کراچی حیران کن حد تک گنجان، بے ترتیب، متنوع، اور متزلزل شہر ہے ۔ ۔ ۔ یہاں اورنگی سے کورنگی تک ایسے درجنوں علاقے ہیں، جو پاکستان کے کئی شہروں سے بڑے ہیں ۔ ۔ ۔ یہاں ایک ایک ٹائؤن میں پندرہ، بیس لاکھ لوگ رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں ان علاقوں میں کراچی کے کلچر کی کچھ نشانیاں یک ساں ہیں، وہی ان میں بہت تنوع بھی ہے، جو لباس، چال ڈھال، کھانوں، زبان، طرز زندگی؛ سب ہی میں جھلکتا ہے۔
ایسے افراد شاید انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، جو یہ دعوی کرسکیں کہ وہ پورا کراچی گھوم چکے ہیں، اور ان علاقوں سے واقف ہیں۔
یہاں تو ایسے لاکھوں میں ہوں گے، جو نارتھ کراچی سے نیویارک تو چلے گئے، مگر لیاری نہیں گئے۔ ملیر والوں نے لیاقت آباد نہیں دیکھا ہوگا، کلفٹن والوں کو سرجانی کی خبر نہیں ہوگی۔
اس بکھرے ہوئے، ٹوٹے شہر کو سمجھنا، پرکھنا، برتنا، لگ بھگ ناممکن ہوگیا ہے۔
کسی ایک علاقے کو، اس علاقے کے کلچر، زبان، یا طرز زندگی کو شہر کا نمایندہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
اور یوں بھی ایک مرے ہوئے ہاتھی کو اپنے نمایندگی کی زیادہ پروا کرنی بھی نہیں چاہیے۔