ہم اپنے خد و خال اور وضع قطع میں بظاہر انسان دکھائی دینے والے اس وقت تک انسان ہونے یا کہلائے جانے کے حقدار نہیں ہیں جب تک کہ ہم اخلاقی اصولوں، ضابطوں سماجی قوانین کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ اخلاقی اصول سماج میں رہنے والے ازخود بنا بھی لیتے ہیں اور اپنے اوپر نافذ بھی کرتے ہیں تاکہ دنیا امن و سکون کا کہو ارہ بن سکے۔ اخلاقیات فلسفے کا بہت ہی اہم موضوع ہے۔ مختلف مفکرین نے اس پر بہت کچھ لکھا اور انسانیت کو ہمہ وقت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
مختلف ادوار میں اس کے اصول مرتب ہوتے رہے ہیں۔ پاکیزگی، نرمی، برداشت، مسکراہٹ اخلاقیات کے راستے کے چند سنگ میل ہیں۔ ایک فرد سے دوسرے فرد کے تعلق میں یہ بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی زندگی سے جڑے ہوئے معاملات اخلاقیات کا بنیادی موضوع رہے ہیں۔
۶۰۰ عیسوی میں روم کے ۶۴ ویں بشپ گریگوری اول نے سات افعال کو انسانی اخلاقیات کے حوالے سے سات گناہ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انسان کو ان سے بچنا چاہیے۔
آئیے ہم ان سات برائیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہوس:
سب سے پہلے وہ انسانی فطرت میں حد سے زیادہ ہوس،عیش و آرام، جنسی لذت یا اس کی بے ترتیبی یا ضرورت سے زیادہ طلب کے رویے میں فرد کو محتاط رہنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
بسیار خوری:
دوسرے وہ کہتے ہیں کہ فرد کو اپنے کھانے پینے میں متوازن ہونا چاہیے۔ یہ صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔
لالچ:
تیسرے وہ فرد کی طبیعت میں لالچ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، وہ زمینی املاک ہوں ، سامان ہوں یا ضرورت سے زیادہ بے ترتیب خواہشات، یہ فرد کی زندگی کو تباہ کرتی ہیں۔ اسی لئے ان سے بھی بچنا چاہیے۔
کاہلی:
چوتھی بات وہ کاہلی یا سستی کے بارے میں کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں کہ امور کی انجام دہی میں کوتاہی درحقیقت روحانی بے حسی کا سبب بنتی ہے۔
غصہ:
پانچویں بُرائی جس کی وہ نشاندہی کرتے ہیں جو فرد کی زندگی کو تباہ کرتی ہے اسے غصہ کہا جاتا ہے۔ بدلہ لینے کی ضرورت سے زیادہ خواہش یا ایک مضبوط، بے قابو ناراضی جو کسی دوسرے کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
حسد:
چھٹی برائی حسد ہے جو کہ دوسروں کی خوشحالی اور کامیابیوں پر ایک خودغرض رویے کی صورت میں اثر انداز ہوتی ہے۔ اکثر دوسروں کی خوش قسمتی سے محروم کرنے کی خواہش کے ساتھ۔
فخر:
ساتواں اور آخری رویہ،فطرت یا گناہ وہ فخر کو سمجھتے ہیں۔ فخر درحقیقت تکبر کی ایک شکل ہے۔ خود سے بہت زیادہ محبت اور برتری کی خواہش۔ اکثر گناہوں میں اسے سب سے زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ تمام دوسرے برائیوں کی قیادت کر سکتا ہے.
برصغیر کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی جنہیں مہاتما گاندھی بھی کہا جاتا ہے نے پوپ گریگوری کے سات برائیوں کی فہرست سے متاثر ہو کر 1925ء میں سات سماجی گناہوں کی فہرست جاری کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پاتا، وہ حقیقت میں انسانی معاشرہ نہیں بنتا۔
گاندھی جی کے بقول
اصولوں کے بغیر سیاست،
کام کے بغیر دولت،
ضمیر کے بغیر خوشی،
کردار کے بغیر علم،
اخلاقیات کے بغیر تجارت،
انسانیت کے بغیر سائنس،
اور قربانی کے بغیر عبادت گناہ ہے،
ہر فرد کو اپنے سماج کو بہتر اور رہنے کے قابل بنانے کے لئے اخلاقیات کے ان اصولوں کی پاسداری کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں ہر ایک کے لئے امن قائم ہو۔