ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین نے ممتاز فکشن نگار خالدہ حسین سے 2015 میں گفتگو کی تھی جسے آصف فرخی نے اپنے رسالے دنیا زاد میں شائع کیا تھا۔
اب یہ گفتگو رعنائی کے قارئین کے لیے سال 2026 کے پہلے تحفے کے طور پر ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔
خالدہ حسین سے ایک مکالمہ
ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین
عنبرین صلاح الدین: میں ایک عرصہ سے آپ کوپڑھ رہی ہوں اور آپ کے افسانوں کی مداح ہوں۔
خالدہ حسین:یہ تو بڑی اچھی بات ہے، بڑی خوش خبری ہے کیونکہ مجھے تو بہت کم لوگ پڑھتے ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہی ہوں۔ میرا موضوع صنف اور ادب ہے اور میں فکشن نگار عورتوں کے ادب میں موجود علامتوں کا تجزیہ کر رہی ہوں۔
خالدہ حسین: اس سلسلے میں ایک مضمون ہے، مضمون نگار کامیں نام بھول رہی ہوں، ان کا انتقال ہو چکا ہے۔
عنبرین صلاح الدین: آپ غالباَ سہیل احمد خان صاحب کی بات کر رہی ہیں۔
خالدہ حسین: جی بالکل۔ ان کا بہت اچھا کام ہے۔
عنبرین صلاح الدین: ان کا کام میں نے پڑھا ہے۔ اور علامت کے مباحث سے متعلق کچھ اور کتابیں بھی دیکھی ہیں ،مغربی مباحث بھی دیکھے ہیں۔ ہم آغاز یہیں سے کرتے ہیں کہ اکثر مصنفین کے ہاں روایتی بیانیہ انداز ہی ملتا ہے۔ کہیں کہیں کسی افسانے میں کوئی علامت تو مل جاتی ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مکمل علامتی انداز میں لکھا، کیا آپ نے شروع سے ہی روایتی طرزِ اظہار سے ہٹ کر لکھنے کا سوچا؟
خالدہ حسین: کسی بھی انداز کو اپنانے کے دو طریقے ہوتے ہیں ۔یا یہ ہوتا ہے کہ آپ شعوری طورپر یہ ارادہ کریں کہ مجھے اس انداز میں لکھنا ہے اور وہ اندازپہلے سے موجود ہو اور آپ اس کو اختیار کر لیں۔یا یہ کہ وہ تخلیقیت آپ کے اندر لاشعوری طور پر موجودہوتی ہے۔ اور آپ کی ذات کے ساتھ اس کی کچھ وابستگی ہوتی ہے،کسی بھی وجہ سے؛ آپ کے ماضی کی وجہ سے، آپ کی پرورش کی وجہ سے،یا آپ کی شخصیت کے کسی خاص پہلو کی وجہ سے۔ تو آپ لاشعوری طور پراس کو اپنا لیتے ہیں اور آپ کو علم نہیں ہوتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ میں تو اس کو اِلہامی کہتی ہوں۔ اس میں کوئی توجیہہ کام نہیں کرتی۔ بس وہ ایک تخلیقی تجربہ ہوتا ہے جو بغیر کسی عقلی وضاحت کے، آپ کے اندر سے ابھرتا ہے۔اور آپ اسی میں لکھنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ آپ کو نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں علامت میں لکھ رہی ہوں یاکیا لکھ رہی ہوں، یہ سب میرے تجربے سے آیا۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی آپ نے شعور ی طور پرایسا نہیں کیا۔
خالدہ حسین: بالکل نہیں ۔ دراصل میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگرکوئی سنجیدگی سے علامتی انداز میں لکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ اس کا محسوس کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ اس نے نہ تو کہیں سے مستعار لیا ہوتا ہے نہ ہی کتابوں سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ بلکہ پیدائشی طور پہ یا الہامی طور پہ قدرت اس کو پیداہی ایسا کرتی ہے کہ وہ چیزیں اسے ویسی نظر آئیں۔
عنبرین صلاح الدین: آپ نے فلسفہ اور نفسیات پڑھے؟
خالدہ حسین: ہاں فلسفہ میں نے پڑھا ہے،مجھے اس میں دلچسپی تھی۔مجھے سکالر شپ بھی ملے ہوئے ہیں۔ لیکن میں نے تحریر میں یہ چیزیں شعوری طور پر نہیں کی تھیں،یہ چیزیں تخلیقی انداز میں میرے ذہن میں آتی تھیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ،دنیا میں جو چیزیں دیکھتا ہے، وہ خود علامتی ہو جاتی ہیں۔ وہ خود کوئی علامت تخلیق کرنے کا نہیں سوچتا ، لیکن ہوتایہ ہے کہ اب اس کے سامنے ، فرض کریں کوئی پھول ہے یا کوئی گاڑی گزر رہی ہے، جیسے کہ میں نے لکھا کوئی سواری گزر رہی ہے، تو یہ کچھ ہے، تو خود بخود اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اصل معنی یہ ہیں۔میں دیکھ رہی ہوں کہ جو گاڑی جا رہی ہے، اس کے دو پہیے ہیں اور اس کے آگے گھوڑا لگا ہوا ہے یا بیل لگا ہوا ہے، تو یہ اصل میں یہ نہیں ہے۔یہ کچھ اور ہے۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی دیکھنے کے اندازکا فر ق ہے۔
