بادی النظر میں اسلام و مسلمان کو اصل اور مسلسل نقصان کسی دشمن، یہود و نصارٰی، شخصیت، بادشاہ یا دور حکومت سے نہیں پہنچا.
اسلام کو اصل نقصان دین سے متعلقہ امور میں شاعری اور خطابت کے بے محابہ استعمال نے پہنچایا.
ان دو نے تخیل کو حقیقت پر غالب کر دیا، غیض کو تحمل پر، ہیجان کو بردباری پر، تشدد کو میانہ روی پر، نفرت کو رواداری پر اور لفاظّی کو عمل پر.
ان کی وجہ سے بہت کچھ تلپٹ ہو گیا، اب بھی ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس رجحان کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے.
اسقدر ضرر رساں ہونے کے باوجود ہمارے ہاں دینی معاملات میں ان کی قبولیت اور مقبولیت حیران کن ہے. شاید اس لیے کہ یہ دونوں بے عملی کی خلش کو جذبات کی انگیخت سے بے اثر کر دیتے ہیں.
اگر ہمارا اسلام سے وابستگی کا دعوی کسی درجہ بھی سنجیدہ ہے تو ہمیں شاعری اور خطابت کی موجودہ کیفیت و کمیت کو گھٹانا ہو گا. ورنہ اپنے لیے لیت و لعل، اور دوسروں کے لیے ہیجان میں اضافہ ہوتا جائے گا. ہمارے لیے اصلاحِ احوال کی مہلت لامتناہی نہیں. ہماری حالت یہ ہے کہ سب ہی آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے ہیں، لیکن اس سے غافل ہیں۔ اپنے تئیں صرف دوسرے کو اس میں دھکا دے رہے ہیں. یہ سوچنے کی کسے فرصت کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہیں… کوئی ایک بھی گرا تو سب کے پاؤں اکھڑ جائیں گے.
برائے مہربانی اپنے دین اور اپنی نجات کو شاعرانہ تعلی اور مناظرانہ خطابت میں تلاش مت کریں. اس کام کے لیے قرآن و سنت کے مستند ذرائع موجود ہیں، ان سے استفادہ کیجیے. اس راستے میں صرف ایک تکلیف ہے … محض زبانی کلامی سے کام نہیں چلتا، عمل کرنا پڑتا ہے. اس کے علاوہ سب آسانی ہے، سب خیر ہے. کر کے دیکھ لیں.