Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » روشنی (کہانی)

روشنی (کہانی)

آصف فرخی

کی طرف سے Ranaayi جنوری 13, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 13, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
11

ابتدا میں، سورج اور چاند اور ستارے انسان کے لیے روشنی کا واحد ذریعہ تھے۔ جب اندھیرا ہو جاتا تو لوگ جو بھی کام کر رہے ہوتے اسے چھوڑ دیتے اور سونے کی تیاری کرنے لگتے۔ اس وقت روشنی محدود تھی، اندھیرا بہت خوف ناک اور طاقت ور تھا۔

 

دھیرے دھیرے یہ اندازہ ہوا کہ آگ جلانے سے اندھیرے کو فرو کیا جا سکتا ہے۔ جلتی ہوئی لکڑی کے ذریعے روشنی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی لے جایا جا سکتا تھا۔ اندھیرا کونے کھدروں میں سمٹنے لگا۔ سرو کی لکڑی یا چربی میں ڈبوئے ہوئے سینٹھے سے بنائی ہوئی مشعل زیادہ دیر تک جلتی تھی اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں انگلیوں کی پوریں جلنے کا خطرہ نہیں تھا۔

 

دھر دھر جلتی ہوئی مشعلیں لے کر انسان اندھیرے کی نا معلوم سلطنت فتح کرنے نکلا۔ اب دنیا اس کے سامنے روز روشن تھی ۔

 

روشنی کے لیے چراغ سب سے بہتر تھا۔ یہ پتھر کے دور کے کسی آدمی کی ایجاد ہے۔ پہلا چراغ بس اتنا سا تھا کہ کھوکھلے پتھر یا مٹی کے پیالے میں چربی بھر دی گئی۔ اسے کہیں بھی رکھا جا سکتا تھا اور خالی ہو جانے پر دوبارہ بھرا جا سکتا تھا ۔ اب روشنی انسان کے اختیار میں آگئی تھی۔

 

دھات اور چینی کے بنے ہوئے چراغ قدیم یونانیوں اور رومیوں کے گھر میں روشنی کرتے تھے۔ وہ لوگ چراغ جلانے کے لیے تیل کا استعمال کرتے تھے اور چراغ میں بنتی ڈالتے تھے جس سے دھواں کم اُٹھتا تھا اور شعلہ بھڑکتا کم تھا، جس کی وجہ سے روشنی مستحکم ہوتی تھی۔

 

رومیوں سے بہت پہلے، قدیم چین کے باشندوں نے لالٹین بنالی تھی جسے گھر کے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ روشنی کی لَو موسم اور تیز ہوا سے محفوظ تھی اور لالٹین کے اندر سے چھن چھن کر آتی تھی ۔ چینیوں نے خوبصورت نقش و نگار کے ساتھ لالٹین کو بہت دلکش بنا دیا۔ لالٹین کی صورت میں روشنی کو ایک گھر مل گیا۔

 

نئے سال کی آمد اور دوسرے تہواروں پر وہاں اب بھی لالٹین روشن کی جاتی ہیں، اور گھروں میں لڑکائی جاتی ہیں۔

 

جن علاقوں میں تیل آسانی سے نہیں ملتا تھا، وہاں لوگ روشنی کے لیے دوسرے ذرائع پر انحصار کرتے تھے۔ پرانے زمانے کے محل اور قلعے قندیل اور مشعل سے روشن ہوتے تھے۔ یورپ کے محلات میں ایسی ٹوکریاں رکھی جاتی تھیں جن میں آگ جلائی جاتی تھی ۔

 

گھروں کے باہر جانے کے لیے لالٹین بہت مفید ثابت ہوئی ۔ بڑے بڑے شہروں میں خاص مقامات پر آگ کی ٹوکریاں رکھی جانے لگیں تاکہ جو لوگ اندھیرے کے وقت چل پھر رہے ہیں انھیں مشکل نہ ہو ۔ امیر لوگ اندھیرے میں راستہ دکھانے کے لیے بچوں کو ملازم رکھتے تھے جو جلتی ہوئی رسی کی مشعل لے کر ان کے آگے آگے چلتے تھے۔ ایک بچہ چلتے چلتے تھک جاتا تو وہ روشنی دوسرے بچے کو تھما دیتا اور یوں روشنی کا ایک سلسلہ بن جاتا۔