خالدہ حسین: محسوس کرنے کا طریقہ ہے۔ میرا خیال ہے یہ کہیں سے حاصل نہیں کیا جاتا ۔کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں اور جب وہ یہ کرتے ہیں تو اس تحریر میں تھوڑا تصنع آجاتا ہے۔ اورتحریر خشک اور تھوڑی سی میکانکی ہو جاتی ہے۔
عنبرین صلاح الدین: آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کے موضوعات کہاں سے آتے ہیں؟علامتیں زیادہ تر کہاں سے آ رہی ہیں، جس طرح بانو قدسیہ کے ہاں، علامتی حوالے سے ہٹ کر ،ہندو دیومالا ویسے ہی جا بجا نظر آتی ہے۔ یعنی ان کااس سے خاص ربط ضبط ہے۔ اوراسی طرح کچھ علامتیں مذہب ، کلاسیکی ادب ،لوک ورثے یا ثقافت سے بھی آ تی ہیں،فطرت سے بھی آ سکتی ہیں۔آپ کہاں زیادہ ربط محسوس کرتی ہیں؟
خالدہ حسین: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا خاندانی پس منظر مذہبی ہے۔ ہمارے ہاں اس طرح کے کوئی بڑے لوگ تونہیں پیدا ہوئے، کوئی پیر فقیریا کوئی بزرگ۔ لیکن یہ ہے کہ روحانی طور پہ ہم لوگوں میں مذہب کا ذوق و شوق ہے۔ میرے والد کو بہت زیادہ تھا۔ میرے نانا میں بھی بہت تھا۔ اسی طرح ہمارے بزرگوں میں بھی تھا۔ تو وہ مجھے ورثے میں ملا ہے اور ہمارے سب بہن بھائیوں میں موجود ہے۔ مذہب کے اندر آپ کو علم ہے کہ بہت زیادہ علامتیں ہوتی ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: آپ کے ہاں موجود مذہبی علامتیں کچھ تجریدی اور کچھ ٹھوس ہیں۔
خالدہ حسین: زندگی کی مابعد الطبیعاتی سطح کا جو احساس ہے، وہ مذہب سے آپ کے اندر آتا ہے، اور مذہب کے بہت سے تصورات آپ اپنے والدین سے یا گردوپیش سے لیتے ہیں۔اس سے میری یہ چیزیں بنتی ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی مذہبی چیزوں میں لوگوں کو کچھ تجسس محسوس ہوتا ہے۔کچھ کے لیے وہ ایمان یا زندگی کا طریقہ بن کر آتی ہیں۔
خالدہ حسین: ہاں۔
عنبرین صلاح الدین: تو آپ دوسری قسم کے بارے میں بات کر رہی ہیں؟
خالدہ حسین: میں یہ کہتی ہوں کہ مذہب ، اس کی ساری مابعد الطبیعات اور دیگر علامتیں،یہ ساری چیزیں آپ کو ایک بنیادفراہم کرتی ہیں۔ لیکن اس کے بعدوہ آپ کی اپنی خاص شخصیت ہوتی ہے جو اصل زندگی میں سے علامتیں نکالتی ہے۔ میں نہیں سمجھتی، کہ میری علامتوں کامذہب کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔
عنبرین صلاح الدین: آپ کے ہاں اگر کوئی مذہبی علامت آتی ہے تو وہ اس کو استعمال کرنے کے معنوں میں نہیں ہے۔
خالدہ حسین: نہیں ہے۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی جس طرح کچھ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں، وہ اس روایتی طریقے سے نہیں آتی ہے۔
خالدہ حسین: یہ کوئی باہر کی چیزنہیں ہے، بلکہ میرا وہبی تجربہ ہے۔ تو اس لیے ان کا مذہب سے کوئی براہ رست تعلق نہیں ہوتا،جو بھی مابعدالطبیعاتی چیز ہے ،زندگی کی بنیاداس کے ساتھ ہے۔ کیونکہ یہ میرا ہمیشہ سے ہی مسئلہ رہا ہے کہ طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی میں جوتعلق ہے، وہ زندگی کاہے۔ اوریہ کہ اس کی ہماری زندگی میں کیا حیثیت ہے ۔اور انسان کا تجربہ یا اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی اہم ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں جن لوگوں سے میں ملتی ہوں،وہ مجھے ایک دم سے بڑے پراسرار سے لگنے لگتے ہیں ۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی وہی دیکھنے کاالگ اندازہوا ۔ آپ مادے کو کیسے دیکھ رہے ہیں اور دوسرے لوگ کیسے دیکھ رہے ہیں۔
خالدہ حسین:جب مجھے لوگوں نے بتایا ، ناقدین وغیرہ نے۔ میں تو اس کو شبیہہ (image) سمجھتی تھی۔ شبیہہ آتی تھی میرے ذہن میں۔ اب شبیہہ اور علامت میں کیا فرق ہے، یہ بھی آپ دیکھیں۔ اب جو شبیہہیں تھیں جب میں نے ان کو لکھا تو لوگوں نے کہا کہ یہ تو علامت ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ پتا کرنا چاہیے کہ علامت کیا ہوتی ہے۔کیونکہ میں نے تو ان کے بارے میں زیادہ پڑھا نہیں تھا۔
