کتابِ مدحتِ اجمیر، دل ترے قرباں
کہ تو بھی مرہمِ زخمِ فراقِ خواجہ ہے
مجموعۂ مناقبِ اجمیر مل گیا
اے دل اب اپنا گنجِ جواہر سنبھالنا
ہم بھی اس عالَمِ ظواہر میں
ابھی اجمیر تک نہیں پہنچے
دُکھتی آنکھیں تلاش کرتی ہیں
خاکِ اجمیر کی شفا بخشی
اے مری اونٹنی سوئے اجمیر چل
شام سے پہلے مجھ کو وہاں چھوڑ آ
اے سرحدِ خیال، کھلی رہ تمام شب
اجمیر کی ہوا سے مجھے بات کرنے دے
دل در بہ در ہے کس لیے، آج اس سے پوچھیے
اجمیر میں کہیں کوئی کٹیا نہیں رہی؟
فرض ہے دل کی ناز برداری
خاک اجمیر کا بنا ہوا ہے
صبح ہوتے ہی تسلی دل نے دی مجھ کو معین
خواب میں اجمیر ہی دیکھا تھا ہم نے رات کو
مجھے کہتا ہے میرا دل یہ اکثر
مجھے اجمیر کے پانی سے دھو لو
راجھستان میں پھول کھلا ہے
نام کو وہ اجمیر کہائے
ہم تو لاہور میں بھی دیکھتے ہیں
چاند اجمیر میں چمکتا ہے
پا پیادہ ہی جائے گا اجمیر
دل بھی اکبر سے کم نہیں میرا
مجھ کو اجمیر جلد لے چلیے
ان کی دہلیز کا چڑھاوا ہوں
کوئی اجمیر جانے والا ہے؟
میرے دل کو بھی ساتھ لے جائے
دل کو روزِ ازل، دستِ قسّام سے
شہرِ اجمیر تک کا کرایہ ملا
معین نظامی
٤- اگست ٢٠٢٣ء
عصر تا مغرب