حسد ایک ایسا احساس ہے جو بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اندر ہی اندر انسان کے دل، ذہن اور رشتوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اس وقت جنم لیتا ہے جب ہم کسی دوسرے کے پاس موجود نعمت، عزت، کامیابی یا محبت کو دیکھ کر بےچینی محسوس کرتے ہیں۔ دل میں ایک غیر محسوس سوال اٹھتا ہے کہ یہ سب اسے کیوں ملا، مجھے کیوں نہیں ملا؟ اگر یہ سوال دل میں ٹھہر جائے تو رفتہ رفتہ انسان اپنی قدر، سکون اور شکر کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ حسد دراصل کسی چیز کی طلب رکھنے سے الگ ایک رویہ ہے۔ یہ اپنی کسی محرومی کا دوسروں کی زندگی کے ساتھ موازنہ کرنے سے شروع ہوتا ہے۔
اکثر اوقات انسان وہی چیز سب سے زیادہ چاہنے لگتا ہے جو کسی اور کے پاس ہو۔ یہ خواہش بری نہیں، لیکن اگر اپنی طرف سے حصول کی کوشش شروع کرنے کے بغیر ہی بڑھتی جائے تو حسد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کیفیت میں انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو بھی نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ اس کا نفسیاتی نقصان یہ ہوتا ہے کہ ذہنی انتشار بڑھ جاتا ہے، اور رشتوں میں بداعتمادی پیدا ہونے لگتی ہے۔ یوں حسد دوسروں سے دوری بھی پیدا کر دیتا ہے اور انسان کو خود اپنی خوشیوں سے بھی محروم کر دیتا ہے۔
حسد ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر پنپتی رہتی ہے۔ جب کوئی شخص بار بار خود کو کم تر سمجھنے لگے، اپنی قدر و قیمت کا دوسروں کی کامیابیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے لگے، تو دل میں یہ احساس جڑ پکڑنے لگتا ہے کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ اس کے نتیجے میں خود اعتمادی کمزور پڑ جاتی ہے اور دوسروں کی کامیابی زیادہ چبھنے لگتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات ہمارے اردگرد کا ماحول بھی حسد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مسلسل دوسروں سے موازنہ کیا جانا، کسی اور کو بار بار مثال بنا کر پیش کیا جانا، یا اپنی کوتاہیوں کو دوسروں کی کامیابیوں سے منسلک کرنا وغیرہ امور حسد کو ہماری شخصیت کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسروں کی طرف سے ملنے والی محبت اور توجہ میں کمی کا شدید احساس بعض اوقات دل میں بیٹھ جاتا ہے تو یہی چیزیں کسی دوسرے کے پاس دیکھ کر حسد ہونے لگتا ہے۔ لہذا ہمیں سمجھنا چاہیے کہ مسلسل دوسروں سے موازنہ کرنے میں لگے رہنا انسان کو اپنی اصل شناخت سے دور لے جاتا ہے، کیونکہ موازنہ کبھی سکون نہیں دے سکتا۔
یہ بھی یاد رہے کہ جب کسی کی کامیابی کو دیکھ کر دل میں یہ احساس آئے کہ میں بھی کچھ سیکھ کر، کچھ محنت کر کے آگے بڑھ سکتا ہو تو حسد نہیں ہے ، اسے رشک کہا جاتا ہے۔اس میں نہ تو سامنے والے سے نفرت پائی جاتی ہے نہ اس کے نقصان کی خواہش جنم لیتی ہے لہذا نفسیاتی طور پر یہ ایک مثبت احساس ہے، یہ ہرگز برا نہیں۔ بلکہ یہ احساس انسان کو آگے بڑھنے اور خود کو بہتر بنانے کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس جب کسی اور کی خوشی یا کامیابی دل میں چبھن بن کر رہ جائے اور لاشعوری طور پر یہ خواہش جنم لینے لگے کہ اگر یہ چیز اس کے پاس نہ ہو بلکہ اس سے چھن کر مجھے ملنی چاہیے تو یہی حسد ہے جو سراسر ایک منفی جذبہ ہے۔ یہ احساس ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ دل پر بوجھ بن کر رہ جاتا ہے اور اندر ہی اندر انسان کو کمزور کرتا رہتا ہے۔
لہذا جہاں حسد سے اپنی ذاتی کامیابی کا سفر تک جاتا ہے وہیں رشک سے کامیابی جنم لینے لگتی ہے۔
حسد سے نجات کے عملی اور نفسیاتی طریقے بلاشبہ موجود ہیں اور ان کو ضرور اپنایا جانا چاہیے۔ مثلا یہ کہ حسد کو دبانے کے بجائے اگر اسے سمجھداری سے ہینڈل کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے۔ جس شخص سے دل میں جلن محسوس ہو، اس کے لیے دل ہی دل میں دعا کرنا بھی دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ اسی طرح اپنے آپ سے نرمی سے بات کرنا اور یہ تسلیم کرنا کہ میرے دل میں حسد پیدا ہو رہا ہے، یہ حسد سے بچاؤ کا پہلا زینہ ہے۔
ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ حسد کس محرومی کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ اگر وہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے تو اس پر عملی قدم اٹھائیں، اور اگر وہ آپ کے اختیار میں نہیں تو خود کو اس بات پر مطمئن کرنا سیکھیں کہ جو چیز انسان کے اختیار میں نہ ہو اس پر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا سے مناسب فاصلہ رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بھی مسلسل موازنہ کرتے رہنے کی عادت بن سکتی ہے جو حسد کو بڑھا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ روزانہ شکر کی عادت بھی دل کو نرم اور نظر کو صاف کرتی ہے۔
اسلام بھی حسد کو دل کی ایسی بیماری قرار دیتا ہے جو انسان کے ایمان، سکون اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ کیونکہ حسد دراصل اللہ کی تقسیم پر دل سے راضی نہ ہونے کی علامت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی اور کی نعمت دیکھ کر جلتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر اللہ کے فیصلے پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی نعمت پر جلنے کے بجائے اپنی نعمتوں پر شکر اور دوسروں کے لیے خیر کی دعا کی جائے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
“اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے”
(سورۃ الفلق، آیت 5)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حسد ایک ایسا احساس ہے جس کے شر سے اللہ نے پناہ مانگنے کی تعلیم دی۔ اسلامی نقطۂ نظر سے حسد کا علاج شکر، صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے میں ہے۔ دین ہمارے اندر یہ یقین بھی پیدا کرتا ہے کہ اللہ کی تقسیم مکمل انصاف اور حکمت پر مبنی ہے۔ لہذا ایسی چیزوں پر عمل کر کے دل کو صاف رکھنا ہی انسان کو حسد سے نکال کر حقیقی سکون کی طرف لیجا سکتا ہے۔