24
نیند تتلی ہے خواب خوشبو ہے
رات کا انتساب خوشبو ہے
جس کا نعم البدل نہیں کوئی
عشق وہ کامیاب خوشبو ہے
میں اسی شاعرہ کو پڑھتی ہوں
جس کی پہلی کتاب خوشبو ہے
آنکھ کو مشک بار کر دے گی
خواب وہ لاجواب خوشبو ہے
پھول تو ثانوی حوالہ ہیں
باغ کی آب و تاب خوشبو ہے
میرے گھر میں تمھارے آنے سے
ہر طرف بے حساب خوشبو ہے
آخری باب خودشناسی ہے
نظم کا پہلا باب خوشبو ہے
جو چھپانے سے بھی نہیں چھپتی
عشق ایسی خراب خوشبو ہے
آپ چاہیں تو نازیہ بولیں
ورنہ میرا خطاب خوشبو ہے