عنبرین صلاح الدین:یعنی ہیوم کی تاثراور شبیہہ جیسی بات! آپ کا نام اہم ہے اور اس میں کوئی د و رائے نہیں۔ آپ کا حوالہ علامتی طرزِ اظہار ہی ہے، سو آپ نے علامت کو کچھ نیا تو دیا ہوگا ۔ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ آپ نے نئی علامتیں بنائی ہیں یا پرانی کو نئی شکل میں پیش کیا ہے یاان کی روایتی شکل توڑی ہے ۔
خالدہ حسین: میں نے آپ کو بتایا ہے کہ یہ کوئی شعوری کوشش نہیں تھی۔اور ظاہر ہے کہ اگر ایسا نہیں تھا تو میں نے بنی بنائی علامت کو کوئی نئے معنی نہیں دیے۔ یہ پہلے سے موجود ہیں۔ یہ سب میرااپنا تجربہ تھا۔ اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ زندگی کی عام چیزیں میرے ہاں علامتیں بن جاتی ہیں۔ گری پڑی چیزیں۔ ابھی میرے ذہن میں ایک کہانی آ رہی ہے، میں سوچ رہی ہوں اسے لکھوں گی، ’گری پڑی چیزیں‘۔ کہ زندگی کی عام چیزیں معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔اس لیے میں نے نہ تو کہیں سے پڑھا ہے اور نہ کہیں سے اثر قبول کیا ہے۔ البتہ بعد میں میں نے پڑھا۔ جب لوگوں نے کہا کہ آپ علامتی انداز میں لکھتی ہیں تو میں نے ان لوگوں کو پڑھا جوایسا لکھتے ہیں۔کافکا کو پڑھا اور ظاہر ہے وہ مجھے اپنے بہت قریب لگے۔ بہت زیادہ۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ میری زندگی کے دو حصے ہیں، ایکmetamorphosisپڑھنے کے بعد اور ایک اس سے پہلے۔
عنبرین صلاح الدین: اچھا!یعنی وہاں divideبن رہاہے۔
خالدہ حسین: اتفا ق کی بات ہے کہ میں اپنی وہ کہانیاں لکھ چکی تھی ، اس کے بعد میں نے metamorphosisپڑھی ۔
عنبرین صلاح الدین:میں آپ سے ’ہزار پایہ‘ کا پوچھنے لگی تھی ۔
خالدہ حسین: ۔ میں ہزار پایہ بھی لکھ چکی تھی۔سواری بھی لکھ چکی تھی۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ تم کافکا کو پڑھو۔ کافکا کو میں نہیں جانتی تھی لیکن کچھ بڑے اچھے لوگ تھے، کافی پڑھے لکھے، انہوں نے مجھے بتایا۔ اس کے بعد میں نے پڑھا تو میں اس قدر اس کی گرفت میں آ گئی کہ میں نے کہا کہ یہ تو بالکل میری طرح لکھتا ، سوچتا اور محسوس کرتا ہے۔ مجھ پر اس کا بہت اثر ہوا تھا ۔
عنبرین صلاح الدین: میں نے آپ کی کہانیاں پڑھتے ہوئے محسوس کیا کہ آپ کی تحریر میں پیچیدگی ہے۔ آپ کے ہاں یہ محسوس ہوا کہ یہ بھی علامت ہے اوروہ بھی۔ جیسا کہ ’گنگ شہزادی‘ میں ایک لڑکی اپنی نظر سے ارد گرد کی دنیا کو دیکھ رہی ہے اور اپنی جگہ یا مقام سمجھنا چاہتی ہے۔آپ نے بہت عمدہ انداز میں دکھایا کہ کہاں وہ رکاوٹ آ رہی ہے کہ جس سے پرے جا کر نہ وہ بات کر سکتی ہے نہ یہ ساری باتیں بیان کر سکتی ہے۔ آپ کی تحریر میں سے کوئی اقتباس نکال کر اسے اس طرح پیش کر نا کہ جیسے وہ مکمل علامت ہو، تھوڑا سا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ پیچیدگی چیزوں کو زیادہ بامعنی بناتی ہے لیکن لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ بڑا مشکل ہے، اور اسے اس لیے مشکل بنایا گیا ہے کہ سمجھ نہ آئے اور ایسی تحریر کو لوگ اعلی درجے کا ادب سمجھیں۔کیاپیچیدگی readabilityکو تھوڑا کم کرتی ہے، کیا آپ کو ایسا لگتا ہے؟
خالدہ حسین: مسئلہ یہ ہے کہ قاری کبھی میرے ذہن میں آیا ہی نہیں۔ میں تو جب بھی لکھتی ہوں اپنے لیے لکھتی ہوں۔ میرے اوپر ایک کیفیت طاری ہوتی ہے یا میرے اندر ایک خیال آتا ہے، اورمیں کہتی ہوں کہ کسی طرح اس سے نجات حاصل کر لوں۔میں اپنے آپ کو ہلکاکرنے کے لیے لکھتی ہوں۔ قاری کا خیال مجھے کہیں بعد میں آتا ہے، پہلے نہیں آتا۔ میں تو چاہتی ہوں کسی طرح اپنا اظہارکرلوں ۔ اور پھر بعد میں جب مجھے نقادوں نے احساس دلایا کہ آپ کی نثر سمجھ نہیں آتی ، آپ کو یہ خیال نہیں آتا کہ آپ کا قاری آپ کو سمجھ نہیں سکے گا۔تو میں کہتی ہوں ہو سکتا ہے میری اس میں کوئی خود غرضی ہو۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ ہے کہ میں کوئی پروفیشنل مصنف نہیں ہوں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لکھنا میرا شوق ہے بلکہ شوق بھی نہیں، میری مجبوری ہے۔ میرا ایک روحانی تجربہ ہے۔میں نہیں سمجھتی کہ اس سے میں نے کوئی فائدہ حاصل کرنا ہے یالوگوں کو اپنا مرید بنانا ہے، گرویدہ بنانا ہے، یا زیادہ سے زیادہ قارئین پیدا کرنے ہیں۔ میں سب سے پہلے اپنا اظہارچاہتی ہوں۔ بعد میں جب مجھے یہ لگا کہ دنیا میں ایک گروہ، ایک جماعت یا کچھ لوگ ایسے ہیں جو بالکل میری طرح سوچتے سمجھتے ہیں اور مجھے پڑھ کے سمجھ بھی لیتے ہیں تو اس کے بعد مجھے کافی طمانیت ہوئی کہ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن پھر بھی میں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ میں اپنے لکھنے کو لوگوں کی خاطر بدلوں ۔ میرے اندر یہ بڑی خرابی ہے، بڑی کمی ہے کہ میں اپنے لکھنے لکھانے کو سوشل سروس نہیں بنا سکی۔ میں نہیں سمجھتی کہ اس کام سے میں معاشرے کی کوئی خدمت کر رہی ہوںیا اس کی کوئی اصلاح کر رہی ہوں۔ میں اس کو صرف اظہارِ ذات کا ذریعہ سمجھتی ہوں۔
