عراق کے سوشل میڈیا صارفین اور عرب دنیا کی ایک بڑی تعداد نے ایران میں گزشتہ برس کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر کا خیر مقدم کیا ہے۔ بعض لوگ تو کچھ زیادہ ہی توقع لگائے ہوئے ہیں کہ ایرانی نظام کا بہت جلد خاتمہ ہونے والا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اجتجاج کی حالیہ لہر گزشتہ ادوار مثلا (2009، 2017، 2019 اور 2022) سے مختلف ہے۔ کیونکہ اگر 2009 کی "سبز تحریک” سیاسی اصلاحات کے لیے تھی، اور 2022 کی "مہسا امینی” تحریک سماجی پابندیوں کے خاتمے اور عورتوں کے حقوق کے لیے تھی تو موجودہ تحریک خالص "معاشی” ہے۔ کیونکہ کرنسی کے اس حد تک گرنے اور ہوشربا مہنگائی نے شہریوں کے لیے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا۔ آج کے مظاہرین سیاسی اصلاحات یا لباس کی آزادی کے لیے نہیں نکل رہے، بلکہ اس لیے نکلے ہیں کہ ان کے پاس روٹی کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت بھی نہیں ہے۔ یہ فرق موجودہ احتجاج کو "بقا کی جنگ” میں بدل دیتا ہے۔
لیکن پھر بھی حکومت کے پاس اس احتجاج کو دبانے کی صلاحیت موجود ہے لیکن وہ فی الحال ٹکراؤ نہیں چاہتی۔ خاص طور پر اس لیے کہ ان مظاہروں کے سربراہان کی ایک تعداد ماضی قریب تک حکومت کے حامی حلقوں میں شامل تھی۔ تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ برس کے آخر میں حکومتی اداروں کی طرف سے کی جانے والی سخت سیکیورٹی کارروائیاں حفظ ماتقدم کے تحت خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے تھیں جن میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں غیر معمولی پھانسیاں، سزائے موت کے فیصلے اور صرف ایک ماہ میں تقریباً 360 کیسز شامل ہیں۔
لیکن شہری پھر بھی باہر نکلے اور انہوں نے خوف کی دیواریں گرا دی ہیں۔ پہلے کے دور اور آج کے دور میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ایسی تحریکوں کے درمیان زمانی وقفہ بتدریج کم ہو رہا ہے۔ جہاں پہلے ایک سے دوسری تحریک کے درمیان کئی دہائیاں حائل ہوتی تھیں، اب یہ وقفہ تین سال سے زیادہ نہیں رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلی تحریکوں کی یادیں ابھی تازہ ہیں اور جو نسل آج گولیوں کا سامنا کر رہی ہے یہ وہی ہے جو 2022 میں اجتجاج کو منظم کرنے اور مزاحمت کرنے کا تجربہ حاصل کر چکی ہے۔ اس لیے پہلے سے تھکی ہوئی سیکیورٹی فورسز کے لیے ان پر قابو پانا مزید مشکل اور زیادہ پیچیدہ ہے۔
اگر جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم مرکز اور دیگر شہروں میں غیر معمولی اتحاد دیکھ رہے ہیں۔ یعنی یہ احتجاج صرف تہران کی اشرافیہ یا اس کے مضافات کے غریب غرباء تک محدود نہیں رہا، بلکہ دور دراز کے شہر بھی دارالحکومت کے احتجاج کے ساتھ برابر کے شریک اور متحرک ہیں۔ پسماندہ علاقوں کے بھوک کے مارے اور بڑے شہروں کے ناراض لوگ غیر اعلانیہ طور پر ایک ہو چکے ہیں۔ جس سے امن و امان کی کوششیں انتشار کا شکار ہیں اور آگ پھیلنے کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس بار یہ منظر زیادہ شدت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ اوباما اور بائیڈن کے دور کی محتاط پالیسیوں کے برعکس، وائٹ ہاؤس میں اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور ان کے جارحانہ بیانات ایران کو ایک کونے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ بیرونی خطرہ شاید حکومت کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ پوری قوت سے اس احتجاج کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرے۔
اور اگر اس میں ایرانی میزائل سسٹم پر اسرائیلی یا امریکی حملوں کی حالیہ دھمکیوں کو شامل کیا جائے تو یہ حکومت کے لیے حد درجے کی حساس صورتحال بن جاتی ہے۔ اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت گرنے والی ہے۔ کیونکہ حکومت میں ابھی بھی ایسے زیرک لوگ موجود ہوں گے جو اسے موجودہ صورتحال سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنے پر مجبور کریں، بجائے اس کے کہ اس آگ کو مزید بھڑکایا جائے۔ ان میں سے سب سے اہم بات یہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی میں کمی لائی جائے اور قوم کو ایسی سہولیات فراہم کی جائیں جن سے عوامی مطالبات پورے ہو سکیں۔
دوسری طرف حکومت کے پاس، جیسا کہ صدر پزشکیان نے اعتراف کیا ہے، کوئی فوری اقتصادی حل موجود نہیں ہے۔ اسی طرح اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات محض سیاسی دباؤ شمار نہ کیے جائیں بلکہ عراق اور لیبیا کے انداز پر حقیقی مداخلت کا اعلان شمار ہوں تو صورتحال حیران کن حد تک بگڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں ہم ایران کو اندرونی دھماکے سے پھٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پورے خطے کی صورتحال ایسی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ جس طرح ٹرمپ کے لاپرواہ بیانات کو ایرانی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، عراق کی سیاسی اشرافیہ کو غیر جانبدار ہی رہنا چاہیے اور ایک فریق کی مخالفت کرتے ہوئے دوسرے کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ عراق کو خود جن بحرانوں کا سامنا ہے، اس کے لیے وہی کافی ہیں۔ لہذا ایران کے بحران کا حصہ بننے یا ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی میں فریق بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