Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

کی طرف سے Ranaayi جنوری 8, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 8, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
24

عشرت قطرہ ہے دریا ۔۔۔۔

دھند میں لیپٹی ہوئی لندن کی طیران گاہ پر کراچی سے براستہ ہندونستان پہنچنے والے عامر حسین کے استقبال کے لیے کوئی بھی موجود نہ تھا تنہائی کی کسک کم کرنے کے لیے لندن کی دلکش وکٹورین عمارتیں،دومنزلہ بسیں،فلم اور تھیٹر کے علاوہ عامر اپنے کزنوں کے ٹولے سمیت سارا دن سڑکوں کا گز بنا پھرتا اس زمانے میں اہل فرنگ بیس پونڈ کے نوٹ کو دیدے پھاڑ کر دیکھتے تھے لندن کی رعنائی مصنف کے لۓ آہستہ خرام اپنے جلووں اور تاریخ سے پردہ اٹھا رہی تھی کہ ایک روز والد نے کہا ہوس سیر و تماشا کے لۓ اک عمر پڑی ہے ابھی مکتب اور کتابوں سے تعلق استوار کرو ویسٹ منیسٹر ایبے سے خالص اور روایتی انگریزی سکول میں عامر حسین نے اس لۓ داخلہ نہ لیا کہ ایک تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ تھا سمر سکول میں دنیا بھر کے ممالک سے طالبعلم آتے نسلی تعصب اور مذہب کی تفریق سے اس وقت شائد کوئی بھی آشنا نہ تھا ملک جاپان کا طالبعلم مصنف کا سمر سکول میں دوست ٹھہرا دوسرے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ انگلستان کی نرم دھوپ میں چمکیلی ریت پر نیلم سے شفاف آب رواں کے ساتھ مصنف نے جانے سے انکار کر دیا جہاں تازہ واردانِ انگلستان کے لیے کئی منظر دامن دل کو کھینچنے کے لیے موجود تھے ساتھی جاپانی طالبہ نے نیم خوابیدہ گھر میں جاپان کی مشہور رسم چاۓ پر دوستوں کو بلایا مصنف نے اسی دور میں اس کے لۓ چند نظمیں بھی لکھیں وہ نظمیں پڑھنے کے بعد الوداع کہے بغیر اپنے ملک روانہ ہونے سے قبل عامر حسین کو اپنی بہترین دوست کے ساتھ متعارف کروا گئی تھی بوسہ اوّلین کی لذت میں وہی ہمارے مصنف کی رفیق تھی مگر مصنف کی نا تجربہ کاری نے اسے کسی اور کی جانب دھکیل دیا برف کی چاندنی میں چھپے لندن کو کچھ ہی دن ہوۓ تھے کہ عظیم جاپانی مصنف کی خودکشی سے بے خبر ہندوستان کے کسی راجواڑے سے تعلق رکھنے والی مصنف کی گوری استانی آنکھوں پر چشمہ لگاۓ درس دینے میں مشغول رہی ہاییڈ پارک کے سامنے مصنف اپنے گھر میں کتابوں سے جی بہلاتا یا پھر جھیل کنارے سستے سگرٹ کا دھواں پھونکتے ہوۓ تنہائی کا مداوا کرتا عامر حسین کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلتا ہوا آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری لے۔

عامر حسین کی ہندی اردو سے اس لۓ بہتر تھی کیونکہ ہندونستان میں رہتے ہوۓ اس نے ہندی پڑھی تھی اہل ہند اور بنگال لندن میں بھی بھائی بھائی کے نعرے لگا رہے تھے مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش کے نام سے معرض وجود میں آ چکا تھا انہی گھپ اندھیروں کی رُت میں مصنف نے کسی کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کتاب بند کی اور چراغ کو گل کیا صبح جسم کے ساتھ بستر کی ہر اک شکن بھی تھکی تھکی سی تھی۔

سلام زندگی۔

جوان دلوں کی امان زندگی۔

اور دو چار دن کی رفاقت کے بعد اس نے رخصت ہوتے ہوۓ مصنف سے کہا۔

“She came to stay in my flat for two or three days at a time. We’d end up in bed,each other’s arms. At some climactic point, she’d push me me away.

I love you …..

I don’t love you. O, not in that way, you’re like a brother. We’re just randy.

