Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا)

جہانِ گزراں (یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا)

عاصم کلیار

کی طرف سے Ranaayi دسمبر 26, 2025
کی طرف سے Ranaayi دسمبر 26, 2025 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
48

اکرام صاحب ہمارے عہد کے ممتاز فکشن نگار ہیں میری خوش بختی کہ ان سے میری نیاز مندی کم و بیش دو دہائیوں سے ہے اردو ادب میں طویل مختصر(ناولٹ) کہانی کو جو اعتبار اکرام صاحب نے بخشا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی اکرام صاحب کے پہلے ناول کو معتوب قرار دیا گیا اور اس کی اشاعت پر حاکم وقت نے پابندی لگا دی مگر کمالِ فن کے آگے سر خم کرنا ہی پڑتا ہے پہلے ناول کی اشاعت پر پابندی کے باوجود اکرام صاحب کو پرایڈ آف پر فارمنس سے بھی نوازا گیا برسوں پہلے میں نے ان سے ایک بار کہا تھا کہ آپ اپنی یاداشتیں بھی لکھیں عمرِ رفتہ کے کچھ گوشوں کے بارے تو ان کے افسانوی و طویل کہانیوں کے مجموعوں میں واضح اشارے ملتے ہیں عمر عزیز کے بھر پور نوے برس گزارنے کے بعد انہوں ابتدائی برسوں کی جیون کہانی کو جہانِ گزراں کے نام سے قلمبند کیا ہے۔ اکرام اللٰہ صاحب نے جسے جہانِ گزراں کا نام دیا ہے یہ اس زمانے کا تذکرہ ہے جب خط اغوا ہوتے تھے اور آدمی طلب کیے جاتے تھے مگر لوگ مرغزاروں میں آزادی سے روشوں پر گھومتے تھے راوی سکھ اور چین ہی لکھتا تھا لوگ امن سکون کے ساتھ رہتے اور صبر کے پھل کو حاصل حیات سمجھتے وہ رواداری اور برداشت کا دور تھا اُن دنوں فرقوں کا ذکر ہی کیا مختلف مذاہب کے درمیان بھی کیسی ہم آھنگی پائی جاتی تھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا سلیقہ تھا ادیان عالم کے نام پر مار دھاڑ کو نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا کرشن نگر کے محلے کو اسلام پورہ کے نام کا چغہ نہیں پہنایا گیا تھا حسین پورہ کا باسی اکرام اللٰہ ایس بی( سردار بہادر) حکم سنگھ روڈ پر اپنے دوست ست پال کی دوکان پر دوسرے دوست کپل دیو سے گپ بازی کرنے جاتا تھا اکتوبر 1950 میں اُسی کپل کے ملنے والے خط سے اس داستان کو شروع کر کے اکرام اللٰہ نے اُلٹے قدم چلتے ہوۓ اپنی جوانی،لڑکپن اور بچپن کے ایام کے منتشر

اور چنیدہ واقعات کو قلمبند کر کے انہیں جہانِ گزراں کا نام دیا ہے.

کپل کے ساتھ مل کر ہی اکرام اللٰہ نے سرخ سویرا کے طلوع ہونے کا جو خواب دیکھا تھا وہ کم و بیش ایک تہائی صدی کے بعد بھی اکرام صاحب میں انسان دوستی کی صورت موجود ہے مگر اشتراکیت کو سرمایہ درآنہ نظام نے کب جیتنے دیا ہے جو اکرام صاحب کا یہ خواب پورا ہوتا.

جہانِ گزراں میں خود نمائی کا کوئی ذکر ہی نہیں جو اکثر اُردو خود نوشتوں کا طرہ امتیاز ہے بلکہ شاہراہ حیات پر ملنے والے دوستوں کا احوال بیان کرتے ہوۓ اکرام صاحب نے اپنے حوالے سے نفی ذات کو ترجیح دی ہے.

بھائی اور باپ کے غصے کو تو کپل کسی طور برداشت کر ہی رہا تھا مگر بھابھی کے طعنوں نے کپل کو امرتسر سے بیغر ٹکٹ کے دہلی جانے والی گاڑی پر سوار ہونے کے لۓ مجبور کر دیا اس بچگانہ مہم جوئی کا خاتمہ کچھ دنوں بعد ہونا ہی تھا کپل کا باپ اُسے دہلی سے لے آیا اور امرتسر سکول میں نام درج کروا دیا جہاں اپنی ذات میں اسیر،اُداس،گم سم کپل سے اکرام اللٰہ کی دوستی کا آغاز ہوا.

