اردو میں آپ بیتیوں کا حال کم و بیش ہوسٹل کے شوربے جیسا ہے جس کی مقداریت اور پیش کش ، باورچی کی صوابدید اور ‘ناگاہ’ ٹپک پڑنے والے مہمانوں کی تعداد و اشتہا پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ اس پر مستزاد مصنف کی سرگزشت کے ہر فریم میں خود نظر آنے کی بے محسوس خواہش اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے زمانے اور اردگرد کے کرداروں کو ولن یا سایہء موہوم بنا کر اپنی ناآسودگییوں اور ناکردیوں کی تشفی کرنے کی لپک ۔ اس باعث ہمارے ہاں کی بیشتر آپ بیتیاں، چنیدہ سچائیوں اور نامعتبر روایتوں کا ملغوبہ بن کر ہی سامنے آتی ہیں ۔ شاید اس کا بدیہی سبب یہ ہے ہمارے معاشرتی سبھاؤ میں سچ بولنے اور اسے ہضم کرلینے کا چلن ہنوز لائق۔ اعتنا نہیں ۔ تاہم خودنوشتوں کی اس بھیڑ چال میں ، کبھی کبھار ایسا مرقعءصد اعتبار آنکھ کا سرمہ بن جاتا ہے جس کی واقعیت ، منظر نامہ اور تحدیث۔ بیان قابل۔ رشک حد تک ان آلائشوں سے پاک ہوتا ہے اور جس کا منشا و مطلوب، اپنی زات کو بڑھاوا دینے کی بجائے، اپنے عہد اور اس زندگی کے کھرے اظہار پرمبنی ہوتا ہے جسے مصنف نے بسر کیا ہوتا ہ ہے اور جس کی ماجرایت میں دانش و بینش کے ہزار سامان بندھے ہوتے ہیں ۔ ‘بکھری ہے میری داستاں’ ایک ایسی ہی سرگزشت ہے جسے محمد اظہار الحق کے معجز آثار قلم نے خونِ جگر سے رقم کیا ہے۔
روایتی آپ بیتیوں کے برعکس ، فاضل مصنف نے اس سرگزشت میں زمانی ترتیب سے استقرار نہیں برتا بل کہ فلم یا ناول کی طرح کہیں بیچ سے ایک ٹکڑا اٹھا کر اسے کتاب کے آغازیئے میں ٹانک دیا ہے, جس میں فکشن کی دل آویزی تو ہے لیکن داستان کی رنگ آمیزی یا صنعت۔مبالغہ کا تڑکا ہرگز نہیں۔ اور یہ بیچ کا ٹکڑا ہے، مصنف موصوف کا جامعاتی تعلیم کی کے اواخر غرض سے عازم ڈھاکہ ہونا ۔ یہ ساٹھ کی دہائ کے اواخر کا معتوب مشرقی پاکستان ہے جہاں سیاسی بے چینی اور اقتصادی محرومی کی لہریں ہر کس و ناکس کو واضح طور پر نظر آتی ہیں لیکن نہیں دکھائی دیتیں تو ہمارے (!) عاقبت نااندیش حکمرانوں کو۔ اس پر ہنگام دور کا احوال ، مصنف مزکور نے بنگال کی جادوئی فضا کے ساتھ گھلا ملا کر اس درجہ اثر آفرینی سے لکھا ہے کہ خود نوشت کے لاسے اس عہد۔شوریدہ سر کی متبادل تاریخ بھی دستاویز ہو گئی ہے، سرکاری اعلامیوں سے یک سر مختلف تاریخ !