رات باقی۔

مہتاب باقی۔

رواں دواں زندگی۔

سلام زندگی۔

لندن میں انگریزی تراجم کے حوالے سے فیض صاحب کی نظموں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوۓ شائد عامر حسین پہلی بار جذباتی شکست و ریخت سے متعارف ہوا بعد کے آنے والے برسوں میں وہ لندن سے بین الثقافتی شہر میں رہتے ہوۓ اپنی پہچان کے لۓ کوشاں رہا قطرے کو دریا میں رہتے ہوۓ اپنی تہذیبی اور ثقافتی پہچان کے تحفظ لۓ ابھی اور بہت کچھ برداشت کرنا تھا۔

فیض کی نظموں کی دھنک اور مدھم موسیقی کی لہروں کے ساتھ گنگناتے ہوۓ ایک ہم وطن ہمسفر رہی مگر دو سال بعد پھر سے بانہیں کھولے منتظر موسمِ جدائی کے دوران ہمارے مصنف نے آگرہ سے تعلق رکھنے والے معین الدین شاہ سے اردو میں استعداد پانے کے لۓ رسوا کے امراؤ جان ادا کو پڑھنا شروع کیا خشونت سنگھ کا کیا ناول کا انگریزی ترجمہ عامر حسین برسوں پہلے پڑھ چکا تھا سوال کا جواب شعر کی صورت دینے والی لکھنو اور فیض آباد کی تہذیب کے زوال کی علامت امراؤ جس کے لۓ دن سست رو تھے اور رات جوانی کی علامت ان سب باتوں کو تاریخی حوالوں سے انگریزی ترجمے میں ڈھالنا بھلے کس کے بس کی بات ہے۔

شاہ صاحب لندن کی اردو اور موسیقی کی مجالس میں نہ صرف یاور عباس اور عالی جیسی شخصیات کے ساتھ شرکت کرتے بلکہ اردو ادب کے نام سے لندن سے شہر سے ایک رسالہ بھی نکالتے تھے جس میں عینی بی نے اپنے حوالے سے عصمت آپا کے مضمون پوم پوم ڈارلنگ کے جواب میں بطور خاص شاہ صاحب کی فرمائش پر لیڈی چنگیز خان کے نام سے مضمون لکھا اسی زمانے میں مصنف اردو زبان ادب کے رموز اور شگفتگی کا اسیر ہوا اردو میں ہی لندن سے ڈگری لینے کے بعد عامر حسین پڑھانے کے علاوہ ہڈ بیتی اور جگ بیتی کی آمیزش سے منفرد اسلوب میں کہانیاں لکھنے لگا۔

تھوڑے ہی عرصے میں عامر حسین کو قلم نے وہ وقار بخشا کہ بطور لکھاری دوسرے ممالک سے کانفرنسوں کے بلاوے آنے لگے زیتون کی خوشبو سے سرمت ہواؤں اور نجانے کب سے حسرتوں کی لاش پر ماتم کنعاں ارضِ مقدس فلسطین میں زندگی کسی طور سسکیاں بھرتے ہوۓ رینگ رہی تھی جہاں ہر پھول زخمی اور سب کانٹے اشکبار تھے چہار سُو پھیلی اداسی میں اسرائیل کی طرف سے لگے پہرے اور رکاوٹیں خوف کو بڑھاوا دے رہے تھے کسی نے مصنف کے کان میں سرگوشی کرتے ہوۓ کہا اے بردار یہ سامنے صرف کچھ فٹ کی دوری پر میرا گھر ہے جس کی دیوار کے ساۓ میں ہم کھڑے ہیں مگر اب یہ دوسرے ملک میں ہے میری چھت میرے سامنے زمین بوس ہوئے جاتی ہے مگر میں بے مہر آسمان کے نیچے موسموں کی شدت برداشت کرنے پر مجبور ہوں ہمارا مصنف چشم نم اور کانپتے ہوۓ ہاتھوں سے بھلا دیکھتا کیا اور لکھتا کیا مسجد اقصیٰ کے صدر دروازے میں داخل ہوتے ہوۓ اسے کسی نے کہا ہم روز کئی لاشیں اٹھاتے ہیں اور راتوں کو خوف سے جاگتے ہیں جن دوستوں سے ہماری زندگی میں رنگ تھے ان کو باری باری اپنے ہاتھوں سے زمین کے سپرد کر آۓ مگر ہم یہاں سے کہیں اور نہیں جائیں گے یہ دھرتی ہمارے اجداد کی ہے اس کے ہر سنگ ریزے پر ہمارے کسی جوان کے لہو کے دھبے ہیں تم یہاں سے جانے کے بعد میری کہانی ضرور لکھنا۔

