تصوف کی تاریخ، فکریات اور ادب کو سب سے زیادہ دوشخصیات نے متاثر کیا ہے: مولانا جلال الدین رومی اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی. ہماری علمی و ذوقی روایت پر ان کے گہرے اثرات ہمیشہ قائم رہیں گے.
دونوں ہم عصر تھے. دونوں کے اثرات ایک دوسرے پر زیادہ نہیں ہیں. رومی کے ان شارحین نے جو فکرِ ابنِ عربی سے شدید متاثر تھے، اپنی علمی و ذوقی تسکین کے لیے بہت تکلف سے دونوں مفکروں میں تطبیق ثابت کرنے کی اپنی سی کوششیں کی ہیں.
رومی نے ایک بار ابن عربی کی مشہور کتاب فتوحاتِ مکیہ کے ذکر پر اپنے زکی نامی قوال کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ ہمیں تو فتوحاتِ مکی نہیں ، فتوحاتِ زکی کی طلب ہے. بہت بعد میں شیخ احمد سرہندی نے بھی ایسا ہی ایک جملہ کہا تھا.
رومی اور ابنِ عربی کی کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی اور اگر ہوئی ہو تو منابع میں درج نہیں ہو پائی. رومی کی نوجوانی میں ابن عربی بوڑھے ہو چکے تھے. شمس تبریزی اور ابن عربی کی خاصی ملاقاتیں ہوئی تھیں اور دونوں کچھ عرصہ اکٹھے بھی رہے تھے. شمس تبریزی شیخ ابن عربی کی ذہانت، علمیت اور مشاہداتی و تجزیاتی قوت کے مداح تو تھے لیکن انھوں نے ایک عملی صوفی کے طور پر ابن عربی کو کبھی نہیں سراہا. ابن عربی کچھ عرصہ قونیہ میں بھی رہے تھے جہاں انھوں نے شیخ صدر الدین قونوی کی والدہ سے شادی کی تھی.
رومی اور صدر الدین قونوی کی بہت ملاقاتیں رہیں. قونوی ابن عربی کے سوتیلے بیٹے، شاگرد، خلیفہ اور ان کی فکر کے عظیم شارح تھے. شیخ قونوی کے ساتھ بھی رومی کی ویسی گہری ذہنی ہم آہنگی اور دلی قربت کبھی نہیں رہی جیسی مثلاََ شمس تبریزی، صلاح الدین زرکوب، حسام الدین چلبی اور بعض دیگر ہم عصروں کے ساتھ تھی. قونوی کو رومی کا جنازہ پڑھانے کا کہا گیا مگر بتایا جاتا ہے کہ وہ صدمے میں بے ہوش ہو کر گر پڑے اور جنازے کی امامت نہ کر سکے.
رومی اور ابن عربی دونوں نے خود بہت کم خانقاہ داری کی. دونوں کے بہ راہِ راست مریدوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے. بنیادی طور پر دونوں کی عظیم تصانیف نے ہی ان کے خلفا کا کام دیا اور ان کے فیضان کو فروغ دیا. دونوں کی زندگی اور فکر و فن پر مغرب میں بھی بہت کام ہوا اور متعدد تراجم کیے گئے.
دونوں کی تصانیف کی بہت سی شرحیں لکھی گئیں اور باقاعدہ فکری و روحانی دبستان کے طور پر ان کی تدریس ہوتی رہی. دونوں کے فکر و فن کے شارحین اور مدرسین نے بہت نام کمایا. دونوں کی تقلید میں انھی کے رنگ کی بہت تصانیف بھی سامنے آئیں.
دونوں میں سے صرف رومی کی اولاد نے باقاعدہ سجادگی اور خانقاہ داری کی اور ان کے اخلاف آج تک نسل در نسل وہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں.