قونیہ کی خوشبو
آوازۂ جمالت از جان خود شنیدیم
چون باد و آب و آتش در عشقِ تو دویدیم
تمھارے حسن کا شہرہ ہم نے اپنی روح سے سنا، ہم ہوا، پانی اور آگ کی طرح تمھارے عشق میں دوڑ پڑے.
اندر جمالِ یوسف گر دستہا بریدند
دستی به جانِ ما بر، بنگر چهہا بریدیم
یوسف کا حسن دیکھ کر اگر ہاتھ کٹ گئے تھے تو ذرا ہمارے دل پہ ہاتھ دھر کر تو دیکھو کہ ہمارا کیا کیا کچھ کٹ گیا ہے.
رندان و مفلسان را پیداست تا چه باشد
این دلقِ پاره پاره در پای تو کشیدیم
رندوں اور مفلسوں کے پاس جو کچھ ہوتا ہے، ظاہر ہے. یہ پھٹی پرانی گدڑی ہے جسے ہم نے تمھارے قدموں میں بچھا دیا ہے.
در عشق جان سپاران مانندِ ما ہزاران
ہستند، لیک چون تو در خواب ہم ندیدیم
عشق میں جان قربان کرنے والے ہم جیسے ہزاروں ہیں لیکن تم جیسا کوئی ہم نے خواب میں بھی نہیں دیکھا.
مانندۂ ستوران در آب وقتِ خوردن
چون عکسِ خویش دیدیم، از خویش می رمیدیم
جانوروں کی طرح ہم پانی پیتے ہوئے جب بھی اپنا عکس دیکھتے تو اپنے آپ ہی سے بدکتے بھاگتے تھے.
مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی
انتخاب و ترجمہ: معین نظامی