جب گھر گھر لاش پڑی ہو مگر بین الاقوامی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے ہونٹ سیلے ہوں تو کہانی لکھنے کے لیے جگر کو خون کر کے صفحے پر اتارنا پڑتا ہے سنگ ریزوں پر جمے لہو کو استعارہ بنا کر مدتوں پہلے میرے ملک کی شاعرہ نے ایک نظم لکھی تھی جو مجھے عامر حسین کے برسوں سے ظلم سہنے والی ارض مقدس کے دورے کے حوالے سے نجانے کیوں یاد آ رہی ہے۔

۔۔۔۔

پتھروں نے سنیں

کرب کی سسکیاں

آخری ہچکیاں

جسم پر پیرہن پارہ پارہ

گولیوں سے بدن پارہ پارہ

۔۔۔۔

یہ لہوتھم جاۓ گا

آخرش سنگ ریزوں پہ جم جائے گا

ڈوبتا ہے پہاڑوں میں سورج

سنسانے لگا کہستاں

اور کچھ دیر میں رات آ جائے گی

رات چھا جائے گی

دوسری صبح ہے صبحِ محشر

صبح محشر کہ جب

قہرمانی کا اک پیکرِ آتشیں بن کے سورج زمیں سے نکل آئے گا

جو بھی ہے اس زمین پر وہ جل جائے گا

جو لہو تھم گیا

سنگ پر جم گیا

اس لہو کی سیاہی رہے گی

یہ سیاہی رہے گی ابد تک

بے حسوں کی جبینوں کی کالک

اس سیاہی کو پھر کون دھو پائے گا

کوئی پیغامِ تجدید الفت؟

کوئی سیلابِ اشکِ ندامت؟

حوصلہ کس میں تھا

کس میں ہے حوصلہ

وقت لکھتا ہے تاریخ کا فیصلہ

۔۔۔۔

ہم نہ جانیں اگر

ہم نہ مانیں مگر

یہ ہمارا لہو ہے

تاریخ کا فیصلہ سننے کے لیے لمبا انتظار کھینچنا پڑتا ہے نسلوں کی قربانیوں سے نجانے کون فیض اٹھاتا ہے اور وقت کو بھی کون زنجیر کر پایا ہے وقت کے آبِ رواں سے بے خبر عامر حسین کے پاؤں میں بھی چکر تھا ملکوں ملکوں کی گردِ سفر جھاڑنے کے بعد اس نے وطن کی خاک کو ہمیشہ بچا کے اپنے پاس رکھا وطن اور اپنی تہذیب سے محبت کا درس دینے والی عامر کی چین کی ایک مصنفہ دوست تھی میں مصنف کی اس دوست کو سوسن کے نام سے یاد کروں گا جو گردشِ دوراں کے سب تھپیڑے برداشت کرنے کے باوجود سوسن کے پھول کی مانند شگفتگی کا مجسم پیکر تھی سوسن نے دنیا کے ہر خطے میں سکونت اختیار کی وطن سے محبت اس کے رگ و پے میں بسنے کے علاوہ اس کے گھر کی آرائش سے بھی چین کی ثقافت چھلک چھلک سی پڑتی اس نے اپنی تحریروں میں بچپن کی یادداشتوں،والدین کی کہانی کو چین کے تمدن کے پس منظر کے ساتھ عمدگی سے بیان کیا اس نے چہرے پر بسی دائمی مسکراہٹ کے ساتھ ایک بار عامر حسین سے کہا اے عزیز من اگر تم اپنی زبان پر دسترس نہیں رکھتے تو یاد رکھنا تم دل کی بات کبھی بھی بیان نہیں کر پاؤ گے۔

دسمبر 2015 کی ایک یخ بستہ رات کو عامر حسین کراچی سے لندن پہنچا تو اس کے چند دوست اس کی سالگرہ کا جشن برپا کرنے کے لۓ جمع تھے وہ سب دوستوں کے سوالوں کی زد میں تھا۔

تمھارے ملک میں تو گرمی ہو گی؟

لندن کی نسبت کراچی کافی بے ہنگم شہر ہے؟

ادھر تو بہت گندگی ہو گی؟

سب سوالوں سے بے خبر وہ وہ آرام صوفے میں دھنسا سوسن کے ان الفاظوں کی انگلی پکڑے ہوۓ تھا۔

You love your mother,even if she is ugly.