اکرام صاحب اب بھی عشروں سے کپل سے رابطے نہ ہونے کی وجہ سے اس یقین کو گمان تسلیم کرتے ہیں کہ کپل کی باغیانہ سوچ کو دبانے کے لۓ بہت پہلے پڑوسی ملک کی حکومت نے اسے ہمیشہ کے لۓ خاموش ہی نہ کر دیا ہو کپل کی یاد کی کسک اب ستر برسوں بعد بھی اکرام صاحب کو سرد ہوا کے پُرملال جھونکوں کی مانند اُداس کر جاتی ہے یادوں کے کئ اور چراغ بھی اکرام صاحب نے اپنی ذات کے خلوت خانے میں رشیدہ اور نینوں کی صورت میں روشن کر رکھے ہیں دسمبر کی یخ بستہ دھندلی شاموں میں ان چراغوں کی نیم مردہ روشنی آدھ صدی کے بعد بھی اکرام صاحب کو کبھی کبھی غمزدہ کر دیتی ہے مگر اب جہانِ گزراں کی صورت میں مصنف نے اعترافی بیان قلمبند کر کے ہم سب کو بھی اپنا واقفِ حال کر دیا ہے.

نینوں کو اسٹیشن پر الوداع کرنے کا منظر ذاتی کرب کے علاوہ پڑھنے والوں کو بھی رنج و ملال کی کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے”ریل کی سیٹی بجی ہماری آنکھیں ملیں اس کے ہونٹوں کے کنارے اور ناک کی پھننگ تھرائی پیشانی آنکھوں اور پورے چہرے پر پہلے اک موج سی چڑھی اور دوسرے لمحے اترتے اترتے اتر گئ نینوں پگھلی میری آنکھیں نم ہوئیں”

سلانوالی ریل اسٹیشن کا ایک اور دلگداز منظر شاہ پور کی باسی کلی کے حوالے سے ہے جس کا بچپن ماں باپ کے بیغر اپنی نانی کے ساتھ گزرا نانی کی وفات کے بعد ملکِ خدا وسیع تو اگرچہ بہت تھا مگر کلی سی گل بدن کے لۓ ارضِ خدا کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا نے بھی عرصہِ حیات تنگ کر دیا وہ سلانوالی کچھ دنوں کے لۓ اپنی خالہ کے پاس اکرام صاحب کے پڑوس میں اتری تھی.

"میں نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا لیا میرے آنسو بہہ رہے تھے اتنے میں دروازے میں کھڑے تلک کی آواز آئی کلی دیدی آ جاؤ ماتا جی بلا رہی ہیں ۔۔۔ میرے بالوں میں اس کا ہاتھ ایک بار پھرا اور وہ چلی گئ پھر نہ خود لوٹی نہ کوئی خبر دی پتا نہیں زندہ ہے کہ مر گئ ۔۔۔ اسے گۓ ہوۓ اسی برس ہو گۓ وہ میرے دل میں ویسی ہی حسین،شگفتہ اور تر و تازہ کھڑی ہے

مگر ایک شاخِ نہال غم جسے دل کہیں سو ہری رہی

۔۔۔ کوئی پون گھنٹہ گزرا ہو گا ریل کی سیٹی بجی تو میں نے جانا کہ گاڑی اب سلانوالی کے اسٹیشن سے کلی کو لے کر نکل رہی ہے ۔۔۔ میری آنکھیں بھر آئیں

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا "”

کرشنا جس کے سانولے رنگ کی وجہ سے اُسے کے شوہر نے بھی اُسے تیاگ دیا تھا مگر اسی سانولے من بھانولے رنگ کی وجہ سے وہ کسی کی آنکھ کے لۓ بن محمل کے لیلیٰ ٹھہری.

مگر!

یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا

کرہ ارض پر دوسری عالمی جنگ اپنی تمام تباہ کاریوں کے ساتھ مسلط ہوئی کون ظفر مند ٹھہرا اور کون ہارا تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی مگر روۓ زمین پر لاکھوں کروڑوں نائب اللٰہ اس جنگ میں ایٹم بم کے لۓ تجربہ گاہ ثابت ہوۓ اس فعل پر رات شرمندہ ٹھہری اور صبح کا دامن چاک ہوا آسمان سے کالی بارش کا نزول ہوا انسانیت کا ذکر کیسا جب انسان کا وحشی ہونا اپنی معراج پر پہنچ چکا تھا قحط بنگال اور جلیانوالہ باغ کے دوران اور بعد میں اکرام اللٰہ نے انسانی رویوں،مجبوریوں اور ضمیر کے درمیان کشمکش کو جس بے حسی کا نام دیا ہے اسے انگریزی سامراج سے نجات اور تقسیم ہند کی جانب ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے.