عنبرین صلاح الدین: مجھے دو باتیں سمجھ آئیں،ایک تو یہ کہ ادب sellableہو یا نہ ہو ، یہ ادیب کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور دوسری بات یہ کہ ادب کو آپ پروپیگنڈہ یا منشورنہیں بنانا چاہتیں۔
خالدہ حسین: یہ ایک قدرتی سی بات ہے کہ ادب کبھی بھی غیر متعلق نہیں ہوتا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا کتنا ہی غیر متعلق ہونے کی کوشش کرے ، نہیں ہو سکتا۔ میں نہیں سمجھتی کہ وہ کتنا بھی خود کو کونوں کھدروں میں، دنیا سے علیحدہ کر کے چھپالے، کچھ بھی کرلے، دنیا کے حالات اور ماحول اس پر ہر طرح سے اثرانداز ہوں گے، اگر وہ جینوئن لکھنے والا ہے تو۔ تو میں جو کچھ لکھتی رہی ہوں، لوگوں نے اس کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ اس میں معاشرے کے مسائل ہیں، حالانکہ میں نے ان کے مسائل پر نہیں لکھا۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں اور مجھے دعوت دیتے ہیں کہ آپ ان مسائل پہ لکھیں تو مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے ۔ میں کہتی ہوں آپ ادیبوں کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کے مسائل پہ لکھیں۔ وہ تو صحافی لکھے گا۔ یاتحقیق کرنے والے یہ کام کریں گے۔ جو تخلیقی طور پر لکھنے والا ہے ،وہ مسائل پہ نہیں لکھ سکتا۔ وہ نہیں لکھتا۔ وہ مسائل اس کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اس کی تحریروں کا نتیجہ ہوتے ہیں، سبب نہیں۔ یہ علت و معلول کا فرق ہے۔ جو مسائل ہیں، وہ علت نہیں ہیں، معلول ہیں۔یہ اس کی تحریروں کا نتیجہ ہے کہ وہ مسائل آپ کے سامنے آتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ اس نے سبب پکڑکے آپ کے لیے لکھ دیا۔مگر جب اس نے لکھا تو اس میں سے آپ نے اپنے مسائل کی نشاندہی کی ۔
عنبرین صلاح الدین: آپ کی تحریروں میں صنف یعنی جینڈر نہیں ہے ، وہاں فرد ہے۔ یعنی ایک عورت ہے، اور اس کا کوئی مسئلہ ہے، یا مرد ہے اور اس کا بھی کوئی مسئلہ ہے، لیکن بحیثیت فرد ۔ آپ کے کچھ افسانے خاص طور پر عورت کے حوالے سے بھی ہیں۔ ایک فرد یعنی individualکی طرح دیکھنا اور عورت کے استحصال کا ویسے ڈھنڈھوراپیٹنا اور اس بات کو موضوع بنا کر لکھنا، یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ نے ایک فرد کے طور پر زیادہ لکھا ہے۔
خالدہ حسین: میں آپ کو بتاﺅں کہ شروع میں، میں نے بطور فرد ہی لکھا ہے۔ اس میں جینڈر نہیں۔ ایک انسان ، ایک beingکی حیثیت سے لکھ رہی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں عملی زندگی میں نہیں پڑی تھی۔ شادی سے پہلے بڑا فرق ہوتا ہے۔ میری اپنی دنیاسب سے زیادہ اہم دنیا تھی، میرے اپنے نظریات اور اپنی چیزوں کی، اپنی سوچ کی ، اپنی فکرکی دنیا میرے لیے بہت اہم تھی اور مجھے نہیںمعلوم تھا اور نہ یہ سمجھتی تھی کہ عورت اور مرد ہونے سے زندگی مختلف ہو سکتی ہے۔ میں کہتی تھی کہ سب کی زندگی ایک سی ہوتی ہے۔ مجھے بالکل احساس نہیں تھا لیکن شادی کے بعد مجھے پتا چلا کہ یہ تو بہت مختلف ہے۔ اس کے بعد میرا خیال ہے کہ میرے پاس اتنا خالص فردنہیں رہاجتنا کہ میں نے بطور عورت کے لکھا ہے۔ تو یہ دونوں طرح کی کہانیاں ہیں۔ اگرچہ وہ تھوڑی سی کہانیاں ہیں جو میں نے بطور عورت لکھیں۔ لیکن اب پھرسے میں بطور فرد ہی لکھ رہی ہوں۔
عنبرین صلاح الدین:شادی سے پہلے کتنے افسانوی مجموعے شائع ہو چکے تھے؟
خالدہ حسین: جتنی کہانیوں کی وجہ سے لوگو ں نے مجھ پر توجہ کی اور میرا نام ہوا، ساری شادی سے پہلے کی ہیں۔ اس کے بعدجو کہانیاں لکھیں ، جیسا کہ میری ایک کہانی ’بایاں ہاتھ‘ ہے، وہ خالص ایک عورت کے حوالے سے لکھی گئی ہےں۔ اس کے بعد پھر میں نے ایک عورت کے حوالے سے سوچنا اور سمجھنا شروع کیا۔ شروع میں ایسا نہیں تھا۔