 

شہد کی مکھیوں کے جمع کیے ہوئے موم کو جلا کر روشنی کرنے کا طریقہ قدیم روم کے زمانے میں بھی دریافت ہو چکا تھا۔ لیکن شمع کا رواج اس وقت عام ہوا جب چربی کی صورت میں موم کا سستا مترادف مل گیا۔ پگھلی ہوئی چربی کی شمعوں کا رواج بہت عرصے تک عام رہا۔

 

شمع کے عروج کے زمانے میں چراغ بھی جلتا رہا۔ تیل کے دیے اور چراغ آج تک باقی ہیں۔ اٹھارویں صدی میں چراغ کو ایک نئی شکل اُس وقت مل گئی جب اُس میں مٹی کا تیل جلایا جانے لگا۔ بعد میں اُس کے چاروں طرف شیشے کی نلکی اور بغیر دھویں کی بنتی لگا دی گئی ۔ یوں وہ پہلی مصنوعی روشنی تیار ہوئی جس کا شعلہ خوب روشن تھا اور بغیر کسی بو کے جلتا تھا۔

 

اٹھارویں صدی میں گیس لیمپ کو فروغ حاصل ہوا ان کا رواج انگلستان میں ہوا اور پچھلی صدی کے آخر میں نیویارک شہر کی سڑکوں پر گیس لیمپ نصب کر دیے گئے ۔ گیس کی روشنی نے دنیا کے بڑے بڑے شہروں کو روشنی کے شہر بنا دیا ۔

 

گیس کا چراغ اس وقت گل ہو گیا جب بجلی کی روشنی دریافت ہو گئی۔ تھامس ایڈیسن نے ایسا بلب ایجاد کیا جو تار کی مدد سے اور شعلے کے بغیر جلتا تھا، روشنی دیتا تھا۔

 

بجلی کے بلب کے سامنے چراغ اور لالٹین سب کی روشنی ماند پڑ گئی۔ گھر اور کار خانے جگمگا اُٹھے ۔ رات میں دن کا سماں ہو گیا۔ جدھر دیکھیے اُجالے ہی اُجالے ہیں۔

 

زیادہ عرصہ نہیں گزرا، سائنس داں جو ابھی تک بہتر روشنی کی تلاش میں سرگرداں ہیں، ایک اور حیرت انگیز دریافت سامنے لے کر آئے ۔ یہ فلوریسنٹ روشنی ہے FLUORESCENT شیشے کی سِیل بند نلکی میں روشنی چھوڑنے والا ایک مادہ ہے جو برقی رو سے منور ہو جاتا ہے اور پھر بہت عرصے تک جل سکتا ہے۔

 

ایک چھوٹا سا کھٹکا دبانے سے آج کا انسان رات کو دن اور اندھیر کو اُجالا بنا سکتا ہے۔ تاریکی کو دفع کرنے کے لیے روشنیاں ہی روشنیاں ہیں۔ علامہ اقبال نے لکھا تھا :

 

تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم

(تو نے رات بنائی ، میں نے چراغ بنایا)

 

یہ چراغ انسان کی تلاش کا ایک کارنامہ ہے۔ چھوٹا سا کھٹکا دبا کر آپ جو روشنی بکھیر دیتے ہیں، اُس تک پہنچنے میں انسان کو کئی صدیاں لگیں۔ دنیا کے اندھیرے کا خوف پرانے زمانے کے انسان میں اس طرح بیٹھ گیا ہو گا کہ ہم آج بھی خوشی کا اظہار روشنیاں جلا کر کرتے ہیں۔

شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
اگلی تحریر
امین معلوف؛ ایک عرب آواز

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز
  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 240 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 217 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 213 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 205 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 182 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (8)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • امین معلوف؛ ایک عرب آواز

    جنوری 15, 2026
  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (8)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here