لیکن!

یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا

صدیوں کا بھائی چارہ یگوں کی دشمنی میں بدلنے والا تھا اجداد کی قبروں سمیت سینکڑوں سال کی وارثت اور تہذیب کو چھوڑ کر شکستہ پا رنجیدہ دل قافلوں کو جان کی امان پاتے ہوۓ دوسرے ملک جانا تھا برصغیر کے نقشے میں دراڑیں پڑنے والی تھی مگر شاہجہاں ہوٹل امرتسر کے باہر کھڑا رہنے والا نوجوان خاموشی کے حصار میں بند اور تنہائی کے محفوظ اور لازوال قلعے میں خود ساختہ مقید دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھتے ہوۓ آزادی یا تقسیم کے گونجتے نعروں سے بےخبر نجانے کیا تماشا دیکھنے میں مگن رہتا. امرتسر میں اکرام صاحب کے محلے میں فوجی وردی پہن کر ٹہلنے والا مانک شا سقوط ڈھاکے کے وقت بھارتی فوج کا سربراہ تھا یعنی کل کا پڑوسی آج کی دشمن سپاہ کا سربراہ ٹھہرا.

وطن سے بچھڑے اکرام اللٰہ کو ابھی فقط آٹھ سال ہی ہوۓ تھے کہ 1956 میں وہ لاہور سے براستہ امرتسر دہلی کے لۓ روانہ ہوۓ روز ملنے والوں کو بھی کپل کی خبر کب تھی جو اکرام صاحب امرتسر میں چند گھنٹوں کے قیام میں کپل کو ڈھونڈ پاتے ست پال سے ملے ضرور مگر زمانے کے تھپیڑوں نے اس کو وقت سے پہلے ہی نڈھال کر دیا تھا وہ ملنے سے گریزاں تھا اکرام صاحب اُس سے کپل کے بارے جاننا چاہتے تھے امرتسر سے دہلی جانے والی گاڑی نے سیٹی بجائی ست پال نے اکرام صاحب کو سوار کیا پندرہ روز بعد دہلی سے لاہور جانے والی گاڑی نے پھر اسی اسٹیشن پر چند گھنٹوں کے لۓ رکنا تھا اکرام صاحب نے ست پال سے دوبارہ ملنے کا وعہدہ کیا مگر ست پال پندرہ روز سے پہلے ہی ایک حادثے کا شکار ہو کر ملک عدم آباد کے لۓ کوچ کر گیا اکرام اللٰہ کو خالی ہاتھ تو لوٹنا ہی تھا مگر وہ ست پال کی موت کی کسک بھی ساتھ لاۓ.

عالمی سطح پر تبدیلیوں کے رونما ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا مگر شاعری کے اُفق پر فیض کی نقش فریادی کی دھوم تھی دیوان خانوں سے بالا خانوں تک”دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے”کی گونج سنائی دیتی تھی اُدھر فیض و اقبال کے اُستاد میر حسن کے عزیز میر عبدالقیوم اکرام صاحب کے سکول کے کرتا دھرتا تھےاُدھر کتاب،چاند چکور کا قصہ اور مناظر فطرت اکرام صاحب کا جی لبھانے میں مگن تھے ادھر سف الدین سیف،ظہیر کاشمیری،احمد راہی اور شہزاد احمد کی شاعری امرتسر سے نکل کر دوسرے شہروں سے چھپنے والے جرائد میں شائع ہونے لگی امرتسر کے غیر معروف شاعر نفیس خلیلی کا یہ شعر آج بھی اپنے باطنی مفہوم کے لحاظ سے کیسی چھبن لۓ ہوۓ ہے.