عنبرین صلاح الدین:یعنی جیون ساتھی کی موجودگی سے سوچنے اور لکھنے کے انداز میںفرق آتا ہے۔ کیا ایساہی ہے؟
خالدہ حسین: ہاں بڑا فرق پڑتا ہے ، تجربے اور انسان کی زندگی میں بڑا فرق آتا ہے۔
عنبرین صلاح الدین: توآپ اسے منفی اثر کے طور پر دیکھتی ہیں یا مثبت؟
خالدہ حسین: یہ منفی اثران معنوں میں نہیں ہو سکتا کہ یہ ہمارے تجربے کو وسیع کرتا ہے ۔ پہلے مجھے لگتا تھا کہ وہ زندگی محدود ہے جس کے بارے میں میں لکھتی ہوں۔ بعد میں لگا کہ ایسا نہیں تھا، گو کہ یہ چیزیں ہمیں ناپسند ہوتی ہیں، بڑا ٹکراﺅ ہوتاہے ،جھگڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عمل زندگی میں وسعت پیدا کرتا ہے، سوچ میں بھی اور ہمارے تجربوں میں بھی۔ انھیں میں منفی اثرات نہیں سمجھوں گی۔
عنبرین صلاح الدین: میں یہ بات بطور فرد کے بھی سمجھنا چاہ رہی ہوں۔ یعنی اس بات کا اثر پڑتا ہے کہ آپ کیسے سوچتی ہیں اور آپ کیسے لکھتی ہیں۔کیا آپ نے عورت کا کردارزیادہ تانیثی حوالے سے لکھا یا نسوانی؟
خالدہ حسین: نسوانی ۔ ایک کہانی ہے جو میں سمجھتی ہوں کہ اس میں تانیثیت ہے، وہ ہے ’بایاں ہاتھ‘، بس۔
عنبرین صلاح الدین: تو آپ تانیثیت کو کیسے دیکھتی ہیں؟
خالدہ حسین: میرا اس کے ساتھ کوئی ربط نہیں بنتا، کوئی قربت محسوس نہیں ہوتی ۔ میں اسے ایک مقصد نہیںبنا سکی۔ میرا زیادہ ترمسئلہ زندگی کے ساتھ بطور انسان ہے۔ ظاہر ہے عورت اور مرد ہونے کے ناطے زندگی کے تجربے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتی کہ اس میںکوئی نقصان ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ میری کچھ کہانیوں سے یہ لگتا ہولیکن ایک آدھ کہانی ہی ایسی ہوگی ۔
عنبرین صلاح الدین: کیا کبھی طبقاتی، نسلی، مذہبی ، ثقافتی یا ذات پات کے مسائل پر لکھا؟
خالدہ حسین: میرے ہاں بنیادی طور پر کچھ فلسفیانہ رنگ ہے ، اس میں میری ہمیشہ سے دلچسپی بھی رہی ہے اور یہ میرا مزاج بھی ہے۔ میں نے ہمیشہ اخلاقی اچھائی پر لکھا۔ اس کامیرے اندر احساس ہے کہ اچھائی کیا ہے۔ سو اس کے حوالے سے میں ضرور لکھتی رہی ہوں۔
عنبرین صلاح الدین: سو اچھائی کیا ہے، کیا آپ اس کو ایک utilitarianانداز میں دیکھتی ہیںیا کسی اور طرح؟
خالدہ حسین: ہاں، پھر یہ conflictآتا ہے کہ کیا اچھائی مذہب کے ساتھ وابستہ ہے یا عام انسان مذہب کے بغیر بھی اچھائی حاصل کر سکتا ہے۔ سو میرا خیال ہے کہ میں فطری طور پہ مذہب کے ساتھ وابستہ ہوں۔ میں اس بندھن کو توڑ نہیں سکتی۔ نہ ہی توڑ سکی کیونکہ یہ میرے اندر بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ لوگوں نے میرے اندر تصوف بھی ڈھونڈا، یہ بھی ڈھونڈا، وہ بھی ڈھونڈا۔
عنبرین صلاح الدین:چلیں تصوف کا بھی بتا دیں کہ آپ اسے کیسے دیکھتی ہیں اورکس حد تک اپنی تحریروں میں بیان کر سکیں؟
خالدہ حسین: دیکھیں شعوری طور پرتو میں نے یہ بھی نہیں اپنایا۔ البتہ یہ سوالات کہ ایک مابعدالطبیعاتی عظیم قوت کے ساتھ تعلق اور زندگی کیا ہے؟ اس کی اصل حقیقت کیا ہے اور اس کے مابعد الطبیعاتی پہلو کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ سب چیزیں تصوف کی صورت میں میرے ہاں آئی ہیں۔ ورنہ عملی یا تکنیکی تصوف کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں، نہ میں نے اسے پڑھا ہے۔ میرا اس سے تعلق صرف مابعد الطبیعاتی تجربات اور صفائے قلب کا ہے۔ یہ تصوف وغیرہ آپ کو بانو قدسیہ کے ہاں بہت ملے گا۔ لیکن میرا مزاج وہ نہیں ہے۔ بالکل بھی نہیں۔ وہ لوگ تو بڑے عملی صوفی ہیں۔ میں تو سچی بات ہے کہ بہت کمزور انسان ہوں۔ سختیاں بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اور اپنے خاندان میں سب سے چھوٹا ہونے کے ناطے زندگی میں سب سے بڑا complex بھی یہی ہے کہ ہم پانچ بہن بھائی تھے اور میں سب سے چھوٹی تھی۔ مجھے زندگی میں شروع سے اتنا تحفظ ملا، اتنا پیار ملا۔اور میں نے اتنی محفوظ زندگی بسر کی، تو اس کے بعد مجھے لگتا ہے کہ بغاوت میرا مزاج ہی نہیں ہے۔ اور نہ میں یہ کر سکتی ہوں کہ خدا سے اور مذہب سے بے نیاز ہو جاﺅں۔ یہ میرے بس کی باتیں نہیں۔ میرے اندر بزدلی ہے، میں یہ مانتی ہوں۔
