سچ تو یہ ہے کہ وہ معاشرہ جس میں بار بار یہ توضیح دینی پڑے کہ “میں ایک نئی زبان کیوں سیکھ رہا ہوں”— ایک نہایت قیمتی انسانی قدر سے محروم ہو چکا ہوتا ہے؛ وہ قدر جو انسانی باطن کی گہرائیوں سے پھوٹتی ہے اور جسے تدبر و حکمت کے چشمے سیراب کرتے ہیں۔
ایسا تبھی ممکن ہوتا ہے جب معاشرے کے سارے مقاصد لابھ سے شروع ہوں اور لوبھ پر تمام ہو جائیں۔ جب ہر شے، ہر تعلق، ہر علم کو محض ایک ذریعہ سمجھا جائے —ایک آلہ، کسی فوری فائدے کے حصول کا۔ ایسا معاشرہ بالکل اُس جاندار کی مانند ہو جاتا ہے جو خارش میں مبتلا ہو؛ جس کی ہر جنبش صرف خارش کی تسکین کے لیے ہو، اور جس کے ذہن میں اس سے بلند تر کسی حرکت کا تصور جنم ہی نہ لے سکے۔
لفظ اور کلام انسان کا شرف ہیں۔ اور جب انسانی دل، اس کا بیان، اور یہ خارجی کائنات ایک خطِ مستقیم پر آ ملیں تو انسانیت کا اعجاز ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ اعجاز محض گرائمر کے چند قواعد رٹ لینے یا ذخیرۂ الفاظ بڑھا لینے سے پیدا نہیں ہوتا۔ مگر انسانی تاریخ کے بہترین اذہان اور پاکیزہ قلوب نے جو افکار اور اظہار تخلیق کیے، ان سے رشتہ قائم کرنے کی پہلی شرط یہی ہے کہ انسان ان کے کلام کو سمجھنے، اس پر غور کرنے، اور اس کے ساتھ ایک تعلق قائم کرنے کی صلاحیت حاصل کرے۔
یہ تعلق پیدا کرنا ایک یاترا کی مانند ہے۔ ایک ایسی یاترا جس میں زبان کی ساخت، اس کے در و بست، اور لفظوں کے باہمی ربط کا مطالعہ نہایت بلند اور گراں قدر مقام رکھتا ہے۔ اسی لیے بڑے بڑے اذہان نے زبان کے مزاج، اس کے قوانین، اور صرف و نحو جیسے علوم پر گہرا غور و کیا؛ یہی علوم انسانی فکر کا سنگِ بنیاد ہیں، اور اسی سبب گرامر کا مرتبہ تمام کلاسیکی علوم میں ہمیشہ مرکزی رہا ہے۔
جب ہم ایک نئی زبان سیکھتے ہیں تو ہم دراصل اپنے دل و دماغ کو اس یاترا کے قابل بناتے ہیں۔ شرط بس یہ ہے کہ زبان سیکھنے کا محرک محض فوری لابھ اور لوبھ نہ ہو، بلکہ یہ عمل انسان اور کائنات میں پنہاں جمال کی تحسین کا ایک باب ہو۔