پاکستان میں بیشتر افراد اجتماعی خاندانوں میں زندگی گزارتے ہیں،ان میں سے بہت سے گھرانے تابع دار بیٹے سے زیادہ اچھی بہو اور اچھی بیٹی سے زیادہ نیک داماد کی دُعا کرتے ہیں۔ایک غلط فرد کے آ جانے سے بہن بھائی، ماں باپ ہِل کر رہ جاتے ہیں اور خاندان کا شیرازہ بِکھر جاتا ہے۔جیسا کہ ہم اپنی زندگیوں میں، اپنی نظروں کے سامنے اس بڑے پیمانے پر دیکھ رہے ہیں جس کے مثال ماضی کے ہمارے معاشرے میں نہیں ملتی۔ فیملی کورٹس میں خلع کے کیسز کی تعداد طلاق سے بڑھ رہی ہے( اسلام آباد کی حدود میں خلع کے کیسز طلاق سے زیادہ ہیں)جو ایک جانب عورت کی مضبوطی اور آزادی کا مثبت اشارہ ہے تو وہیں ایک تشویش ناک معاشرتی اشاریہ بھی ہے۔ لڑکے کا انتخاب کرتے وقت جذبات اور دولت سے زیادہ اس کا مزاج دیکھا جانا چاہیے، لڑکی کا انتخاب صورت اور خاندان سے زیادہ اس کی انفرادی شخصیت کی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔ { چند خوش فکر لوگ جوسمجھتے ہیں کہ لڑکی کی ماں کو دیکھ کر لڑکی کا اندازہ ہو جاتا ہے ، وہ اس سادہ سی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایک ماں کی چار بیٹیاں مختلف مزاج اور کردار کی ہوتی ہیں جیسے ایک باپ کے تین بیٹے، پہلا کماؤ اور فرمان بردار تو تیسرا نکھٹو اور نشئی}۔علاوہ ازیں خاندان کے افراد کی نو بیاہتا جوڑے کے نجی معاملات میں مداخلت بھی آگ پر تیزاب ڈالتی ہے۔سوشل میڈیا کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تو وسیع پیمانے پر دیہات سے شہروں کو اور ایک شہر سے دوسرے شہر کو ہجرت، انتقالِ آبادی سے جنم لینے والی سماجی اتھل پتھل کا مدلل تجزیہ بھی وقت کا تقاضا ہے۔یہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس پر سنجیدہ اور غیرجذباتی تفکر و تدبر کی ضرورت ہے۔
33
گزشتہ تحریر
ایک کیس کی روداد (سیکھنے کے چند پہلو)
اگلی تحریر