سوسن کی پہلی کتاب اک عاشق نامراد کی ناکام حسرتوں کا مرثیہ ہے جسے مصنفہ نے اپنے دلاویز اسلوب میں مشرق کے عالم آشوب کے طور پر پیش کیا ہے عامر حسین نے بھی وطن میں امید کی موت اور ظلمت کی ضیا کو ہر سو بکھرتے ہوۓ دیکھا تھا مگر وہ اپنی تحریروں میں ان واقعات کو کو بیان کرنے کا قائل نہ تھا۔

تیزی سے بدلتے حالات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ گزشتہ صدی کروٹ لے رہی تھی بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی کے بعد ملک واپس جانے کا فیصلہ کیا مصنف وطن میں رہتے ہوۓ بھی وطن بدری کے احساس کے ساتھ زندہ تھا لندن اسے پھر سے بلا رہا تھا سوسن سے اس کی آخری ملاقات لندن کے ایک نیم تاریک پب میں ہوئی وہ دونوں ہمیشہ کی طرح کتابوں کے بارے باتیں کرتے رہے سوسن کی آنکھوں میں بسی اداسی نے مصنف کو بھی دل گرفتہ سے کر دیا کچھ ہی دنوں بعد مصنف کو برقی پیغام کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی کہ سوسن اس دنیا میں نہیں رہی سوسن کی یہ آرزو تھی کہ اسے چین میں اس کے آبائی قبریستان میں دفن کیا جاۓ مگر اسے دور دیس سوئیز لینڈ کی مٹی نصیب ہوئی اگلے روز مصنف کو کراچی اردو ادبی میلے میں شرکت لۓ اڑان بھرنی تھی سوسن نہ سمجھنے کے باوجود بھی اردو کی دلدادہ تھی اخبارات اسے ماضی کی مصنفہ کے لقب سے یاد کر رہے تھے محدود سے ماہ و سال میں زندگی کو سمجھنے کے لۓ سمندروں سے گہرا اور جنگلوں سے طویل فاصلہ طے کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

اہلِ محبت فراق کی بے رحم رُتوں میں بھی کسی طور صبح سے شام کرتے ہوۓ زندگی گزار دیتے ہیں مگر چشمِ بینا رکھنے والے سب منظروں سے رس کشید کرنے کی قدرت رکھتے ہیں شاعر نے کہا تھا۔

؀موسمِ گل ہے تیر بام پر آنے کا نام

منزلِ شب

کتابِ دل

حسابِ دوستاں در ۔۔۔۔

مصنف کوفرخ فروغ زاد کی ہم وطن مگر دیس سے دور بسنے والی شاعرہ کے ساتھ ایک ادبی میلے میں بنگلہ دیش سے بلاوا تھا وہ شام سندر بن کی دھرتی پر اُتر رہی تھی جس کی زمین سونا اگلتی تھی اس کے باسیوں کو اپنی زبان اور تہذیب پر ناز تھا زمینی فاصلے کون دیکھتا دلوں میں بسی کدرتوں کی بے حس لہر کو شاعر نے مدتوں پہلے بیان کرتے ہوۓ کہا تھا۔

؀ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مسافتوں کے بعد

عامر حسین کے علاوہ وطن سے دور بسنے والی ایرانی شاعرہ میمی کے لۓ بھی فیض کا یہ مصرعہ کرب اور دہشت کی علامت بنا شام کی اداسی میں ویرانی کے رنگ بھر رہا تھا دلِ من مسافرِ من کو لہو ہونے سے بچانے کے لۓ عامر نے کئی منتشر یادوں کا سہارا لیا ہے وہ ماضی کی انگلی تھامے لندن میں رہتے ہوۓ ہمیں اپنے بچپن ،اردو زبان و ادب سے محبت اور کراچی کی یادوں کا گواہ بنانے پر بضدنظر آتا ہے۔

