Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » قانون کے دانت

قانون کے دانت

ڈاکٹر خورشید رضوی

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 11, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 11, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
117

قانون اندھا ہوتا ہے۔ یہ بات کہی تو قانون کے حق میں جاتی ہے یعنی وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کس ہاتھ پر کون کھڑا ہے بلکہ مکمل غیر جانبداری سے فیصلہ کرتا ہے۔ مگر بسا اوقات یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ قانون معذوری کے معنوں میں بھی اندھا ہے۔ اندھے کو کوئی ہاتھ پکڑ کر چلاتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جرم قانون کے آگے آگے چلتا ہے اور قانون اس کا دامن— حریفانہ ہی سہی— تھام کر قدم اٹھاتا ہے۔ ریل گاڑی کا آخری ڈبا کتنی ہی تیزی سے دوڑے انجن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا اسی طرح قانون عموماً جرائم کی چھوڑی ہوئی لکیر ہی پیٹتا رہ جاتا ہے

خیالِ زُلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر

نکل ہے سانپ گیا، اب لکیر پیٹا کر

اس عمل میں سانپ کی طرح جرم کبھی نہیں پٹتا بلکہ بیشتر معصوم لوگ قانون کی زد میں آتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد دنیا بدل گئی۔ مگر کن معنوں میں؟ جا بجا سکینر نصب ہو گئے، تلاشیاں لی جانے لگیں۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن میں بوڑھے زن و مرد جن میں کوئی دل کا مریض ہے کوئی دمے کا شکار ہے، قطاروں میں کھڑے ہیں اور باری آنے پر لوشن لگا لگا کر بار بار اپنے انگوٹھوں اور انگلیوں پر زور ڈال رہے ہیں مگر انگلیوں کے نشانات ہیں کہ عمر رفتہ کے ساتھ ہوا ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کی غالب اکثریت بالکل بے قصور ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے سانپ کی چھوڑی ہوئی لکیر پر کھڑی ہوتی ہے۔

اب سانپ کی سنئے۔ اسے کیا پڑی ہے کہ ایک ہی راہ سے بار بار گزرے۔ اس بار وہ کسی ہوائی سفر کے دوران کسی محلول سے پٹاخا چلا دیتا ہے۔ لیجئے اب کروڑوں انسانوں کے لیے ایک نیا عذاب شروع ہو گیا۔ آپ کوئی سیّال یا سیّال نما چیز دستی سامان میں جہاز پر نہیں لے جا سکتے۔ بچوں کا فیڈر، کوئی ضروری دوا، حتیٰ کہ ٹوتھ پیسٹ یا لپ سٹک بھی۔ اس قسم کی چیزیں اگر لے جانی ضروری ہوں تو پہلے ایک شفاف تھیلی میں لے کر قطار میں کھڑے ہوں کیونکہ اب سانپ کی بنائی ہوئی ایک اور لکیر پٹ رہی ہے۔

شاید قانون کا تخیل بانجھ ہے وہ ایسے تازہ تصورات پیدا کرنے سے قاصر ہے جو صحیح معنوں میں جرم کی ”پیش بندی“ کر سکیں۔ افکارِ تازہ کی دولت تو جرم کے حصے میں آئی ہے جو گویا قانون کو نئی سے نئی کمند میں باندھے اپنے پیچھے پیچھے لیے پھرتا ہے۔

قانون اپنے اندھے پن کی تلافی اپنے دانت تیز کرنے سے کرتا ہے۔ یہ دانت مشینی دندانوں کی طرح تیز اور ایک میں ایک پھنسے ہوئے ہوتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بڑی سخت ہوتی ہے مگر جرائم کے لچکیلے وجود کے لیے اس میں ہمیشہ رخنے موجود رہتے ہیں۔

ایک میں ایک در آتے ہوئے قانون کے دانت

جرم جن میں سے گزر جائے، ہوا رُک جائے

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • رعنائی پر کیسے لکھیں؟
  • اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں
  • نئے سال کا ایک عہد
  • یورپ کے کچھ کردار
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟
اگلی تحریر
رعنائی پر کیسے لکھیں؟

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

دسمبر 20, 2025

ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

جنوری 11, 2026

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025

یورپ کے کچھ کردار

جنوری 2, 2026

وجود خدا پر مناظرہ؛ چند تاثرات

دسمبر 21, 2025

ڈاکٹر منظور احمد ، رفت

دسمبر 23, 2025

علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک کے موضوع پر لیکچر

دسمبر 11, 2025

لاہور بک فیئر کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا

دسمبر 9, 2025

نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

دسمبر 8, 2025

پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کی یاد

دسمبر 19, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک...

دسمبر 11, 2025

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025

یورپ کے کچھ کردار

جنوری 2, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here