عنبرین صلاح الدین: اس کو committedہونا بھی تو کہہ سکتے ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں وہ تو ہے، بلکہ commitmentبھی نہیں، یہ میری فطرت ہے ۔میں اپنے ما بعدالطبیعاتی یا اخلاقی اصولوں کے خلاف نہیں جا سکتی ہے۔ بہر حال یہ تضادات تو آتے ہیں ۔ تضادات کے بغیر افسانہ نہیں لکھا جا سکتا۔
عنبرین صلاح الدین: میرے خیال میں یہ ضروری نہیں کہ آپ تحریر سے کوئی موضوع ہی ڈھونڈیں۔ مثال کے طور پر آپ کے افسانے ’دہانِ زخم ‘ کا ایک کردار ہے، جو اپنی چارپائی پر لیٹا ہے اور ایک اور کردار ’جنتے کی بہو‘ کی چوڑیوں کا جب ذکر آتا ہے تو وہ جس طرح سوچتا ہے اسے آپ نے بہت لطیف پیرائے میں لکھا ہے کہ جہاں اسے اردگرد کی سب چیزیں جنتے کی چوڑیاں لگ رہی ہیں ، باغیچے کی کلیاں، سیاہ لیٹر بکس کے نیلے لفافے۔۔ اس کردار کے لیے کالک کا مفہوم کیا ہے اور دوسرا شخص کالک کو کیسے دیکھ رہا ہے۔ سو اگر اس افسانے سے مجھے صرف یہی کچھ ملا ہو تو بھی یہ ایک بہت بڑا کام ہے ۔ آپ کی کہانی میں اگرچہ وہ ایک مرد ہے مگر میں عورت ہوتے ہوئے اس کردار سے اپنا ربط دیکھ رہی ہوں۔
خالدہ حسین:بہت اچھا ۔ very intelligent۔یہ بات واقعی بہت کم لوگ سمجھتے ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے بہت مطالعہ کر رکھا ہے ،کچھ اپنے پسندیدہ مصنفین کے بارے میں بتائیں؟
خالدہ حسین: جو پسند ہوتے ہیں ان کے انسان اثرات بھی لیتا ہے۔ ایک زمانے میں وجودیت کا مجھ پر بہت اثر رہااور مجھے ابھی بھی کچھ اختلافات کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں؛ سارتر، کامیو، کافکا۔
عنبرین صلاح الدین: اورروسی ادب ؟
خالدہ حسین:ہاں بالکل۔ ٹالسٹائی کومیں اس کے کرافٹ، جزیات نگاری اور بیانیہ اندازکی وجہ سے پسند کرتی ہوں۔ دوستو وسکی تحت الشعور کا لکھاری ہے۔
عنبرین صلاح الدین:وہاں آپ زیادہ ربط محسوس کرتی ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں، بہت زیادہ۔ نابا کوف اور کنڈیرا بھی ہیں۔مجھے یہ پائلو کوہیلو وغیرہ اچھے نہیں لگتے۔
عنبرین صلاح الدین: اور گارشیا مارکیز ؟
خالدہ حسین: مارکیز کے ساتھ میرے تھوڑے اختلافات ہیں۔ حالانکہ میں اس قابل تو نہیں کہ اتنے بڑے مصنف کے بار ے میں یہ کہوں۔ لیکن ظاہر ہے اس کا پوری دنیا پر اثر ہے اور ہر ملک کا لکھنے والا اس سے متاثر ہے۔ لیکن مجھے اس سے اور اس کے جیسے اور لکھنے والوں سے یہ شکایت ہے ۔۔۔شاید لوگ مجھے بھی انہی میں شمار کرتے ہوں۔۔۔ کہ ان کے ہاں nihilism،تباہی اور مایوسی بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں ہمیں بہت سی چیزوں کی پامالی نظر آتی ہے؛ انسانی رشتوں کی، اخلاقی قدروں کی۔ اب لوگ کہیں گے کہ یہ مصلح بن گئی، بڑی اصلاح پسند ہوگئی ہے۔ ایسی بات نہیں۔ یہ مایوس کن ہیں اورمایوس کرتے ہیں۔ اور یہ مایوسیاں اور depressionمیرے ہاں بھی ہے۔ ان میں سے کوئی راستہ نکلنا چاہیے۔ مجھے پتہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ عظیم ادب ہمیشہ غم اور منفی جذبوں سے پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی ہے۔ لیکن عظیم ادب اور آرٹ تاریکی کے ساتھ کوئی روشنی کاراستہ ضرور دکھاتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی امید ہوتی ہے۔ کچھ نہ کچھ اس میں زیریں سطح پر ضرور ایسا ہوتا ہے جو انسان کو کسی نہ کسی امید سے وابستہ رکھتا ہے۔لیکن ان لوگوں کے ہاں میں نے دیکھا کہ مایوسی، تباہی اور تاریکی بہت گہری ہے، بہت پر کشش ہے۔ تباہی کی بھی اپنی ہی ایک کشش ہوتی ہے۔ یہ مکمل تباہی اور مایوسی ادب کا کام نہیں ہے۔
عنبرین صلاح الدین: یعنی وہ اس قاری کو اس دکھ کے اندر دھکیل دیتے ہیں اور اسے لگتا ہے کہ اس میں کوئی رومانس ہے۔ اور اس رومان کے پیچھے انسان اپنی زندگی خراب بھی کرنے لگتا ہے؟
خالدہ حسین: وہ اسے نکلنے کا رستہ نہیں دیتے۔ رستہ ہونا چاہئے۔ پتہ نہیں زندگی کتنی ہے۔ لیکن میں چاہتی ہوں کہ کاش ادب میں ایسا کوئی راستہ نکل آئے۔ کوئی امید۔ اچھا ایک تو امیدیں وہ ہوتی ہیں جن پر ہمارے ہاں بڑے جوش و خروش سے لکھا جاتا ہے ۔جیسے کہ اسلام لانا وغیرہ۔یہ وہ چیز نہیں ہے۔ یہ فلسفیانہ ہے کہ آپ کی بحیثیت انسان امید باقی رہ جائے۔
