رضا شاہ پہلوی بھی شیعہ اور حسینی تھا، وہابی یا یزیدی نہیں تھا۔ اگلا بھی جو آئے گا، بارہ امامی ہی ہوگا۔ سوال صرف ملائیت کا ہے کہ ریاست پر اس کا قبضہ رہنا چاہیے یا نہیں۔
خمینی صاحب ذہین آدمی تھے۔ انھوں نے وہی کام کیا جو گیارہویں امام کی شہادت کے بعد ان کے حواریوں نے کیا تھا۔ یعنی خود کو امام کا نائب قرار دے کر طاقت حاصل کی۔
میں احمد الکاتب کا موقف نہیں دوہرا رہا کہ امام مہدی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ وہ الگ بحث ہے۔ لیکن اگر وہ تھے بھی تو انھوں نے نائبین مقرر کیے، یہ اپنی جگہ دلچسپ افسانہ ہے۔ افسانہ کا لفظ برا لگے تو اسے دعوی کہہ لیں۔ محض دعوی اس لیے کہ اسے ثابت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
خمینی صاحب نے یہی نکتہ سمجھ اور پکڑ لیا کہ امام مہدی کے نائب کا عہدہ ہزار سال سے خالی ہے۔ اس کا نعرہ بلند کرکے طاقت اور اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال انھیں ملاوں کو منظم اور استعمال کرنے کا کریڈٹ دینا پڑے گا کیونکہ انھوں نے اپنی کرشماتی شخصیت اور قیادت ثابت کی۔
خمینی صاحب کے بعد آنے والوں نے کوئی کمال نہیں دکھایا۔ سخت گیری برقرار رہی یا بڑھتی گئی۔ رسی ضرورت سے زیادہ سخت ہوجائے تو ٹوٹ جاتی ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایران میں ملائیت کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ ابھی شاید یہ ممکن نہیں۔ اس کے لیے کافی بہادری، کافی پیسہ اور کافی مستقل مزاجی چاہیے۔ لیکن یہ باہر سے نہیں ہوسکتا۔ امریکا یا کوئی اور ایرانی عوام کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ انقلاب اندر ہی سے آسکتا ہے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا فائدہ اور نقصان یہ ہے کہ آپ دنیا کی ترقی اور آزادی اور خوشحالی اور جدید نظریات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ بھوکا گھر میں بیٹھ کر بھوک برداشت کرسکتا ہے۔ دوسروں کو مرغن کھانے کھاتے دیکھ کر بھوک برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایران کے حالات جاننے کے لیے ایک دو دوستوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ انٹرنیٹ بند ہے۔ رابطہ نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ اب کیمرے والا فون ہر ایک کے ہاتھ میں ہے۔ انٹرنیٹ کھلے گا تو تصویریں اور ویڈیوز آئیں گی۔ ملا حکومت جائے نہ جائے، ناراض عوام کا غصہ اور بھڑاس تو باہر آئے گا۔ اسے نہیں روکا جاسکتا۔