ہم سب ابن خلدون کے نام سے تو واقف ہیں مگر اس پر لکھی گئی ایک اہم کتاب کے لکھاری محمد کاظم سے صرف وہی لوگ واقف ہوں گے جو جاننے اور سیکھنے کی جستجو میں زندگی گزار دیتے ہیں سچ پوچھیے تو یہ جو انگریزی کا محاروہ ہے کہ
ALL MY HATS OFF
یہ مملکت خدا داد میں صرف کاظم صاحب جیسے معدودے چند لوگوں پر ہی صادق آتا ہے کاظم صاحب جیسے لوگ کسی بھی شہر کی تہذیبی،فکری اور علمی زندگی کے روح رواں ہوتے ہیں اُن سے سیکھنے کے لۓ کئ زندگیاں درکار ہوتی ہیں اُن جیسے مصنفین کے لکھے ہوۓ ہر لفظ کی پاسداری تو مجھ جیسے لوگوں پر اس لۓ بھی واجب ہے کہ لکھنے والے خود حروف کی حرمت سے واقف تھے اور رہا کاظم صاحب کا کردار تو دوستوں نہ انہوں نے کبھی قبلہ بدلا اور نہ ہی قبلہ نما بدلا قاسمی صاحب سے تعلق دیرینہ تھا فنون کے علاوہ اُن کی تحریر تب ہی کہیں شائع ہوتی جب وہ کسی اور پرچے کو بھیجتے عربی زبان و ادب پر غیر معمولی دسترس اور کچھ ذہنی افتادطبع ایسی تھی کہ مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کے ساتھ کئی ماہ و سال عمر کے بسر کر دیئے، مودودی صاحب کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا جسے عرب دنیا کے مفکرین نے نہ صرف سراہا بلکہ کاظم کے ترجمے اور زبان و بیان پر ان کی قدرت نے بہتوں کو حیران کر دیا مگر جب مغربی فلاسفہ کے افکار کا کاظم صاحب نے مطالعہ کیا تو جماعت اسلامی سے برسوں کی وابستگی کے باوجود آہستہ آہستہ دور ہونے لگے یقینًا اس حوالے سے کچھ ذاتی وجوہات بھی آڑے آئی ہوں گی مگر سچ تو یہ ہے مودودی صاحب نے جماعت اور اپنی ذاتی شہرت کے حوالے سے کاظم صاحب کو استعمال کیا.
کاظم صاحب نے اگر الف لیلہ پر مضمون باندھا تو تہذیب،داستاں گوئی،روایت اور تراجم سمیت اس کی تمام جہتوں کو کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ اُن کے بعد کسی اور کے لۓ لکھنا اگر ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں رہا قدیم عربی شعر و ادب پر قلم اٹھایا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ کاظم صاحب نے تو کئ زمانوں کا ادب پڑھ رکھا ہے سفر نامہ لکھا تو کسی بھی پاسکل یا کسی اور افسانوی کردار کا سہارا نہیں لیا بلکہ جو کچھ جرمنی میں اُن پر بیتا وہی بلا کم و کاست بیان کر دیا.
کاظم صاحب جیسے لوگ تنہا کب رہتے ہیں وہ ساری عمر کتابوں کے ساتھ بسر کرتے ہیں کاظم صاحب نہ سلسلہ تصویریہ سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی ادبی تقاریب میں سٹیج پر جلوہ افروز ہونے کی لت میں مبتلا تھے کاظم صاحب شہر لاہور میں ہی رہتے تھے میرے کئ دوستوں اور کرم فرماؤں کے ساتھ اُن کا برسوں پر محیط قریبی تعلق تھا مگر مجھے کاظم صاحب سے ملنا تو کیا اُن کی زیارت کی بھی کبھی سعادت نصیب نہیں ہوئی سوچتا تھا اس شہر میں یہ جو عالم بے بدل رہتا ہے اس مل کر مجھ جیسا جاہل گفتگو کیا کرے گا.
کاظم صاحب پر تو لکھنے کے لۓ دفتروں کے دفتر درکار ہیں "ابن خلدون حیات و آثار” کاظم صاحب کے انتقال کے بعد ریڈنگز کے اشاعتی ادارے القاء پبلکیشنز کے تحت شائع ہوئی.
