آپ نے رواں برس سیکڑوں، ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس اور ریلز دیکھی ہوں گی۔ ان میں سے آپ کو کتنی یاد ہیں ؟ البتہ جو آخری کتاب آپ نے پڑھی اس کا مواد یا تاثر آپ کے ذہن پر کس درجہ موجود اور گہرا ہے؟ امکان ہے کہ چند ایک ہی سوشل میڈیا ریلز آپ کے ذہن میں موجود ہوں گی،البتہ کتاب کا تاثر دیرپا ہے۔ جو کتاب آپ پڑھتے ہیں وہ آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے، بھلے آپ کو وہ مکمل یاد نہ رہے، جیسے صحت بخش غذا کا اثر بھلے فوری نہ ہو مگر وہ آہستہ آہستہ آپ کی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ سوشل میڈیا عموماْ وقتی توجہ ہی حاصل کرتا ہے، یعنی یہ یہ مختصر سفر کا ہم راہی ہے، کتاب زندگی بھر کی رفیق ہے۔مطالعے کا فوری اثر تو کیف ولطف ہو سکتا ہے، اس کا دیرپا اثر تفکر اورسوچ کی عادت قائم ہونا ہے۔ ایک حکایت پیش خدمت ہے۔
“استاد! میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں… لیکن ان میں سے زیادہ تر بھول گیا ہوں۔ تو پھر پڑھنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟”
یہ ایک تجسس بھری شاگرد کا سوال تھا اپنے مرشد سے۔
استاد نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا۔
چند دن بعد دونوں دریا کے کنارے بیٹھے تھے۔ اچانک بوڑھے استاد نے کہا:
“مجھے پیاس لگی ہے۔ ذرا پانی لا دو… مگر اُس پرانی چھلنی میں جو زمین پر پڑی ہے۔”
شاگرد حیران رہ گیا۔ یہ کیسا احمقانہ حکم تھا؟ چھلنی میں تو سوراخ ہی سوراخ ہیں، اُس میں پانی کیسے لایا جا سکتا ہے؟
مگر وہ بحث کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔
اُس نے چھلنی اٹھائی اور کوشش کی۔
ایک بار، دو بار، بار بار…
وہ تیز دوڑا، زاویہ بدلا، سوراخ انگلیوں سے بند کرنے کی کوشش کی۔ مگر کچھ نہ ہوا۔
ایک بوند بھی نہ رک سکی۔
تھک ہار کر اُس نے چھلنی استاد کے قدموں میں رکھ دی اور کہا:
“معاف کیجیے، میں ناکام ہو گیا۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔”
استاد نے نرمی سے مسکرا کر کہا:
“تم ناکام نہیں ہوئے۔ چھلنی کو دیکھو۔”
شاگرد نے نیچے دیکھا… اور چونک گیا۔
وہی پرانی، میلی، گرد آلود چھلنی اب چمک رہی تھی۔
پانی جو ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرا، اُس نے اُسے بار بار دھو کر صاف کر دیا تھا۔
استاد نے کہا:
“پڑھنا بھی یہی کرتا ہے۔
فرق نہیں پڑتا کہ تم ہر بات یاد رکھتے ہو یا نہیں،
علم اگر تمہارے ذہن میں رکتا نہیں تو بھی —
وہ تمہیں دھوتا رہتا ہے۔
پڑھتے وقت تمہارا ذہن تازہ ہوتا ہے،
روح نیا جنم لیتی ہے،
خیالات میں تازہ ہوا بھر جاتی ہے،
اور چاہے تمہیں فوراً احساس نہ ہو —
تم اندر سے بدل رہے ہوتے ہو۔”
یہی مطالعے کا اصل مقصد ہے —
یادداشت کو بھرنا نہیں،
بلکہ روح کو صاف کر کے چمکاتا ہے۔
