نیویارکر ہر ہفتے آتا ہے اور مجھے اتنا پسند ہے کہ چھ دن اس کا انتظار کرتا ہوں۔ اس میں حالات حاضرہ کے مضامین، فکشن، تنقید، طنز و مزاح، شاعری اور کارٹون چھپتے ہیں۔ اس کی اشاعت کو پورے سو سال ہوگئے ہیں۔ اتنے عرصے تک اعلی معیار برقرار رکھنا کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔
میں یہ شیخی مارنے سے باز نہیں آسکتا کہ ریڈرز ڈائجسٹ، لائف، پلے بوائے اور پیرس ریویو کی طرح نیویارکر کا بھی اوریجنل پرنٹڈ پہلا شمارہ میری لائبریری میں ہے۔ یہ شمارہ 21 فروری 1925 کو شائع ہوا تھا۔
نیویارکر میں شائع ہونے والی کہانیوں، مضامین، نظموں اور کارٹونز کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر میرے پاس ہیں۔
فکشن کا معاملہ یہ ہے کہ صرف امریکا نہیں، عالمی ادب کے بہترین ادیبوں نے نیویارکر کے لیے نئی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان میں نوبوکوف، بورخیس، سلمان رشدی، ایلس منرو، موراکامی، جھمپا لہیری جیسے نام شامل ہیں۔
بعض کہانیوں نے بہت ہنگامہ مچایا۔ مثلا شرلی جیکسن کی کہانی لاٹری اور کرسٹن روپینین کی کیٹ پرسن نیویارکر ہی میں شائع ہوئی تھی۔
سو سال مکمل ہونے کی خوشی میں نیویارکر نے گزشتہ ماہ خصوصی شمارے کے علاوہ دو شاندار کتابیں شائع کیں۔ ان کے نام اے سنچری آف پوئٹری ان نیویارکر اور اے سنچری آف فکشن ان نیویارکر ہیں۔
فکشن والی کتاب میں 78 کہانیاں شامل ہیں۔ انھیں پڑھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انگریزی فکشن نے عشرہ بہ عشرہ کتنی کروٹیں لی ہیں۔ اس انتھولوجی کو ایڈٹ کرنے والی ڈیبورا ٹریزمین نے پیش لفظ میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ شکیل عادل زادہ صاحب کے الفاظ میں، یہ کہانیاں فکشن کا عطر ہیں۔
ایمیزون پر یہ کتاب پرنٹ میں 33 اور کنڈل پر 19 ڈالر میں دستیاب ہے۔