Ranaayi
  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر
Home » برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

برنے کی کہانی ، اسید سلیم شیخ کی زبانی

کی طرف سے Ranaayi جنوری 9, 2026
کی طرف سے Ranaayi جنوری 9, 2026 0 comments
شیئر کریں۔ 0FacebookTwitterPinterestWhatsapp
16

تیرے باپ نے یہاں پر کوئی باؤلی نکلوائی ہے جو تجھے میں پانی پلاؤں ؟؟ نئی نویلی دلہن نے ڈولی میں سے آواز دے کر جب پانی مانگا تو سسر نے اسے یہ جواب دے کر اپنی طرف سے چپ کرا دیا۔ دلہن بھی امیر گھرانے کی لاڈوں پہلی دھی رانی تھی۔ اس نے جب یہ جواب سنا تو ڈولی سے نیچے اُتری اور کہا اب میری ڈولی اس جگہ سے آگے تب ہی بڑھے گی جب میرا باپ یہاں باؤلی نکلوائے گا اور میں اسی باؤلی سے پانی پیوں گی۔ دلہن کو منانے کی کوششیں کی گئیں مگر اس امیر زادی نے اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ آخر اس کے باپ کو بلایا گیا۔ اس نے متعلقہ لوگوں کو بلوایا اور نئی باؤلی بنانے کا کہہ دیا۔ اس دوران تمام باراتی بھی وہیں رکے رہے۔ نئی باؤلی تیار ہونے کے بعد جب پانی نکالا گیا تو دلہن نے پانی پیا پھر اس کے بعد بارات آگے بڑھی۔ یہ باؤلی آج بھی بھمبر آزاد کشمیر سے منگلا ڈیم جانے والے راستے برنا نام کی چھوٹی سی آبادی کے قریب اپنی ماضی کی روایت کے ساتھ زندہ و قائم ہے!

برنا کتنا خوب صورت اور دل کش نام ہے۔ ہمارا بکائن سے مکالمہ ہوا تو ہم اسی نام یعنی ” برنا“ کے دو درختوں کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ جو تازہ تازہ پتے نکال کر ہرے بھرے ہوئے تھے۔ انہیں اس وقت خزاں رسیدہ شریں نے گھیر رکھا تھا۔ اسی لمحے اوپر آسمان پر چھوٹی سی اِدھر اُدھر بھٹکتی بدلی سورج کے سامنے آ گئی۔ اس سے نیچے کا منظر کچھ اور بھلا اور خوش گوار سا محسوس ہونے لگا۔ سامنے کرکٹ کے میدان میں پھیلے سبزے میں درجن بھر سے زاید لالیوں کی چی چکار یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔ بدلی کے سائے کی وجہ سے ارد گرد سبزے کا رنگ اور گہرا ہو گیا تھا۔ لالیوں کی چی چکار کچھ کم ہوئی تو میں نے برنا کے ان دونوں بھائیوں سے مخاطب ہو کر پوچھا!

آپ اپنے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟

جی کیوں نہیں ! ہم دونوں بھائی منتظر تھے کہ آپ ہماری طرف متوجہ ہوں ۔ ہمیں آپ ” برنا“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہندی میں برن ، گجراتی میں درنو، بنگالی میں گاچھ اور کشمیری میں کاٹھ کہلاتے ہیں۔ علاوہ بدلتے ہوتے ہیں تو ہمارا نام بھی بدل جاتا ہے یورپ والے انگریزی میں میں تھری لیوڈ کاپر Three Leaved Caper کہتے ہیں جب کہ ہمیں جو نباتاتی نام دیا گیا ہے وہ کریٹیوا نرولا بج ( Camera Nurvala Bouch ) ہے۔ بنارس کے شمال کی طرف دریائے گنگا، دریائے راوی کے مشرقی کنارے، مالا بار، آسام اور بنگال کے گرم علاقوں میں ہماری نسل عام پائی جاتی ہے۔ میرے نام برنا کے معنی نو خیز اور بیاہ کرنا کے ہیں۔ میرے پتوں کو آپ ذرا غور سے دیکھیں تو پیپل کے پتوں جیسے آپ کو لگیں گے۔ مگر ہمارے پتے اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ برچھی نما بیل کے پتوں کی مانند ایک شاخ میں تین تین لگتے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں بعد یعنی اپریل میں ہمارے اوپر خوب صورت سفید پھول نکلنا شروع ہو جائیں گے۔ ہمارا پھل گول لیموں جیسا چھوٹا ہوتا ہے۔ کچا ہو تو سبز رہتا ہے۔ پکنے پر رنگ بدل کر شرخ ہو جاتا ہے۔ تھوڑی ہی ہوا چلے تو ہماری مہک ہر سو پھیل جاتی ہے

