گزشتہ دِنوں ایک صاحب نے کسی ادبی میلے کا تذکرہ کرتے ہوۓ شکوہ کیا کہ عوام کا ذہنی معیار اس حد تک گِر گیا ہے کہ حال ہی میں وہ ایک ادبی میلے میں گئے تو وہاں اقبال پر سیشن میں ہال میں درجن بھر حاضرین بیٹھے تھے اور دیگر نشستیں خالی تھیں، اس کے برعکس ایک دوسرے ہال میں ماہرہ خان سے گُفت گُو تھی تو وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس پر ایک صاحب نے ہلکے پھُلکے انداز میں جُملہ کسا”اگر اقبال زندہ ہوتے تو وہ خود بھی ماہرہ خان کے سیشن میں ہی پاۓ جاتے”۔
پس صاحبو ادبی میلوں کی یہی کہانی ہے۔
اس پر حقیقی طور پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ سنجیدہ علمی مکالمے اور فکر افروز گفت گو کی جانب لوگوں کو کس طرح مائل کیا جاۓ کہ وہ جوق در جوق ان محافل میں شریک ہوں۔البتہ گزشتہ روز اختتام پذیر ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں بیشتر سیشن بھرپور تھے اور چند ایک میں مقررین کی تعداد سامعین و ناظرین سے زیادہ تھی۔
میری پُر عجز رائے میں عوام کو ان میں انگیج کرنے کی ضرورت ہے۔ سُلگتے معاشرتی موضوعات جو ادیب سے بھی سروکار رکھتے ہیں اُن پر گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ ذوق اور غالب کا شعری موازنہ عام آدمی سے متعلق نہیں، البتہ ایک محدود سنجیدہ فکری نشست کا موضوع ضرور ہو سکتا ہے، معاشرے میں بڑھتی طلاق و خلع کی شرح کے اسباب اور ان کا ادب میں اظہار وغیرہ عوامی دلچسپی کے موضوعات ہو سکتے ہیں۔
افتخار عارف صاحب کی گفت گو بہت عمدہ ہوتی ہے۔ غالباً ان سے بہتر گفت گو حاضر کے ادیبوں میں کوئی اور نہیں کرتا۔
( ہندوستان جو تعلیمی اعتبار سے ہم سے بہتر ہے وہاں بھی سماجی موضوعات پر اعلی آرٹ فلمیں کمرشل سطح پر فلاپ ہوتی تھیں اور بارہ مصالحے والی فلمیں کھڑکی توڑ رش لیتی رہی ہیں)۔