عنبرین صلاح الدین: اس کا تعلق آپ کی اخلاقی اور ذاتی جڑت کے ساتھ ہے۔جہاں یقین نہیں ہوتا تو وہاں آپ مایوسی اور دکھ میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔یقین کسی نجات دہندہ کی طرح ہوتا ہے، کوئی چھوٹی سی بات بھی آپ کو بچا سکتی ہے،اس کے لیے کسی بڑی ہستی کی شاید کچھ لوگوں کو ضرورت نہ بھی ہو۔
خالدہ حسین:ہاں، مثلا میری شروع کی کہانی ہے،بلکہ پہلی کہانی ہے، ’ایک بوند لہو‘۔ اس میں میں نے ایک نوجوان کردار بنایا ہے جو مکمل مایوسی میں گھر جاتا ہے۔ ہر چیز اس کو بے معنی نظر آتی ہے۔ اس کا کوئی سہارا نہیں ہوتا ۔ سب رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کچھ محسوس ہی نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک دن اپنے گھر جاتا ہے تو وہاں اس کا ایک چھوٹا سا ، چار پانچ سال کابھانجا ہوتا ہے۔بجلی چلی جاتی ہے،اور اندھیرا ہوجاتا ہے تو وہ ایک دم سے آ کر اس سے لپٹ جاتا ہے اور اس کو لپٹ کر رونے لگتا ہے، کہتا ہے کہ تنہائی کا، لوگوں کے چھوڑ کرجانے کااحساس سب سے زیادہ تباہ کن ہے اور اگر اس سے نجات ملے تو یہ انسان کے لیے امید ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر حالات ایسے ہیں، ہمارا دور ایسا ہے، کلچر ایسا ہے، ہماری تعلیم ایسی ہے، ہمارا طرز زندگی ایسا ہے کہ جو ہمیں تنہاکر دیتا ہے،تو پھر اس کے لیے واپسی کا کوئی راستہ ہونا چاہیے۔
عنبرین صلاح الدین:اپنے پسندیدہ پاکستانی مصنفین کے بارے میں بتائیں؟
خالدہ حسین: آج کل جو لکھنے والے ہیں، ان میں ایک تو اسد محمد خان ہیں۔انتظار حسین تو خیر ہیں ہی اچھا لکھنے والے۔ وہ تو ایک iconہیں ہمارا، انہوں نے بڑے راستے دکھائے ہیں۔ ان کو پڑھ کر انسان یہ سیکھتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز پر لکھا جا سکتا ہے۔ کوئی موضوع چھوٹا نہیں ہے۔ اور اگر آپ کے پاس اصل تخلیقی تجربہ ہے تو آپ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی چیز پہ بھی لکھ سکتے ہیں۔ وہ چیز آپ کے تخلیقی تجربے میں ڈھل جاتی ہے۔ کوئی موضوع ایسا نہیں جس کو ہم رد کر دیں۔
عنبرین صلاح الدین: عورتوں میں سے بھی کچھ نام بتائیں جو آپ کے ذہن میں ہیں ،جنہیں آپ اہم سمجھتی ہیں۔
خالدہ حسین: قرة العین حید ر تو خیر بہت اچھی لکھنے والی تھیں۔ وہ میری پسندیدہ ہیں۔ ان کی فکر، اظہار، زبان، علم، تاریخی حوالے سب عمدہ ہیں۔ ان کا تو خیر کیا ہی جواب ہو گا۔
عنبرین صلاح الدین: او ر آپ کے ہم عصروں میں یا بعد میں آنے والوں میں؟
خالدہ حسین: ہر ایک کے ہاں کوئی نہ کوئی اچھی کہانی نظر آ جاتی ہے۔ کافی لوگوںکے ساتھ میرا مزاج نہیں ملتا لیکن کہانیاں اچھی لکھتی ہیں۔زاہدہ حنااور عطیہ سید کی کہانیاں اچھی ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: ادب میں پورنوگرافک عناصر کو کیسے دیکھتی ہیں؟
خالدہ حسین: بہت تنگ کرتے ہیں، پریشان کرتے ہیں، پورنو گرافی کے حق میں بالکل نہیں ہوں اور نہ ہی یہ ہونا چاہیے۔ یہ چیزیں زندگی کی حقیقتیں ہیں لیکن لوگ جولکھتے ہیں وہ جسمانیات کی کتاب ہوتی ہے۔ شروع سے آخر تک جسمانیات ہی ہوتی ہے۔ان کا تخلیقی ادب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سو یہ خواہ مخواہ کی سنسنی خیزی اور کمرشل ادب ہے، اس کے بغیر ادب بکتا نہیں ہے۔یہ مسئلہ ہے۔
عنبرین صلاح الدین: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ افسانے کی ضرورت ہے ؟
خالدہ حسین: دیکھیے منٹو بھی تو تھا، لیکن اس کی کہانیوںمیں موجود عریانی میں سے بھی کوئی نہ کوئی انسانی نفسیات یا کچھ اور بات مل جاتی تھی۔کوئی نہ کوئی جواز ہوتاتھا۔لیکن اب جہاں تک مجھے محسوس ہوتا ہے وہ اپنے ادب کو پاپولر بنانے کے لیے لکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نہ کیا توان کا ادب خشک ہو گا۔
عنبرین صلاح الدین: موجودہ افسانے کی کیا صورت حال ہے ۔خاص طور پرستر کی دہائی کے بعد، کہ جب آپ، انورسجاد اور بلراج مینرا وغیرہ لکھ رہے تھے ،افسانہ کس حد تک اس سے آگے بڑھا ؟
