شبِ یلدا مبارک۔ ایران اور وسطی ایشیا کا صدیوں سے جاری ایک خوب صورت موسمی تہوار۔ سال کی طویل ترین رات، سورج کی شبِ ولادت، جسے شبِ چلّہ بھی کہا جاتا ہے۔
یلدا سُریانی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی پیدائش ہیں۔ اس کے بعد راتیں چھوٹی اور دن بڑے ہونے لگتے ہیں۔ شدید سردی اور برف باری میں تدریجی کمی آتی ہے اور پھر آمدِ بہار کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
یہ جشن اندھیرے پر روشنی، شر پر خیر، موت اور بیماری پر زندگی اور صحت، مایوسی پر امید و آرزو، پژمردگی پر تر و تازگی، خزاں پر بہار اور خاموشی پر صدا کی فتح یابی کا مسرت بخش علامتی اظہار ہے۔
اس رات کو گھر کے تمام افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔ مہمان بھی آتے ہیں اور ان کی خصوصی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ انار، تربوز، خشک میوے، مقامی مٹھائیاں، فالِ حافظ، ہلکی پھلکی موسیقی، گیت گانے، قصہ گوئی اور شعر خوانی اس جشن کی خاص پہچان ہیں۔ مختلف علاقوں میں اس مناسبت سے کئی اور رسمیں بھی رائج ہیں۔