دیکھتا کیا ہے میرے منھ کی طرف

قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

پنڈت نہرو سا باوقار اور پرکشش لیڈر جب امرتسر آیا تو مصنف سمیت ہزاروں لوگ اُن کی ایک جھلک دیکھنے اور بھاشن سننے کے لۓ بیتاب تھے پنڈت جی کوڑے کچرے اور غلاظت کے ڈھیر دیکھتے ہوۓ امرتسر کے گلی کوچوں سے گزر کر جلسے گاہ تک آۓ تھے مائیک پر پہنچتے ہی مشرق اور مغرب کے طرز معاشرت کا تقابل کرتے ہوۓ اہل امرتسر پر خوب گرجے برسے کہانی کے اس موڑ پر منتشر یادیں براستہ موگا اور نھنیالی گاؤں سے اکرام صاحب کو سلانوالی لے گئیں جہاں اُن کے والد بطور سرکاری ڈاکٹر کے کچھ مدت مقیم رہے.

مصنف کے والد ڈاکٹر صاحب کا تبادلہ موگا ہوا چھوت چھات کے حوالے سے ابھی رواداری تھی مذہب صرف ابھی احتیاط کا نام تھا شدت پسندی یوں غالب نہ تھی کہ لوگوں کی لاشیں گننا پڑۓ شیخ حسن اور پنڈت بالک رام موگا میں کاروبار حیات سے فراغت پا کر درختوں کو پالتے اور چرند پرند سے محو گفتگو رہتے ہوۓ ایک ہی مکان میں سکونت اختیار کیے ہوۓ تھے شیخ و برہمن کی طرف سے بطور تحفے میں ملنے والا اعلیٰ نسل کا کتا بنام پیٹر آج بھی اکرام صاحب کی یاداشت کا حصہ ہے شیخ و برہمن کی داستان خود دلچسپی کا ساماں لیۓ ہوۓ ہے مگر ہمارے مصنف کی بچپن کی ضد نے بھی اُس میں کچھ اس ادا سے رنگ بھرا کہ جنت میں بھی پیٹر کے بیغر جانے سے انکار کر دیا موگا کے کھیل کے میدان میں گرد اُڑاتے ہوۓ بچوں میں اکرام صاحب کا بچپن بھی کبھی پتنگ اُڑاتے ہوۓ اور کبھی سائیکل سیکھتے ہوۓ گم ہوا کسی کی انگلی پکڑ کر نیم پختہ راستوں پر چلنے والے اکرام اللٰہ نامی بچے کو شاہراہ حیات پر کئ محازوں پر بیک وقت لڑتے ہوۓ اس بے رحم اور نامہرباں دنیا سے طویل برسوں تک برسر پیکار رہنا تھا وہ باپ کے تحڪمانہ انداز کے ساتھ تو بچپن سے جینے کے عادی تھے مگر زندگی کے ٹھوس حقائق اور سنگدل سچائیوں سے اُن کا واسطہ کبھی نہ رہا کسی ہمدرد کے مرنے سے اس کمینی دنیا میں ایک سچے بہی خواہ کی بے لاگ محبت اور نیک خواہشات کے چھن جانے کی جان لیوا کیفیت کو ہمارے مصنف نے میاں جی یعنی اپنے نانا کی وفات پر محسوس کیا.

تیس کی دہائی کے آخری برسوں میں ڈاکٹر صاحب کا خانوادہ مع پیٹر کے سلانوالی کے اسٹیشن پر اُترا فضا آلودگی کی کثافت کے بوجھل پن سے بغیر خنک ہواؤں اور موسم کی فصلوں کی مہک لۓ ہوۓ تھی شہر کے مغربی کنارے پر وسیع نہر کا پانی اُن دونوں صاف تھا جس کے کنارے اکرام صاحب پیٹر کی رفاقت میں صبح کی اولین کرنوں کی نارنجی روشنی میں سیر کرتے سلانوالی لکڑی کے کام کے لۓ اُس زمانے میں مشہور نہ تھا بلکہ گلاب سنگھ کی روئی کے کارخانے شہر کی دور دور تک پہچان تھے گلاب سنگھ کا بیٹا شملہ یا نینی تال پڑھتا چھٹیوں میں اُس کی آمد پر وہ اور اکرام صاحب اُس کے ریکارڈوں کے بیش بہا خزانے سے لطف اندوز ہوتے رام لیلا بچپن سے بار بار دیکھ کر اکرام صاحب کے لۓ قابل توجہ نہ رہی تھی وہ ٹربیون میں چھپنے والے فلمی اشتہاروں کے چاند چہروں سے دل بہلاتے سہراب مودی کی پکار کا شہرہ ان دنوں پورے ملک میں تھا مگر سرگودھا کے گنوار مسلمان زمیندار دشمنیاں پالے ہوۓ تھے غیرت کے نام ہر قتل اُن کا تب بھی شیوہ تھا اکرام صاحب کے سلانوالی میں ایک جاننے والے علی نے غیرت کے نام پر بیک وقت کئ لوگوں کو موت کی گھاٹ اُتار دیا تھا.