بعد کے ابواب میں فاضل مصنف کی مقابلے کے امتحان میں کامیابی ، سول سروس اکادمی ی میں تربیت کے مراحل اور پیش ورانہ زندگی کے مختلف اور متنوع مدارج و مراحل کے چشم کشا احوال و واقعات کا ذکر۔ جن میں دفتری پخت و پز، اختیار اور آزمائش کی کشاکش اور سرکاری اہل کاروں کی رعونت اور عوام دشمنی کے قصے۔ یوں ہم پر کھلتا ہے کہ فائل مقدس کی جکڑبند اور قواعد و ضوابط کی آڑ میں دفتری بابو کیا کیا گل کھلاتے ہیں اور ارباب۔اختیار اپنے مفاد پر قومی ترجیحات اور منصبی تقاضوں کو کس بے رحمی سے زبح کرتے ہیں۔ خوبی کی بات یہ کہ محمد اظہار الحق اس نظام۔بے لگام کا مؤثر کردار ہوتے ہوئے بھی ، عوامی داد رسی اور دفتری اصلاح کا محدود پیمانے پر ہی اہتمام کر پاتے ہیں ۔ لیکن یہ کیا کم ہے کہ رشوت ستانی اور ناانصافی میں گلے تک ڈوبے ہوئے اس نظام سے دل و جاں کو سلامتی سے بچا لینے کی جہد میں وہ مآل۔کار ، سرخرو بھی ہو جاتے ہیں۔
چونکہ وہ پاکستانی مقتدرہ کے محاصل و اخراجات کے نسق و محاسبی کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہ چکے ہیں سو ان سے یہ معصومانہ توقع باندھنے میں کوئ مضائقہ نہیں کہ اس داستان ۔ جاں ستاں کی (مجوزہ) دوسری جلد میں وہ ہیئت مقتدرہ کے ان پاکباز چہروں سے نقاب سرکانے کا مقدس فریضہ بھی انجام دیں گے جنہوں نے ہمہ مقتدری کے لبادے میں وطن اور قوم کے تن۔آرزو سے لہو کی آخری بوندیں اور خوابوں کی مرتی ہوئ رمق نچوڑنے میں کوئ کسر نہ اٹھا رکھی۔ ان سے بہتر کسے خبر ہوگی کہ اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہنے کی قرار واقعی شکرگزاری محض ذاتی دیانت سے ادا نہیں ہوتی بلکہ ان ملفوف سچائیوں کو منظر عام پر لانے میں بھی مضمر ہوتی ہے جنہیں جھوٹ کی ملمع کاری نے سات پردوں میں چھپایا ہوتا ہے۔
اس معمورۂ خوش خصال کی ایک اہم عطا ، مصنف موصوف کے لڑکپن کی دیہی معاشرے اور فطرت سے ہم آغوشی کا سچل بیانیہ ہے۔ گو اظہار صاحب کے تعلیمی، پیشہ ورانہ اور مسافرانہ اشغاف کے باعث ان کی عملی زندگی کا غالب حصہ بڑوں شہروں کی ہماہمی اور بھیڑ بھاڑ میں بسر ہوا، لیکن ان کا آبائ گاؤں، اس کے نواحات، رشتوں ناتوں کی ‘مو نجھ’ ان کے اندر ہمیشہ ہمکتی لہکتی رہی۔ سو اس کتاب کا ، میرے حسابوں، جوہر۔نقرہ ان اوراق۔خزانی کی دین ہے جن میں مصنف کا وسیب اور شخصیت کے ابتدائی نقوش سانس لیتے ہیں ۔ بدقسمتی سے اب ہمارے دیہات کی سادہ لوحی اور کھرے پن میں بھی شہر کی مصنوعیت اور رفتار گھس آئے ہیں۔ تاہم اظہار صاحب کے اندر کا گاؤں ہنوز آباد ہے اور شاید ان کی سب سے بڑی کمائی اور طاقت بھی یہی آباد کاری ہے۔ ہ
سو یہ کتاب بہ یک وقت ایک دلنشیں ادب پارہ، ماضی و حال کا محضر، ہم عصر قومی زندگی کا آئنہ خانہ اور نظام۔جاریہ کا ایسا قرطاس۔ابیض ہے جسے دانش گاہوں کے نصاب اور گھروں ، دفتروں کی راہداریوں میں نمایاں طور سے اسباب۔ قراءت کا وسیلہ ہونا چاہئیے ۔ تین سو پینتیس صفحات پر محیط اس توشہءخاص کو بک کارنر، جہلم نے اپنی معلوم خوش سلیقگی سے شائع کیا ہے جس کیلئے مصنف اور ناشر دونوں تبریک کے سزاوار ہیں ۔