے گئے پستول اور ان گولیوں کے خول کے فارنزک کروائے جانے پر پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے رپورٹ دی کہ پستول تو ورکنگ کنڈیشن میں ہے لیکن یہ خول جو تجزیے کیلئے بھیجے گئے ہیں اس پستول سے فائر نہیں ہوئے۔ یہ نیگیٹو رپورٹ میرے لئے نقصان دہ تھی۔ (پولیس نے گرفتار ملزم سے پستول کی جو ریکوری پلانٹ کی وہ ٹھیک مینج نہیں کی گئی)

6۔ قتل دن 4 بجے ہوا۔ ایف آئی آر اگلے دن صبح 9 بجے درج کرائی گئی۔ اگرچہ ورثا اس دوران ہسپتال میں بھاگ دوڑ کرتے رہے لیکن وقوعہ کو رپورٹ کرنے میں یہ تاخیر بھی میرے کیس کیلئے نقصان دہ تھی۔

7۔ تمام نامزد ملزمان کی سی ڈی آر تفتیش ریکارڈ کا حصہ تھی۔ وقوعہ کے وقت تمام کے تمام کی لوکیشن مختلف جگہ کی آئی تھی۔ مطلب وہ ایک جگہ پر موجود ہی نہیں تھے۔ مل کر حملہ کرنے کا موقف مزید کمزور ہوا۔ یہ نکتہ بھی میرے مقدمے کیلئے پریشان کرنے والا تھا۔

میرے پاس جب یہ کیس آیا تو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ معاملات گڑ بڑ ہیں۔ نوجوان قتل تو ہوا۔ اور قتل بھی اسی ملزم نے کیا جو گرفتار ہے لیکن کہانی اور بیانات میں تضادات نے ورثا کا کیس خراب کیا ہے۔ یہ لوگ اسی مشکوک کہانی کی وجہ سے 5 بندے ٹرائل کورٹ سے بری کروا آئے تھے جس بریت کیخلاف انہوں نے کبھی اپیل بھی فائل نہیں کی تھی۔ وکیل دوست جانتے ہیں کہ ایک مقدمہ میں ٹرائل کورٹ میں ہی زیادہ تر ملزم بری ہوجائیں اور اسے چیلنج بھی نہ کیا جائے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ٹھیک سمجھ کر مان لیا۔ اب اس باقی بچ رہنے والے ملزم کو بھی اس بنیاد پر ہی اگلی عدالت سے ریلیف ملنے کے امکان بڑھ گئے کہ باقیوں کے بارے کہا گیا کہ کہانی مشکوک ہے۔ تو یہ اصول اس ملزم پر بھی اپلائی کیا جائے۔ کہانی مشکوک ہو گئی تو فائد ملزم کو۔ کیس لے کر آنے والوں کو بتایا کہ یہ غلطیاں ہیں اور یہ امکانات ہیں۔ دوسری طرف سے کوئی کمزور وکیل بھی ہو تو اتنے سارے تضادات کی موجودگی میں کم ہی چانس ہیں کہ ہائیکورٹ اسے بری نہ کرے۔ اس بات کا مدعی پارٹی کو خود بھی تھوڑا بہت اندازہ تھا۔

ہم کولیگز کی بھی یہی رائے تھی کہ یہ بریت کا کیس ہے۔ ہمارا مقدمہ کمزور ہے۔ متاثرہ فیملی نے اپنی کم علمی یا زیادہ لوگوں کو پھنسانے کی کوشش کی وجہ سے خود اپنا کیس خراب کیا۔

آج اس کیس کی سماعت تھی۔ کچھ مد مخالف وکیل صاحب کی مہربانی کہ وہ کوئی بہتر تیاری کر کے نہیں آئے تھے کچھ تھوڑی میری محنت کہ ہائیکورٹ نے ملزم کو بری و رہا کرنے کا حکم نہیں دیا تاہم اس کی پھانسی کی سزا کم کر کے عمر قید میں بدل دی۔ کیس فائل دیکھتے ہوئے یہ میری کامیابی تھی۔ یہ میرے لئے بڑا ریلیف تھا۔

اس مقدمے کی کہانی میں سبق ہے۔ اگر کوئی وقوعہ ہو جائے تو کوشش کریں کہ جو سچ ہے اس کی بنیاد پر ہی مقدمہ کھڑا کیا جائے۔ کوشش کریں اس میں آمیزش نہ کی جائے۔ جو لوگ وقوعے میں انوالو تھے انہیں ہی رکھیں۔ جن کا کوئی تعلق نہیں تھا یا جو وہاں موجود نہیں تھے صرف مدمقابل کو نقصان پہنچانے کیلئے ان کے نام شامل نہ کریں۔ آپ کہانی بنانے کی کوشش کریں گے تو گواہوں کو الجھانا، ان کے بیانات میں تضادات پیدا کرنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا۔ گواہ اصلی ہوں گے تو وہ وہی بیان کریں گے جو حقیقت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ گواہوں کے بیانات میں تضادات سے جھوٹے ملزم تو بچیں گے ہی ساتھ اصلی ملزم کو بھی ریلیف مل جائے گا۔

آج کے دن، 2024 کی پوسٹ۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ میں ممدانی اور قرآن
  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • یہ کون ہے احمد شاہ؟
  • قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
خود کش حملے کیسے ختم ہوں؟
اگلی تحریر
اچھی بہو، نیک داماد (چند قابل غور معاشرتی پہلو)

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

ادبی میلوں کا ایک توجہ طلب پہلو

دسمبر 29, 2025

قبائلی بیٹیوں کے خواب اور خاموش دیواریں

فروری 25, 2026

میرا کراچی

دسمبر 24, 2025

اے آئی کی کلہاڑی

دسمبر 31, 2025

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

آموں کی پیٹی سے آج تک

مارچ 1, 2026

پاکستان سے ڈاکٹروں کی ہجرت کا مطلب کیا ہے؟

فروری 22, 2026

لاہور میں بسنت کے رنگ

فروری 11, 2026

اسلام، شاعری اور خطابت

دسمبر 19, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 280 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 265 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 255 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 227 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

سوشل میڈیا کے دور میں مطالعہ...

دسمبر 13, 2025

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

ٹالسٹائی کی قوم اور کتاب بینی

جنوری 15, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here