خالدہ حسین: بات افسانے کی نہیں ہے۔ دو وقت ہماری تاریخ میں بہت اہم آئے، ایک تو ترقی پسند تحریک اور دوسری جدیدیت کی تحریک ۔اور اس میں بھی، وجودیت کا پہلو اہم ہے کہ اس حوالے سے بڑے اچھے افسانے لکھے گئے، بہت اچھا ادب لکھا گیا۔ اب افسانہ واپس جا رہا ہے۔اور اس میں مجھے کوئی نئی بات نہیں نظر آتی۔ افسانے کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے کسی ایک چھوٹے سے تجربے کو پیش کرتا ہے۔پوری زندگی کا احاطہ نہیں کرتا۔ہمارے افسانہ نگار کرداروں کی پوری پوری زندگی پیش کرتے ہیں۔بلکہ پوری زندگی ہی نہیں ان کی آئندہ نسلوں کی بھی اور پچھلی نسلوں کی بھی۔ساری نسلوں کو ملا کے ایک کہانی بنا دیتے ہیں۔کوئی بھی معمولی واقعے کو کہانی کا موضوع نہیں بناتا۔آج کامصنف یاتو پورے معاشرے کا مسئلہ لےتا ہے اور اس میں پوری تاریخ سما جاتی ہے یا ایک کردار کی پوری زندگی اس میں آجاتی ہے۔اس سے مجھے لگتا ہے کہ افسانے کی تاثیر کم ہور ہی ہے۔اس سے تو بہتر ہے ناول لکھیں۔
عنبرین صلاح الدین: ناول کیسا لکھا جا رہا ہے؟
خالدہ حسین : ناول تو ہمارے ہاںبہت ہی کم لکھا گیا۔ وہی پھر آ کے قر ة العین پہ آجائیں۔انتظار حسین کے ناول اچھے ہیں، اور بھی بہت اچھا لکھنے والے ہیں۔لیکن زیادہ تر روایتی ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ آج جو کہانی لکھیں گے وہ وہی ہو گی جو برسوں پہلے لکھ چکے ہیں۔وہی چیزیں، وہی ماحول۔ ماحول نہ بھی ہو تووہی کہانی۔
عنبرین صلاح الدین: خدیجہ مستور ، ہاجرہ مسرور اوربانو قدسیہ وغیرہ کے بارے میں کیا رائے ہے؟
خالدہ حسین: یہ بڑے لکھنے والے ہیں۔ لیکن میری اور ان کی دنیا الگ ہے۔ یہ بڑے ان معنوں میں ہیں کہ ان کے کام کا حجم اتنا ہے کہ انسان کو ان کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوجانا چاہیے۔یہ بڑی بات ہے، میں نے تو بہت کم لکھا ہے لیکن ان کی دنیا الگ ہے۔خدیجہ اور ہاجرہ، دونوں بہنیں تو ایک جیسا لکھتی تھیں۔
عنبرین صلاح الدین: مختلف کون ہے؟مثلازاہدہ حنا وغیرہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
خالدہ حسین:زاہدہ حنا اچھا لکھتی ہےں اور ان کاطرزِ احساس جدید ہے۔اس کا مقام بھی ہے اوراس کا تجربہ بطور صحافی کے بہت اہم ہے ۔جس کی وجہ سے فرق پڑتا ہے۔وہ کالم بھی لکھتی ہےں۔کافی آگاہ ہےں۔
عنبرین صلاح الدین: جمیلہ ہاشمی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
خالدہ حسین: وہ اچھا لکھتی تھیں۔ان کی تحریر بہت اچھی تھی اور تکنیکی طور پر تصوف کو اپنایا ہوا تھا۔’چہر بہ چہرہ روبہ رو ‘میں تصوف کا تکنیکی پہلو بہت ہے۔لیکن قرة العین جہاں آجاتی ہے وہاں سارے بونے بن جاتے ہیں۔
عنبرین صلاح الدین: معاصر ادب کے رجحانات کیا ہیں؟
خالدہ حسین: اس عہد کے مغربی ادب خاص طور پر امریکی ادب کے بارے میں۔۔۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ روحانی پہلو؛ یا ما بعد الطبعیاتی ہوتا ہے یا مذہبی۔ جب وہ کسی معاشرے سے غائب ہو جائے تو اس کی جگہ توہمات لے لیتے ہیں کیونکہ خلا نہیں رہ سکتا۔اب مغربی معاشرے کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔جتنے بھوت پریت امریکہ میں ہیں اور کہیں نہیں ہیں،ہر دوسرا گھر آسیب زدہ ہوتا ہے۔ان کی کہانیاں پڑھ لیں ۔ان کے تخلیق کار وں پر بھی یہ اثرات موجود ہیں۔یہ رجحان غلط ہے جو ہمارے ہاں بھی آرہا ہے کہ بجائے آپ کسی روحانی یا مابعدالطبیعاتی تجربے کے گردگھومیں یاتاریخی واقعات کو اپنا روحانی تجربہ بنائیں، آپ لوگ توہمات کی طرف نکل گئے کہ جس کی کوئی وضاحت ہی نہیں ہو سکتی۔ یہ اب امریکہ کے بعد یہاں بھی بہت ہوتا ہے، میں نے کئی لوگوںمیں یہ رجحان دیکھاہے جو بہت خطرناک ہے۔
روحانی اور مابعدالطبیعاتی عنصرکا زندگی میں ہونا ضروری ہے۔جب یہ نہیں رہیں گے، تو اس خلا کو کچھ تو پر کرے گا۔ ایک وقت تھا جب ان کو بالکل رد کر دیا گیا تھا۔لیکن اب نوجوان پڑھی لڑکیوں میں حتیٰ کہ میرے خاندان میں یہ باتیں عام ہوتی ہیں۔سو یہ سب ادب میں آ رہا ہے۔آصف فرخی نے شمس الرحمان فاروقی کا ناول چھاپا ہے، ’قبض ِزماں‘۔وہ بہت زبردست تحریر ہے۔اس میںتوہمات کی باتیں بھی ہیں اور مابعدالطبیعاتی بھی لیکن تاریخی اور سماجی باتیں بھی ہےں۔ ایسے جینئس تو بہت کم ہیں جو ان سب چیزوں کو یوں اچھی طرح استعمال کر سکیں۔یہی چیزیں جب اناڑیوں کے ہاتھ پڑتی ہےں تو بھوت پریت کی کہانیاں بن جاتی ہیں۔