ترکیہ کی اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو گی کہ جانِ عالمیان حضرت مولانا جلال الدین رومی نے اپنی زندگی کے شب و روز اس سرزمین پہ بسر کیے اور ان کی آخری آرام گاہ بھی یہیں پر ہے۔ یہ شہر اور یہ آرامگاہ بھی خود رومی کی طرح جانِ عالمیان ہے۔ ہر مذہب، ہر فرقے، ہر رنگ و نسل کے لوگ بلا امتیاز اپنی محبتوں کے نذرانے لیے یہاں آتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں اظہارِ عقیدت کرتے ہیں۔ کسی پر نہ کوئی قید ہے، نہ کوئی روک۔
اُس بارگاہِ دل نواز میں جب پہلی حاضری ہو گی تو کیا کہوں گی؟ کیا کروں گی؟ استنبول سے قونیہ روانگی کےوقت اور دورانِ پرواز مسلسل یہی سوال دل و دماغ پر چھائے رہے۔ سوچا کہ مثنوی اور دیوانِ شمس کے وہ اشعار، غزلیات جو حافظے میں ہیں دل ہی دل میں دہراتی رہوں گی۔
استنبول سے قونیہ کی پرواز یوں تو بہ مشکل ایک گھنٹے کی ہے لیکن میرے دردِ اشتیاق نے اسے کچھ طویل کر دکھایا۔ قونیہ کی زمین پر پہلا قدم رکھا، اگرچہ سر رکھنا چاہیے تھا، اور صاحبِ شہرکی بارگاہ میں غائبانہ سلام عرض کیا۔
ائیرپورٹ سے بارگاہِ جانِ عالمیان تک کے سفر کی کیفیات لفظوں میں سمونا خاصا دشوار ہے۔ حافظے نے عین وقت پر عجب بے وفائی کی، دم بخود ہو کر رہ گیا اور زبان کو تو گویا حضرت مولانا کا شعری تخلص حرزِ جاں بن گیا تھا۔۔ ۔ "خامش”۔ اس وقت دادرسی کی تو محض آنکھوں نے اور میں اشکوں کا نذرانہ لیے اس درگاہِ عشق مآب میں پہنچی۔شکر ہے اشکوں نے تہی دامنی سے بچا لیا۔