Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » آموں کی پیٹی سے آج تک

آموں کی پیٹی سے آج تک

حاشر ارشاد

کی طرف سے Ranaayi مارچ 1, 2026
کی طرف سے Ranaayi مارچ 1, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
9

ضیاءالحق مرد مومن کہلاتے تھے۔ آمر تھے ، منتخب نہیں تھے، عوام کو جواب دہ نہیں تھے۔ اپنی کٹھ پتلیوں سے حکومت چلاتے تھے۔ عورت کو سیدھا رکھنے والی پالیسیوں کے خالق تھے۔ مخالفین کے لیے قہر تھے۔ اسلام کے سپاہی تھے۔ جہاد کا لفظ انہی کے دور میں گلوریفائی ہوا۔ کشمیر اور افغانستان میں اسلام کے نام پر نوجوان فدائین بن کر پہنچے۔ ملکی قوانین نے اسلامی روپ دھارن کیا۔ جمہوریت کے پنپنے کے قائل نہ تھے کہ اس سے ان کی طاقت کم ہوتی تھی۔

کہنے کو سپرپاور کے خلاف مزاحمت کا استعارہ تھے لیکن اب سب جانتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھے رہنے کا وہی ایک راستہ تھا۔ عوام کو بیچنے کے لیے مزاحمت، تزویراتی گہرائی اور گرم پانی بہترین لالی پاپ تھے۔ حضور پر نور مکمل اختیار کے باوجود عام زندگی میں انتہائی بااخلاق، منکسر اور مرنجاں مرنج دکھائی دیتے تھے۔ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ حتی کہ سائیکل پر آفس بھی چلے جاتے تھے۔ بس جمہوری شراکت اقتدار کے سوال پر کٹکھنے ہو جاتے تھے۔

حضرت مرتے دم تک اقتدار سے جونک کی طرح چمٹے رہنے کے خواہاں تھے لیکن وقت پورا ہو گیا تھا۔ ملک کے اندر تو کسی میں ہمت نہ تھی لیکن آموں کی ایک پیٹی بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اشارے پر ایک دن جہاز سمیت پھٹ گئی۔ ملک میں کہرام مچ گیا۔ جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ اناؤنسرز اشک بار تھے۔ پورے ملک میں کتنے ہی چہرے غمگین تھے۔ میں سولہ سترہ سال کا کشتہ سلطانی و ملائی تھا، ضیاء کو مسیحا سمجھتا تھا۔ اگلے سال برسی ہوئی تو بھی لاکھوں کا اجتماع تھا، میں بھی لاہور سے چل کر اسلام آباد پہنچا اور اس بطل جلیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ایک عزیز دوست کو یہ قصہ کچھ برس پہلے سنایا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے لیکن یہ نہیں ہو گا۔ اتفاق کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔

بہرحال بتانا یہ تھا کہ اب میں سولہ سترہ سال کا کنڈیشنڈ احمق نہیں رہا اس لیے کسی آمر، کسی تھیوکریٹ، کسی جابر، کسی سامراجی، کسی پیشوا کے لیے اپنے دل میں ہم دردی نہیں پاتا خواہ وہ کلین شیو ہو، مونچھوں والا یا داڑھی والا۔ امریکی ہو، ازرائیلی ہو، افغان ہو، ایرانی ہو یا پاکستانی۔ سب آمر میرے لیے ایک سے ہیں، خواہ سوٹ پہنیں، جبہ یا وردی۔ میں صرف عقیدے کی بنیاد پر ان میں فرق کا قائل نہیں ہوں۔ اقتدار کے لیے ہر حد سے گزر جانے والے موقع پرستوں، مذہبی شامانوں، ہتھیار بندوں، اندھی طاقت کے پجاریوں اور خدا کے جھوٹے نمائندوں کی زندگی پر مسرت نہیں ہوتی، مرنے پر غم نہیں ہوتا۔ اردو میں اسے عدم دلچسپی کہہ لیجیے لیکن بہتر اظہار انگریزی کے لفظ indifference سے ہوتا ہے۔

یہ سب میرے لیے ایک سے ہیں۔ البتہ معصوم کوئی بھی مرے، کہیں بھی مرے، کہیں کا بھی ہو ، اس کے لیے دل اب بھی مغموم ہوتا ہے۔ معصوم پر رونے کے لیے مجھے اس کی قومیت، مذہب، رنگ اور نسل کی معلومات درکار نہیں ہوتیں۔ اسے غالبا انسانیت کہتے ہیں۔ بچیاں اور بچے نیر اوز کے مریں، ہرمزگان کے، غزہ کے، تیراہ کے یا کابل کے، سب ہمارے بچے ہیں۔ ان کو کولیٹرل ڈیمج کہنے والے اسد درانی ہوں یا میڈیلیںن البرائٹ، سب قابل نفرین ہیں۔

سوشل میڈیا ویلیڈیشن کا شوق بہت پہلے ختم ہو گیا تھا۔سو تماشا دیکھتا ہوں، اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ یہ بھی ذاتی تجربے سے جانتا ہوں کہ ذہنی بلوغت ہر ایک کو اتنی جلدی نصیب نہیں ہوتی ، سو واقعہ کوئی بھی ہو، اس پر کسی کے حق مسرت یا حق ملال پر تعرض نہیں کرتا۔ باقی اس تحریر سے آپ اپنی مرضی کا مطلب اخذ کرنے میں بالکل آزاد ہیں۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل
  • ایران میں بھوک کا احتجاج
  • دہلی نامہ؛ امرتسر کے دو کردار
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

میں اور سید کاشف رضا

فروری 26, 2026

کیا عقلی دلیل ممنوع ہے ؟

دسمبر 23, 2025

اسلام، شاعری اور خطابت

دسمبر 19, 2025

احوال ایران؛ چند فکری زاویے

جنوری 9, 2026

کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

فروری 26, 2026

خوشیاں، کلچر اور احتیاط

فروری 9, 2026

ہائی فائی’ زندگی کون گزار رہا ہے؟’

فروری 20, 2026

آپ اے آئی سے ڈرتے ہیں یا نہیں

جنوری 5, 2026

کیا ڈاکٹر ظالم ہوتے ہیں؟

دسمبر 26, 2025

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • آموں کی پیٹی سے آج تک
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ
  • حارث خلیق کی ایک غزل
  • کالونیل ازم کی ایک نئی شکل

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 278 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 263 views
  • 3

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 253 views
  • 4

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 251 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 225 views

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • آموں کی پیٹی سے آج تک

    مارچ 1, 2026
  • رہنما، جو غداروں کے باعث مارے گئے

    مارچ 1, 2026
  • خبر، افواہ اور سوشل میڈیا؛ ایک لمحۂ فکریہ

    مارچ 1, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (6)
  • آرٹ/کلچر (4)
  • ادب (43)
  • انٹرویوز (3)
  • بچے (2)
  • بلاگ (41)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (11)
  • سیلف ہیلپ (4)
  • صحت (1)
  • متفرق (29)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

امریکہ میں ممدانی اور قرآن

جنوری 4, 2026

اخلاقیات کی دھنک

جنوری 8, 2026

ایران میں بھوک کا احتجاج

جنوری 6, 2026
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here