یہ عبدالرحمان نامی پراگندہ طبع نوجوان جو ابن خلدون کے نام سے مشہور ہوا ملکوں ملکوں پھرتا اور قربتِ شاہ کے لۓ کیا کیا جتن کرتا نہ گھر کی فکر اور نہ بچوں کی طرف توجہ دربار و سرکار میں رسائی کو حاصل حیات سمجھتا دوربیں بھی غضب کا تھا وقت سے پہلے بھانپ لیتا کہ بادشاہ کا سورج نصف النہار سے زوال کی جانب گامزن ہونے کو ہے اور آنے والے دنوں میں ہما فلاں کے سر بیٹھے گا بس پھر تمام تعلقات اور وسائل مستقبل کے حکمراں سے راہ و رسم پیدا کرنے میں صرف کر دیتا اور کبھی کبھی تو سامنے سے مسکرا کر ملتے ہوۓ پیٹھ پیچھے چھرا بھی گھونپنے سے دریغ نہ کرتا جب وہ صاحب قراں امیر تیمور سے ملنے گیا تو قلعے کی فصیل سے رسیوں سے لٹکتا ہوا باہر نکلا مگر تحائف کا ذخیرہ ساتھ لے گیا امیر تیمور فاتح عالم بننا چاہتا تھا اس نے ابن خلدون سے درخواست کی کہ اے عبدالرحمان تم شمال مغربی افریقہ کے علاقے میں برسوں رہے وہاں کے سماجی و سیاسی حالات پر مجھے تفصیل سے لکھ کر دو تیمور کا مقصد دراصل یہ تھا کہ وہ ابن خلدون کی تحریر کو پڑھنے کے بعد آسانی سے اُن علاقوں پر فوج کشی کر سکے گا ابن خلدون حکم بجا لایا مگر ساتھ ہی شمال مغربی افریقہ کے بادشاہ کو لکھ بھیجا کہ وہ تیمور سے ملا اور تاتاری کس قماش کے لوگ ہیں فاتح عالم بننے کے چکر میں تمھارے علاقے پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں بس یوں سمجھیں کہ یہ عبدالرحمان اپنے جہلم کے چھوکرے جیسا تھا جس کی جگہ اب مس اعوان کو لایا گیا ہے.
یہ جو ابن خلدون کے مقدمے کو اب شہرت دوام حاصل ہے یہ دراصل کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں بلکہ ابن خلدون نے جو تاریخ لکھی اس کے ابتدا میں مقدمے کے طور پر یہ طویل تحریر شامل تھی اب تاریخ کا پورا نام بھی سن لیں "عبرتوں کا ذخیرہ اور عرب و عجم اور بر برا اور ان کی معاصر بڑی مقتدر ہستیوں سے متعلق اگلے اور پچھلے حالات کا مجموعہ” تاریخ کے آخر میں خلدون نے اپنے سوانحی حالات کا تذکرہ کچھ یوں کیا ہے کہ گفتنی کو بیان کیا اور ناگفتی کے بارے ایک لفظ تک نہیں لکھا اور سچی بات تو ہے کہ آج بھی بیشتر سخنوروں کا یہی انداز ہے.
یہ عبدالرحمان سے ابن خلدون یوں ہوا کہ جب اس کے اجداد ہجرت کر کے ملک اندلس آۓ تو خالد نامی بزرگ خلدون پکارا جانے لگا بس پھر اس کے بعد لفظ خلدون قبیلے کے نام کا حصہ قرار پایا ابن خلدون نے زندگی میں ایک خوفناک طاعون دیکھا اور ایک بار اس کا خانوادہ سمندری جہاز سے مصر جارہا تھا جہاز کے ساتھ اس کا پورا خاندان بھی غرق ہو گیا ان دو واقعات نے خلدون کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیۓ خلدون ملک مصر کے شہر قاہرہ میں فوت ہوا اس کا مزار آج بھی وہاں موجود ہے.
مقدمہ اگرچہ کوئی الگ سے کتاب نہیں وہ تاریخ کا دیباچہ ہے مگر وہ دیباچہ کئ کتابوں پر بھاری ہے جو اس بات سے بحث کرتا ہے کہ مورخ صرف گزشتہ زمانوں کا احوال رقم نہ کرۓ بلکہ گزرے ہوۓ حالات سے نتائج حاصل کرکے موجودہ زمانے کے عوامل اور مستقبل کے بارے بھی لوگوں کو آگاہ کرۓ خلدون کا مقدمہ معاشرت اور سماجی علوم کے حوالے سے پہلی کتاب تسلیم کیا جاتا ہے جس نے تمام مورخین اور انتھروپولوجیسٹ کو متاثر کیا میکاولی کی تصنیف پرنس بھی خلدون کے نظریات کی عکاس ہے شائد میکاولی پرنس لکھنے سے پہلے خلدون کے کام یا نام سے واقف ہو.
نوٹ۔ کاظم صاحب کے بارے عزیز دوست محمود الحسن کے مضمون سے استفادہ کیا گیا ہے.