اکرام صاحب کے والد کے تبادلے کا حکم نامہ بطور ڈاکٹر مینٹل ہسپتال لاہور جاری ہوا 1937 میں بذریعہ ریل کار سلانوالی اُترنے والا قافلہ 1940 میں ایک بار پھر مع پیٹر بس کے ذریعے لاہور کی جانب محو سفر تھا لاہور کی ٹھنڈی سٹرک اُس زمانے میں دامنِ دل کو کھینچتی ملکہ وکٹوریہ کا چیرنگ کراس پر سنگِ سفید کی بارہ دری کے نیچے براجمان مجسمہ سطوتِ شاہی کی علامت تھا سر لارنس،گنگا رام اور لالہ لجپت راۓ کے مجسمے انفرادی سطح پر کامیابیوں کی داستان سناتے اکرام صاحب سینٹرل ماڈل سکول سے چھٹی کے روز جیل روڈ سے نہر کے ساتھ مال روڈ کے چاۓ خانوں کو جھانکتے ہوۓ انگریز راج کی پُرشکوہ عمارات کو دیکھ کر لاہور کے سحر میں گرفتار ہوۓ جاتے جوانی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن سے گریزاں رہنا انسانی سرشت کے خلاف ہے سلانوالی میں پہلی بار ہی سیگرٹ نوشی کرتے ہوۓ ہمارا معصوم مصنف رنگے ہاتھوں پکڑا گیا باپ کی عدالت میں کیا دلیل معتبر ٹھہرتی سزا کے طور پر وہ مار پڑی کہ خدا کی اماں لاہور میں عمر کے ساتھ بغاوت بھی جوانی پر تھی دھویں کے مرغولوں کے ساتھ تاش کی بازی بھی جمنے لگی.

مڈو جیسی لڑکی جس کے چہرے پر نہ شفق کا غازہ پھوٹا اور نہ ہی کسی نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا جو زندگی کو بوجھ سمجھتی تھی مائی ملنگنی جیسی نفی ذات کی پرچار کرنے والی اور ملک سعید حسن جیسا نازک اندام لڑکا جس کی موت کی جھوٹی خبر کو گھر والوں نے نہ جانے کس مصحلت کے تحت حقیقت بنا کر پیش کیا وہی ملک سعید حسن جب کم و بیش پچاس سال بعد اکرام صاحب کو دوبارہ ملتان میں ملا تو وہ ماضی کو حقیقت ماننے سے گریزاں تھا سو جذباتیت یا ماضی پرستی کا اتنے برسوں بعد ہونے والی ملاقات میں در آنا محال تو کیا ناممکن ضرور تھا جہانِ گزراں کے ان طویل برسوں میں شاہراہ حیات پر ملنے والوں یعنی مڈو،مائی ملنگنی اور سعید حسن جیسے لوگوں نے مصنف کو انسانی نفسیات کی گنجلک گتھلیوں کو سلجھانے میں ایک حد تک تو ضرور مدد کی ہو گی.

لاہور سے کچھ عرصہ بعد مصنف کے والد کا تبادلہ دوبارہ امرتسر ہو گیا انسانوں سمیت پیٹر نے بھی لاہور سے امرتسر کوچ کیا رشیدہ نے سامنے والے مکان سے اتنے برسوں بعد اکرام صاحب کی آمد پر ریڈیو کی آواز بلند کرتے ہوۓ ان کا خیرمقدم کیا کپل اور ست پال پہلے سے وہاں موجود تھے سکول کا زمانہ گزر چکا تھا مصنف کالج میں داخل ہو چکا تھا ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی مصنف کا پرولتاریوں سے متاثر ہونا اس زمانے کا عین دستور تھا.

