آج قائدِ اعظم کی شخصیت، خیالات اور خدمات کے بارے میں ایک یادگار تقریب میں شرکت کا موقع ملا. میری خوش نصیبی کہ استادِ مکرم ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب بھی مدعو تھے. چنانچہ صبح نو سے دو بجے تک ان کی صحبت میسر رہی.
ہم دونوں تقریب میں اکٹھے گئے آئے. وہ لمحات نذرِ مرزا غالب ہوئے اور شکر ہے کہ ہوئے. خورشید صاحب نے غالب کے بعض فارسی اشعار پر بے ساختہ ایسی گفتگو کی کہ ان کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا تھا. کیسا کیسا نادر نکتہ تھا جو ہم فارسی والوں کو بھی کم ہی سوجھ سکتا ہے. وہ بات چیت غالب پر ہونے والی کسی رسمی کانفرنس سے زیادہ پر معنی اور اثر انگیز تھی. غالب کے حاشیے میں فردوسی،عرفی شیرازی اور ظہوری ترشیزی پر بھی باتیں ہوئیں. اقبال کا ذکرِ جمیل بھی چھڑا.
غالب سے ایسی محبت اور ان کے فکر و فن کے موضوع پر ایسی والہانہ برجستہ گوئی مَیں نے اپنے والدِ مرحوم میں دیکھی یا پھر خورشید صاحب میں. میرے والد نے بھی راول پنڈی کی کسی تقریب میں خورشید رضوی صاحب کی زبانی غالب کی شخصیت اور شاعری کے محاسن سنے تھے اور عمر بھر انھیں غائبانہ داد دیتے رہے تھے. خورشید صاحب کے سامنے وہ از راہِ ادب خاموش رہا کرتے تھے.
اہلِ علم میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ یاد نہیں پڑتا ان کے ساتھ کوئی غیر علمی و ادبی بات کب ہوئی تھی اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، سال ہا سال جن کے ساتھ کوئی علمی مکالمہ ذہن میں نہیں آتا.
(قند مکرر)