ہمارے بدن کی چھال کا باہر کی طرف سے رنگ بھورا اور اندر کی طرف سبز ہوتا ہے۔ ہمارا قد بہت زیادہ اونچا نہیں ہوتا۔ پچاس فٹ تک جا سکتا ہوں ۔ ہمارے پتے، چھال، پھل اور لکڑی سب فائدہ مند ہیں۔ آیور ویدک اور یونانی طبیب صدیوں سے میرے مرکبات سے ادویات بناتے آئے ہیں۔ میری چھال پیشاب کی بندش ، مثانے کی سوزش اور پتھری کو ختم کرنے میں کمال اکسیر رکھتی ہے۔ بخار ہو یا درد، جگر کی خرابی ہو یا زخم ، میرے پتوں کا تازہ جوشاندہ کام آئے گا ! اور ہاں! یہ بھی معلوم ہے کہ آپ ہم سے بہت انسیت رکھتے ہیں۔ کوئی میں برس پہلے شہر کی بلدیہ کے صحن میں ہمارے پورکھوں کا قتل کیا گیا تو آپ کو بہت دکھ ہوا اور برنے کی موت کے عنوان سے ایک کالم بھی لکھا۔

یہ سنتے ہی مجھے برنے کا وہ درخت یاد آنے لگا جس کا قتل ہوا تھا۔ یہ برنا بلدیہ کے صحن میں کھڑا ہر روز ہمارے آنے جانے کا انتظار کرتا۔ سکول جاتے وقت یہ ہمارے راستے میں پڑتا تھا اور روزانہ آتے جاتے وقت اس کے قریب سے گذرتے ۔ مجھے یاد ہے میں نویں جماعت میں تھا کہ موسم بہار کے اختتام اور گرما کے آغاز میں اس کی بھینی بھینی سی خوشبو کا احساس سا ہونے لگا۔ میرے دادا حکیم تھے۔ میں نے اُن سے اس خوشبو پھیلاتے درخت کے بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ”برنا“ ہے اور ساٹھ کی دہائی میں بلدیہ کے ایک باذوق سیکرٹری نے شہر کی سڑکوں کے کنارے کئی جگہوں پر لگوائے۔ بچپن میں میرے ذہن میں گوندی کے درخت کے بعد اگر کوئی درخت نقش ہوا تو یہی برنا تھا۔ جس سے ملنا ہمارا روز کا معمول تھا۔ سکول کی تعلیم سے فراغت کے بعد مزید تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے۔ برنے کی خوش بو ساتھ ساتھ رہی تعلیم مکمل ہوئی اور ملازمت اختیار کرلی۔ دوستوں کے ساتھ شام کی واک معمول بن گئی۔ واک کے لیے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔ جہاں میرے بچپن کا ساتھی ” برنا کھڑا تھا۔

پھر اچانک ایک روز کیا ہوا! ” برنے کی موت ہو گئی۔ اسے بلدیہ کی عمارت کی تعمیر و توسیع کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ وہ جس مقام پر کھڑا تھا اُس کو بچایا جاسکتا تھا۔ مگر شاید اس لیے اُسے نہ بچایا گیا کہ وہ نصف صدی سے بلدیہ کے اندر ہونے والی کارستانیوں کا عینی شاہد اور گواہ تھا۔ یہ ایک برنے کی موت نہیں تھی ایک گواہ کی موت تھی ! میرے بچپن کے ساتھی کی موت تھی ، ارد گرد کے ماحول کو معطر کر دینے والی خوش بو کی موت تھی ! اس خوش بو کے قتل کے بعد ہم نے بھی اپنا راستہ بدل لیا اور شہر کی اس شاہراہ کو اپنا راستہ بنا لیا جہاں دو تین برنے ابھی زندہ کھڑے اپنے بھائی کی موت پر ماتم کناں تھے۔ مگر اتنے صابر کہ خوش بو کی مہک پھیلانے کی فطرت کو نہیں چھوڑا!!

ہماری باتوں سے برنے کے دونوں بھائیوں کے چہرے پر جیسے اداسی سی چھا گئی تھی۔ وہ ہمیں شاید اداس نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اپنی نم آلود آنکھوں کو ظاہر نہ کرتے ہوئے اپنی ترو تازہ شاخوں سے ہمارا لمس لینے لگے اور بولے!