یہ دنیا رنگ رنگیلی بابا

یادوں پر کسی کی اجارہ داری ہے اور خوابوں پر کون پہرے بٹھا سکا ہے امرتسر کے کمپنی باغ میں کچھ دنوں بعد رشیدہ اور مصنف نے ایک دوسرے کی جانب کچھ قدم اور بڑھانا تھے اور اسی باغ میں جے سنگھ نے ہمارے اکرام صاحب کو وائٹ ہارس سے متعارف کروایا ایف۔اے میں جو مضامین دنیاوی لحاظ سے کامیابی کی ضمانت سمجھتے ہوۓ اکرام صاحب کو رکھنے پر مجبور کیا گیا تھا ان میں فیل ہونا یقینی طور پر طے تھا مگر نتیجے کے بعد اکرام صاحب والد کے قہر سے محفوظ رہے کیونکہ نتیجے کے بعد فسادات نے آزادی کی خوشی کو داغدار کرنا تھا امی جمی کو موت اور لوٹ مار کی آندھی نے یوں جنجھوڑا کہ کئ خاندان اب تک بھی تاب نہیں لا سکے وطن سے بے وطن ہونے والوں نے راستے کی مشکلات سے بچنے کے لۓ پیاروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے مارا جو بچ کر پہنچ پاۓ وہ املاک کی تقسیم،لالچ اور اقربا پروری کے ستاروں کو بام عروج پر دیکھ کر ششدر رہ گۓ وہ نہ آزادی کو نعمت قرار دے سکتے تھے اور نہ ہی واپس جا سکتے تھے وہ بے بسی کی مجسم تصویر بنے عجب دوراہے پر کھڑے تھے مصنف کا خاندان بھی ایک قافلے کی صورت مملکت خدادا پہنچا اکرام صاحب کے والد نے تمام عمر ایمانداری کے ساتھ ساتھ صبر اور شکر کو وظیفہ حیات بناۓ رکھا وہ تقسیم کے حادثے کے دوران بھی بھلا کیا ہاتھ رنگتے سو ادھر پہنچ کر بےسروسامانی کی حالت میں ملتان سے نئ زندگی کا آغاز کیا.

اکرام صاحب سے اپنے کم وبیش بیس سالہ احترام،محبت اور دوستی پر مبنی تعلقات کی بنیاد پر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں اس عہد نامراد جس میں خط لکھنے کا رواج ہی نہیں رہا مگر آدمی اغوا ہوۓ جاتے ہیں اکرام صاحب جیسے غیور،اصول پسنداور صلح کل مزاج رکھنے والے اشخاص اب خال خال ہی ہیں.

ڈاکٹر تلسی داس کی بیگم نے کشمیر کی بنی جو ٹوکری اکرام صاحب کی والدہ کو کم و بیش اسی برس پہلے دی تھی وہ اکرام صاحب کے گھر کے ایک کونے میں اب بھی دھری ہے زمانی و مکانی لحاظ سے وہ کئ داستانوں کی امین ہے جن کا ایک کردار خود مصنف ہے وہ تنہائی کے لمحوں میں اکرام صاحب کو گواہ بنا کر کچھ بھولی بسری باتوں کا تذکرہ تو کرتی ہو گی ہماری جہانِ گزران کے لکھنے والے سے التماس ہے کہ وہ اس داستان کو تحریری صورت میں آگے بڑھاتے ہوۓ اپنے عہد اور ذات کے حوالے سے ان کہی باتوں کو بیان کریں سیاست اور تاریخ پر تو پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے.

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • بکھری ہے میری داستاں؛ ایک مطالعہ
  • کیمیا گروں کا کیمیا گر
  • اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں
  • رومی کے چند اشعار کا ترجمہ
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟
اگلی تحریر
‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

قدیم شاعری پڑھتے ہوئے

جنوری 7, 2026

تخلیقی فرصت

دسمبر 8, 2025

اروندھتی کی نئی کتاب؛ چند باتیں

دسمبر 20, 2025

انجنہاری کی گھریا؛ ایک مطالعہ

دسمبر 8, 2025

خوشبو کی غزل | نازیہ غوث

جنوری 8, 2026

ونود کمار شکل کا انتقال؛ مع تعارف اور چند نظموں...

دسمبر 23, 2025

نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں

جنوری 9, 2026

دمشق 680ء

جنوری 5, 2026

محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

دسمبر 8, 2025

اسامہ صدیق کا نیا انگریزی ناول شائع ہو گیا

دسمبر 10, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

جو ستارا تمہیں افلاک نشیں لگتا...

دسمبر 31, 2025

الحمراء کا تازہ شمارہ شائع ہو...

دسمبر 13, 2025

ایک نئی زبان کیوں سیکھی جائے؟

دسمبر 11, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here