ضیاءالحق مرد مومن کہلاتے تھے۔ آمر تھے ، منتخب نہیں تھے، عوام کو جواب دہ نہیں تھے۔ اپنی کٹھ پتلیوں سے حکومت چلاتے تھے۔ عورت کو سیدھا رکھنے والی پالیسیوں کے خالق تھے۔ مخالفین کے لیے قہر تھے۔ اسلام کے سپاہی تھے۔ جہاد کا لفظ انہی کے دور میں گلوریفائی ہوا۔ کشمیر اور افغانستان میں اسلام کے نام پر نوجوان فدائین بن کر پہنچے۔ ملکی قوانین نے اسلامی روپ دھارن کیا۔ جمہوریت کے پنپنے کے قائل نہ تھے کہ اس سے ان کی طاقت کم ہوتی تھی۔
کہنے کو سپرپاور کے خلاف مزاحمت کا استعارہ تھے لیکن اب سب جانتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھے رہنے کا وہی ایک راستہ تھا۔ عوام کو بیچنے کے لیے مزاحمت، تزویراتی گہرائی اور گرم پانی بہترین لالی پاپ تھے۔ حضور پر نور مکمل اختیار کے باوجود عام زندگی میں انتہائی بااخلاق، منکسر اور مرنجاں مرنج دکھائی دیتے تھے۔ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ حتی کہ سائیکل پر آفس بھی چلے جاتے تھے۔ بس جمہوری شراکت اقتدار کے سوال پر کٹکھنے ہو جاتے تھے۔
حضرت مرتے دم تک اقتدار سے جونک کی طرح چمٹے رہنے کے خواہاں تھے لیکن وقت پورا ہو گیا تھا۔ ملک کے اندر تو کسی میں ہمت نہ تھی لیکن آموں کی ایک پیٹی بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اشارے پر ایک دن جہاز سمیت پھٹ گئی۔ ملک میں کہرام مچ گیا۔ جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ اناؤنسرز اشک بار تھے۔ پورے ملک میں کتنے ہی چہرے غمگین تھے۔ میں سولہ سترہ سال کا کشتہ سلطانی و ملائی تھا، ضیاء کو مسیحا سمجھتا تھا۔ اگلے سال برسی ہوئی تو بھی لاکھوں کا اجتماع تھا، میں بھی لاہور سے چل کر اسلام آباد پہنچا اور اس بطل جلیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ایک عزیز دوست کو یہ قصہ کچھ برس پہلے سنایا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے لیکن یہ نہیں ہو گا۔ اتفاق کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔
بہرحال بتانا یہ تھا کہ اب میں سولہ سترہ سال کا کنڈیشنڈ احمق نہیں رہا اس لیے کسی آمر، کسی تھیوکریٹ، کسی جابر، کسی سامراجی، کسی پیشوا کے لیے اپنے دل میں ہم دردی نہیں پاتا خواہ وہ کلین شیو ہو، مونچھوں والا یا داڑھی والا۔ امریکی ہو، ازرائیلی ہو، افغان ہو، ایرانی ہو یا پاکستانی۔ سب آمر میرے لیے ایک سے ہیں، خواہ سوٹ پہنیں، جبہ یا وردی۔ میں صرف عقیدے کی بنیاد پر ان میں فرق کا قائل نہیں ہوں۔ اقتدار کے لیے ہر حد سے گزر جانے والے موقع پرستوں، مذہبی شامانوں، ہتھیار بندوں، اندھی طاقت کے پجاریوں اور خدا کے جھوٹے نمائندوں کی زندگی پر مسرت نہیں ہوتی، مرنے پر غم نہیں ہوتا۔ اردو میں اسے عدم دلچسپی کہہ لیجیے لیکن بہتر اظہار انگریزی کے لفظ indifference سے ہوتا ہے۔
یہ سب میرے لیے ایک سے ہیں۔ البتہ معصوم کوئی بھی مرے، کہیں بھی مرے، کہیں کا بھی ہو ، اس کے لیے دل اب بھی مغموم ہوتا ہے۔ معصوم پر رونے کے لیے مجھے اس کی قومیت، مذہب، رنگ اور نسل کی معلومات درکار نہیں ہوتیں۔ اسے غالبا انسانیت کہتے ہیں۔ بچیاں اور بچے نیر اوز کے مریں، ہرمزگان کے، غزہ کے، تیراہ کے یا کابل کے، سب ہمارے بچے ہیں۔ ان کو کولیٹرل ڈیمج کہنے والے اسد درانی ہوں یا میڈیلیںن البرائٹ، سب قابل نفرین ہیں۔
سوشل میڈیا ویلیڈیشن کا شوق بہت پہلے ختم ہو گیا تھا۔سو تماشا دیکھتا ہوں، اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ یہ بھی ذاتی تجربے سے جانتا ہوں کہ ذہنی بلوغت ہر ایک کو اتنی جلدی نصیب نہیں ہوتی ، سو واقعہ کوئی بھی ہو، اس پر کسی کے حق مسرت یا حق ملال پر تعرض نہیں کرتا۔ باقی اس تحریر سے آپ اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرنے میں بالکل آزاد ہیں۔