سر! ہمیں معلوم ہے آپ کئی برسوں سے اُسی شاہراہ پر روزانہ شام کی سیر کے لئے نکلتے ہیں جہاں ہمارے مقتول پورکھ کے بھائی کھڑے ہیں۔ وہ بھی آپ کے استقبال کے لئے ہر وقت چشم براہ رہتے ہیں۔ انہی کے سائے میں ہر شام آپ کے شاعر دوست بشیر دیوانہ آپ کا انتظار کرتے ہیں اور پھر یہیں سے ہمارے ان پورکھوں کی مہک لیے آپ آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ کئی برس تک تو آپ مرحوم دوست سید حمید رضا شاہ بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ ہمارے خاندان کے ساتھ اسی پرانی انسیت اور محبت میں آپ نے ہم تین بھائیوں کو بارہ تیرہ برس پہلے یہاں لا کر بسایا۔ دو ہم یہاں اکٹھے رہتے ہیں اور ایک کو آپ نے اکیڈمک بلاک کے سامنے مین لان کے کنارے جا بسایا۔ ہم سے دوری سے وہ کچھ غم زدہ رہا اور اس کا قد چھوٹا رہ گیا۔ اس کو آپ کی محبت کی ضرورت ہے سر !

میں اُسی لمحے اس تیسرے بھائی کے پاس پہنچا۔ اُس کو دلا سا دلایا کہ تمہارے بھائی تم سے زیادہ دور نہیں ہیں اور یہ جو تمہارا اتنا خوب صورت پڑوسی اسٹونیا ہے نا یہ تمہارا بزرگ ہے۔ یہ یہاں کا پرانا باسی ہے۔ یہ تمہارا ضرور خیال رکھتا ہو گا۔

آپ کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
  • ‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے
  • عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار
  • ہم نامی کا مغالطہ
  • جہان بیدل ؛ چند تاثرات
شیئر کریں۔ 0 FacebookTwitterPinterestWhatsapp
Ranaayi

گزشتہ تحریر
نصیر احمد ناصر کی دو نظمیں
اگلی تحریر
بھٹو کی پھانسی پر پہلا ناول / سید کاشف رضا

متعلقہ پوسٹس حسب ضرورت متن

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025

‘میرا داغستان جدید’ پڑھتے ہوئے

دسمبر 26, 2025

جہان بیدل ؛ چند تاثرات

دسمبر 29, 2025

سفر و حضر کیسی کتاب ہے؟

جنوری 1, 2026

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا/ عاصم کلیار

جنوری 8, 2026

Leave a Comment Cancel Reply

اگلی بار جب میں کمنٹ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

Recent Posts

  • روشنی (کہانی)
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید
  • اخلاق احمد کی کتاب بھید بھرے
  • احوال ایران؛ چند فکری زاویے

Recent Comments

دکھانے کے لئے کوئی تبصرہ نہیں۔

رابطہ کیجیے

Facebook Twitter Instagram Pinterest Youtube Email

زیادہ مقبول تحریریں

  • 1

    بلاک کرنے کے نفسیاتی مضمرات

    دسمبر 8, 2025 238 views
  • 2

    صوفیوں کا استاد رنِد

    دسمبر 8, 2025 215 views
  • 3

    ہم نامی کا مغالطہ

    دسمبر 8, 2025 211 views
  • 4

    محمود الحسن کی کتابیں؛ دسمبر کا بہترین مطالعہ

    دسمبر 8, 2025 204 views
  • 5

    نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایک غلط فہمی

    دسمبر 8, 2025 180 views

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)

نیوز لیٹر کے لیے سبکرائب کیجیے

ہمارے بارے میں

ہمارے بارے میں

رعنائی ایسا آن لائن علمی، ادبی سماجی، اور محدود طور پر صحافتی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے علم و دانش کو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

گوشۂ خاص

  • روشنی (کہانی)

    جنوری 13, 2026
  • عشق کی تقویم میں / حارث خلیق

    جنوری 12, 2026
  • ادب یا شہر؟ / اقبال خورشید

    جنوری 11, 2026

تمام کیٹیگریز

  • others (4)
  • آرٹ/کلچر (3)
  • ادب (37)
  • انٹرویوز (2)
  • بچے (1)
  • بلاگ (21)
  • جشن رومی 2025 (14)
  • خصوصی مضامین (7)
  • سیلف ہیلپ (3)
  • صحت (1)
  • متفرق (23)
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • Threads

Copyright© 2025 Ranaayi, All rights reserved.

  • ہوم پیج
  • بلاگ
  • خصوصی مضامینNew
  • ادب
  • متفرق
    • صحت
    • سیلف ہیلپ
    • انٹرویوز
    • بچے
    • خواتین
  • آرٹ/کلچر

یہ بھی پڑھیںx

ہم نامی کا مغالطہ

دسمبر 8, 2025

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا...

جنوری 8, 2026

تیرے بعد تیری بتیاں

دسمبر 25, 2025
سائن ان کریں۔

احتفظ بتسجيل الدخول حتى أقوم بتسجيل الخروج

نسيت كلمة المرور؟

پاس ورڈ کی بازیافت

سيتم إرسال كلمة مرور جديدة لبريدك الإلكتروني.

هل استلمت كلمة مرور جديدة؟ Login here