کبھی وہ بچہ سا کراچی کی دکانوں سے بھڑکیلی تصویروں والی بچوں کی کہانیوں پر مشتمل کتابیں خریدتا ہوا نظر آتا ہے کہیں بچپن کی پرچھائیوں میں ماں کو امراؤ جان ادا اور اے۔آر خاتون کے ناول پڑھتے ہوۓ دیکھتا ہے اور کہیں عامر حسین بنتِ فاطمہ نقویہ سی غیر معروف لکھاری کی کتابوں کے لۓ سرگرداں نظر آتا ہے اور کہیں پڑوس میں رہنے والی فلم سٹار شمیم آر کے گھر پر بہن کے ساتھ دہائیوں پہلے دینے والی دستک کی گونج کے تعاقب میں اس کی مدبھیڑ وحید مراد سے ہونے والی گفتگو کے ساتھ ہو جاتی ہے اقبال بانو کے بغیرسازندوں کے آلاپ کی یاد میں مگن وہ اپنے حال سے ہمیں بے خبر نظر آتا ہے مصنف نے بچپن میں کراچی کا جو ادبی منظر دیکھا اس کا عکس برسوں بعد بھی کس قدر واضح ہے لطیف کے شاہ جو رسالو کو وہ انگریزی ترجمے کی وساطت سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

فہمیدہ ریاض سی مضطرب شاعرہ کے ساتھ دوستی کا احوال رقم کرتے ہوۓ وہ انگریزی شاعرہ جوڈتھ سے بھی اپنے روابط کا ذکر کرتا ہے اپنے منفرد خیالات اور نظریات سے پہچانی جانے والی دونوں شاعرات جلد ہی رزق خاک ہوئیں مگر اس کے بعد پوری دنیا وبا کی لپیٹ میں یوں آئی کہ ہر سو کرونا کے ساتھ ایک ویرانی سی چھا گئی لوگ اپنے گھروں میں کیا اپنے اپنے کمروں میں مقید تنہائی کے عذاب میں مبتلا ہوۓ خوف کا وہ عالم کہ دوستوں کا چہرہ و نام بھی یاد سے محو ہونے لگا فون پر انسانوں کی بجاۓ لوگ ایک دوسرے کو پرندوں کی تصویریں ارسال کرنے لگے خطوں کو بھی شائد اپنی منزل تک پہنچنے کے لۓ پروانہ راہداری کی ضرورت تھی ایسے میں بھلا سفر کون کرتا مگر عامر حسین جو گذشتہ برسوں میں مختصر وقفوں سے وطن یاترا پر جانا کا عادی ہو چکا تھا وہ کرونائی پابندیوں کے دوران پاکستان جانے کے لۓ بے چین شائد یہ سوچتا رہا.۔

تفصیل مسافت کی

اک دن جو بہم ہوں گے

تجھ سے ترے درماندہ

کیا عرض گزاریں گے

کیا حال سنائیں گے

موہوم کشیدہ ہے

تصویر قیامت کی

شاید نہ سنا پائیں

تفصیل مسافت کی

لب بستہ رہیں شاید

یہ دن جو گزارے ہیں

محرم ہے کوئی کس کا

یا زخم کی سرگوشی

یا ہمارے ہیں

آنکھوں پہ کئے سایہ

کب دور تلک دیکھا

لرزاں تھی زمیں کس پل

کب سوئے فلک دیکھا

کب دشت کی تنہائی

آنکھوں میں اتر آئی

کب وہم سماعت تھی

کب کھو گئی گویائی

کس موڑ پہ حیراں تھے

کس راہ میں ویراں تھے

اجمال حقیقت کے

شاید نہ رقم ہوں گے

اک دن جو بہم ہوں گے

تک لیں گے تری صورت

اور سر کو جھکا لیں گے

مل ڈالیں گے آنکھوں کو

گر یاد سراب آئے

گم صم تری چوکھٹ پر

ہو جائیں گے ہم شاید

چھو کر ترے دامن کو

سو جائیں گے ہم شاید

(فہمیدہ ریاض)

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی
  • تیرے بعد تیری بتیاں
  • ہم نامی کا مغالطہ
  • سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
خوشبو کی غزل | نازیہ غوث
اگلی تحریر
نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

دسمبر 29, 2025

برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

جنوری 9, 2026

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 203 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

دسمبر 29, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here